نرسنگ ریگولیٹری نظام کا تعطل: ایک سنجیدہ انتظامی بحران

تحریر :ثانیہ کھیڑا کے قلم سے (صدر، پرائیویٹ نرسنگ کالجز فیڈریشن)

پاکستان کا نظامِ صحت اس وقت ایک کثیرالجہتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، وبائی و غیر وبائی امراض کا پھیلاؤ، اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی کے چیلنجز پالیسی سازوں سے فوری اور مؤثر فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر کسی ایک شعبے کو نظامِ صحت کی بنیاد قرار دیا جائے تو وہ نرسنگ ہے۔ نرسنگ ہی وہ ستون ہے جو مریض کی نگہداشت، علاج کے تسلسل، اور صحت کے اداروں کے عملی نظم و نسق کو مستحکم بناتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی شعبہ اس وقت ریگولیٹری غیر یقینی اور انتظامی تعطل کا شکار ہے۔Pakistan Nursing and Midwifery Council، جو ملک بھر میں نرسنگ تعلیم، رجسٹریشن اور پیشہ ورانہ معیار کی آئینی و قانونی نگران اتھارٹی ہے، مکمل ادارہ جاتی استحکام سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ کونسل کی بروقت تشکیل، مستقل قیادت کی تقرری، اور پالیسی سازی کے تسلسل میں رکاوٹوں نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات براہِ راست تعلیمی اداروں، طلبہ اور صحت کے مجموعی ڈھانچے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک ریگولیٹری ادارہ اگر خود غیر واضح حیثیت کا شکار ہو تو اس کے زیرِ نگرانی نظام میں شفافیت اور اعتماد برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔نجی نرسنگ کالجز ملک بھر میں ہزاروں طلبہ کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ بطور صدر پرائیویٹ نرسنگ کالجز فیڈریشن، میں یہ نشاندہی ضروری سمجھتی ہوں کہ رجسٹریشن، سالانہ تجدید، نشستوں میں اضافہ، انسپکشن رپورٹس، الحاقی امور اور طلبہ کی اسناد کی توثیق جیسے بنیادی معاملات غیر معمولی تاخیر کا شکار ہیں۔ فائلوں کی پیش رفت غیر واضح رہتی ہے، منظوری کے اختیارات کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے، اور متعدد معاملات طویل عرصے تک زیرِ التوا رہتے ہیں۔ اس انتظامی سست روی کا خمیازہ اداروں کے ساتھ ساتھ ان طلبہ کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جن کا کیریئر ان فیصلوں سے وابستہ ہے۔اطلاعات کے مطابق کونسل صدارتی آرڈیننس کے تحت فعال ہے، جس کی آئینی مدت محدود ہوتی ہے۔ عارضی انتظامات بعض اوقات ناگزیر ہوتے ہیں، تاہم انہیں مستقل پالیسی کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ ایک قومی ریگولیٹری ادارے کی قانونی بنیاد جتنی مضبوط اور شفاف ہو گی، اس کے فیصلے اتنے ہی پائیدار اور قابلِ اعتماد ہوں گے۔ طویل المدت عبوری ڈھانچے نہ صرف قانونی سوالات کو جنم دیتے ہیں بلکہ ادارہ جاتی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔اسی طرح قائم مقام سیکرٹری کے اختیارات اور منظوری کے دائرکار سے متعلق ابہام نے بھی فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ جب کمانڈ اسٹرکچر واضح نہ ہو تو ذمہ داری کا تعین مشکل ہو جاتا ہے، فائلیں مختلف سطحوں پر گردش کرتی رہتی ہیں اور احتساب کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایک مؤثر ریگولیٹری نظام کے لیے ضروری ہے کہ اختیارات کی تحریری حد بندی، شفاف طریق کار اور مقررہ ٹائم لائنز متعین ہوں تاکہ کسی بھی درخواست یا معاملے کو غیر معینہ مدت تک التوا میں نہ رکھا جا سکے۔پاکستان کو آئندہ دہائیوں میں تربیت یافتہ نرسز کی بڑی تعداد درکار ہوگی۔ صحت کے عالمی رجحانات واضح کرتے ہیں کہ نرسنگ اسٹاف کی کمی مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار، ہسپتالوں کی کارکردگی اور عوامی صحت کے اشاریوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ اگر ایک طرف ہم نرسنگ کی کمی پر تشویش کا اظہار کریں اور دوسری طرف نرسنگ اداروں کو ریگولیٹری تعطل کا سامنا ہو تو یہ پالیسی تضاد قابلِ توجہ ہے۔ ہر تاخیر شدہ منظوری، ہر رکی ہوئی فائل، دراصل درجنوں طلبہ اور مستقبل کے مریضوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔نجی نرسنگ ادارے انفراسٹرکچر، فیکلٹی اور نصاب میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جب ریگولیٹری منظوریوں میں غیر یقینی ہو تو ان کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ اس کا اثر داخلوں، تعلیمی تسلسل اور مجموعی معیار پر پڑتا ہے۔ ریگولیٹری نظام کا مقصد اداروں کو روکنا نہیں بلکہ انہیں معیار کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا اور احتساب کے ساتھ ترقی کی راہ ہموار کرنا ہونا چاہیے۔اس پس منظر میں Ministry of National Health Services, Regulations and Coordination کی ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے کہ وہ کونسل کی قانونی و انتظامی حیثیت کو واضح کرے اور ایک مستحکم، بااختیار اور شفاف گورننس اسٹرکچر قائم کرے۔ مستقل بورڈ کی تشکیل، میرٹ پر قیادت کی تقرری، ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ سسٹم، اور فیصلوں کے لیے واضح ٹائم فریم جیسے اقدامات فوری طور پر متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ احتساب کے مؤثر میکانزم کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے تاکہ ریگولیٹری عمل شفاف اور جوابدہ ہو۔وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے لیے یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر اس موقع پر پائیدار اصلاحات کی بنیاد رکھ دی جائے تو نہ صرف نرسنگ گورننس مستحکم ہوگی بلکہ مجموعی نظامِ صحت کو بھی ایک مضبوط بنیاد میسر آئے گی۔ عارضی توسیعات کے بجائے جامع قانون سازی اور مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات ہی طویل المدت استحکام کی ضمانت فراہم کر سکتی ہیں۔نرسنگ نظامِ صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر یہ ستون کمزور ہو تو پورا ڈھانچہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وضاحت، شفافیت، احتساب اور بروقت اقدام کو ترجیح دی جائے۔ ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد نرسنگ ریگولیٹری فریم ورک نہ صرف تعلیمی اداروں اور طلبہ کا اعتماد بحال کرے گا بلکہ مریضوں کو محفوظ اور معیاری نگہداشت کی ضمانت بھی دے گا۔یہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ قومی صحت کے مستقبل کا سوال ہے اور اس کا جواب مضبوط پالیسی، واضح گورننس اور سنجیدہ احتساب میں پوشیدہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

بشکریہ روزنامہ آج