مذاکرات کے پردے میں چھپی جنگ

جنگ کی پہلی گولی اکثر بارود سے نہیں‘ بیانیے سے چلتی ہے۔ پہلے خوف تراشا جاتا ہے‘ پھر خطرہ کا ابوالہول تخلیق کیا جاتا ہے اور آخر میں حملہ ناگزیر قرار دیدیا جاتا ہے۔ ایران کیخلاف حالیہ امریکی کاروائی بھی اسی ترتیب کی کہانی لگتی ہے۔ یہ کوئی فوری اقدام نہیں تھا‘ یہ فیصلہ وقت کے اندھیرے میں پنپتا رہا۔ نقشے بچھے‘ امکانات کے ترازومیں مختلف پہلوؤں کو تولا گیا‘ اتحادیوں سے سرگوشیاں ہوئیں۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ نے اپنے اصل کارڈ سینے سے لگائے رکھے۔ عوام کے سامنے ایک خوف کا ایک ایسا ہیولا پیش کیا گیا کہ ایران پہل کرنے والا ہے‘ خطرہ سر پر ہے‘ وقت کم ہے مگر جب پینٹاگون نے کانگریس کے سامنے اعتراف کیا کہ ایران کے پہلے حملے کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں تھا تو یوں لگا جیسے دھند چھٹی اور اصل منشا ایک بے قابو عفریت کی طرح سامنے آئی۔ پھر سوال اٹھا کہ اگر خطرہ قریب الوقوع نہ تھا تو ہنگامی بندوبست کا سہارا کیوں لیا گیا؟ اگر ثبوت غیر قطعی تھے تو بیانیہ اتنا قطعی کیوں تھا؟ یہ سوال صرف حکمت عملی نہیں‘ صداقت پر بھی اٹھا‘ مذاکرات کا منظر بھی کم معنی خیز نہیں۔ سفارتی میز پر مسکراہٹیں تھیں‘ کیمرے تھے‘ الفاظ تھے۔ مگر اسی دوران ایک اور کہانی بھی لکھی جا رہی تھی۔ اندازہ یہ تھا کہ مذاکرات ایران کو مصروف رکھیں گے‘ قیادت کو منظر عام پر لائیں گے‘ اور پھر 
ایک فیصلہ کن ضرب سے سیاسی و عسکری ڈھانچے کو ہلا دیا جائیگا۔ واشنگٹن کو یقین تھا کہ سر قلم ہو جائے تو جسم زیادہ دیر کھڑا نہیں رہتا لیکن ریاستیں محض افراد کی رہین منت نہیں ہوتیں‘ انکے پیچھے تاریخ‘ مزاحمت اور اجتماعی نفسیات ہوتی ہے۔ ایران نے جوابی کاروائی کر کے یہ بتا دیا کہ قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘ مگر ارادے کو نہیں۔ امریکہ کی وہ خوش فہمی کہ ایران منتشر ہو جائیگا‘ میدان کی گرد میں تحلیل ہوتی دکھائی دی۔ ایٹمی پروگرام کو جواز بنایا گیا مگر شاید اصل اضطراب کہیں اور تھا۔ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی‘ خاص طور پر چین کے تعاون سے حاصل ہونیوالی پیش رفت‘ طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ایران کی غیر متوقع مزاحمت ہے۔ قیادت کو نقصان پہنچا‘ انفراسٹرکچر متاثر ہوا‘ مگر جواب آیااور وہ بھی بڑا تباہ کن۔ امریکی دفاعی نظام کے زعم میں مبتلا خلیجی ممالک کی فضاؤں میں خوف کے سائے لرزاں 
ہیں وہاں موجود امریکی اڈے براہ راست نشانے پر ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ امریکہ کے اندر بھی گرم ہے۔ تابوت جب وطن واپس آتے ہیں تو سوال بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ہلاکتوں کا گراف جتنا اوپر جائیگا‘ دباؤ بھی اتنا بڑھے گا۔ امریکی عوام طویل جنگوں سے پہلے ہی اکتا چکے ہیں‘ انکے کاندھوں پر مزید تابوتوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔ خلیجی ممالک بھی اپنی سرزمین پر تباہی کی لمبی رات برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اگر عرب دنیا کا دباؤ بڑھا تو واشنگٹن کو طاقت کے بجائے سفارت کا راستہ اپنانا پڑ سکتا ہے۔ اور پھر وہ سوال جو ہر بڑی مہم کے ساتھ جڑا ہوتا ہے: کیا عسکری قوت سیاسی تبدیلی بھی لا سکے گی؟ ایران کے اندر فوری حکومتی تبدیلی کا خواب ابھی تک تشنہ تعبیر ہے۔ جنگ اگر طوالت اختیار کرتی ہے تو مالی اخراجات کے علاوہ سیاسی اور اخلاقی محاذ پر بھی پسپائی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ اگر مقاصد حاصل نہ ہوئے تو یہ مہم تاریخ میں ایک ایسے تجربے کے طور پر درج ہو سکتی ہے جس میں قوت تو بے پناہ تھی‘ مگر نتیجہ کمزور۔ خطہ اس وقت بارود کے ڈھیر پر نہیں‘ مفروضوں کے ڈھیر پر بھی کھڑا ہے۔ ہر فریق خود کو درست سمجھتا ہے‘ ہر بیانیہ خود کو مکمل سچ قرار دیتا ہے۔ مگر تاریخ کا فیصلہ بیانات نہیں‘ نتائج سے ہوتا ہے‘ یہ جنگ صرف زمین پر نہیں لڑی جا رہی‘ یہ اعتماد‘ صداقت اور طاقت کی حدوں کے بارے میں بھی ہے۔ اور جب دھواں چھٹے گا تو صرف تباہ شدہ عمارتیں نہیں‘ کئی دعوے بھی ملبے میں دبے ملیں گے۔ 

 

بشکریہ روزنامہ آج