سڑک پر چلتے چلتے کوئی چیز میرے پاؤں کیساتھ ٹکرائی، پیشتر اس کے کہ میرا پاؤں اس پر آتا، مجھے ایک مہین سی آواز سنائی دی بچاؤ بچاؤ ۔ یہ آواز میرے پاؤں کے قریب سے آرہی تھی۔میں نے جھک کر دیکھاایک تیرہ انچ کا بونازمین پر پڑا درد سے کراہ رہا تھا۔ میں نے اسے اٹھایا اور اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر کھڑا کر دیا۔ میرے پاؤں سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔ میں اسے گھر لے آیا اور اسکی مرہم پٹی کی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ بھلا چنگا ہو گیا۔ اسکے چہرے پر ممنونیت کے آثار تھے۔ میرے ٹخنوں کیساتھ لگا ہونے کی وجہ سے وہ اظہار تشکر کیلئے میرے پاؤں کو بوسہ دینا چاہتا تھا مگر میں نے اسے سختی سے منع کر دیا اور کہایہ چیز شرف انسانیت کے منافی ہے۔ یہ سن کر اس نے اپنے ننھے منے ہاتھ اپنے سینے پر باندھے اور بولا’ میرے آقا آپ صحیح فرماتے ہیں لیکن خود میرا قد و قامت بھی تو شرف انسانیت کے منافی ہے‘ اس پر میں نے اسے پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا ’پہلی بات تو یہ کہ میں تمہارا آقا نہیں ، دوست ہوں لہٰذا آئندہ مجھے آقا نہ کہنا اور نہ سمجھنا۔ دوسری بات یہ کہ قد کا چھوٹا یا بڑا ہونا کسی شخص کے بڑے یا چھوٹے ہونے کا پیمانہ نہیں۔ یہ اسکا کردار ہے جو اسے چھوٹا یا بڑا بناتا ہے لہٰذا آئندہ اپنے قد کو صرف اپنے کردار کے حوالے سے ماپنا ۔‘میں نے محسوس کیا کہ اس نے میری بات سن تو لی ہے مگر اسے یقین نہیں آیا کہ کوئی شخص چھوٹا ہوتے ہوئے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ اسکی اس سوچ کا عملی مشاہدہ میں نے آنیوالے دنوں میں کیا۔ وہ شدید احساس کمتری میں مبتلا تھا بلکہ لگتا تھا اس میں سے نکلنا شاید اس کیلئے ممکن نہیں ۔ وہ مجھے دیکھتے ہی جھک جاتا جس سے وہ تیرہ انچ کی بجائے چھ انچ کا رہ جاتا۔ میں نے اسے بتایا کہ جھکنے سے گریز کرے لیکن یہ غالباً اسکے بس میں نہیں تھا کیونکہ جونہی اسکی نظر مجھ پر پڑتی وہ کمان کی طرح دُہرا ہو جاتا، اسکے علاوہ مجھے خوش کرنے کیلئے میری ہاں میں ہاں ملانے میں لگارہتا۔ بعض اوقات میں نے اپنی کسی رائے کے اظہار کیلئےابھی پہلا جملہ ہی بولا ہوتا کہ وہ بول اٹھتا سر آپ صحیح کہتے ہیں۔ میں اسے ٹوکتا اگر تم خوشامد سے بازرہ ہی نہیں سکتے تو کم از کم مجھے اپنا جملہ تو مکمل کر لینے دیا کرو ۔ مجھے اسکی ضرورت اسلئے بھی محسوس ہوئی تھی کہ ایک روز میں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ میں گدھا ہوں تو اس نے کورنش بجالاتے ہوئے کہا ’سر آپ صحیح کہتے ہیں‘ حالانکہ میں کہنا کچھ اور چاہتا تھا۔ بہر حال میں نے محسوس کیا کہ اس تیرہ انچ کے بونے کے دل سے احساس کمتری کو کھرچ کھرچ کر نکالنا پڑے گا کیونکہ احساسِ برتری یا احساسِ کمتری دونوں انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ انسان تو انسان ہی ہوتا ہے چاہے تیرہ انچ کا ہو یا چھ فٹ کا۔ چنانچہ میں نے اپنے ایک ماہر نفسیات دوست سے مشورہ کیا کہ اس بونے کو احساس کمتری سے کیسے نجات دلائی جائے ؟ وہ اس سلسلے میں خود ہی کنفیوژڈ نظر آیا تاہم اس نے مجھے دو تین مشورےدیئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ تم اس کیساتھ اتنےبے تکلف ہو جاؤ کہ وہ اپنا قد و قامت بھول کر خود کو تمہارا دوست سمجھنا شروع کر دے۔ مجھے یہ مشورہ پسند آیا۔ چنانچہ میں نے اس سے اگلے دن ہی اس مشورے پر عمل شروع کر دیا۔ وہ جب آدھا چمچ چائے اور ایک سلائس کے چھٹے حصے کے ناشتے سے فارغ ہوا تو میں نے اسے مخاطب کیا اور کہا ”سناؤ بھئی شہزادے رات کیسی گزری ؟“ وہ میرے اس دوستانہ انداز سے پریشان ہو گیا اور ہکلاتے ہوئے بولا میں سر سر ! اس سےآگے اس سے کچھ نہ کہا گیا۔ میں نے اسکے کاندھے پر پیارسے تھپکی دی اور کہا یار ہوتم مجھے سرسرنہ کہا کرو، ہم اللّٰہ کی مخلوق ہیں اور یوں ہم مرتبہ ہیں ۔ مگر اسے میری بات پر یقین نہ آیا، چنانچہ اگلے دن میں نے اسے پہلے کی طرح مؤدب بلکہ سہما سہما سا پایا، تاہم میں نے حوصلہ ہارنے کی بجائے اپنی بے تکلفی میں اضافہ کر دیا۔ ایک دن میں نے اپنی ایک آنکھ وینی کر کے کہا شہزادے! کیا چکر ہے! آجکل بہت بنے ٹھنے رہتے ہو؟ میں نے محسوس کیا میرے حوالے سے اسکی جھجک میں کمی آگئی ہے۔ اس نے شرما کر نظریں نیچی کر لیں۔ میں نے اپنی انگلی سے اسکی ٹھوڑی کو اوپر اٹھایا اور مسکرا کر پوچھا ’کہیں دل تو نہیں دے بیٹھے؟‘ اس پر وہ ہولے سے بولا’جی سر‘ میں نے کہا’میرا نام سر نہیں عطا ہے۔ آئندہ تم مجھے عطا ہی کہا کرو گے۔‘ میں نے محسوس کیا کہ میرے ان لفظوں سے اس میں اعتماد سا پیدا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا کون ہے وہ ؟ اس نے جواب دینے کی بجائے جیب میں سے ایک تصویر نکالی ، یہ مادھوری ڈکشٹ کی تھی۔ اس پر میں نے اسکا کا ندھا تھپتھپایا اور کہا واہ استاد لمبا ہی ہاتھ مارا ہے۔ یہ سن کر وہ پہلی دفعہ میرے سامنے کھلکھلا کر ہنسا اور بولا ’بس اب آپ دعا کریں، اللّٰہ کا میابی عطا فرمائے ۔‘ مجھے اسکے اعتماد سے خوشی ہوئی تھی مگر اسکی اس بات پر میں نے محسوس کیا کہ یہ شخص خاصا بیوقوف ہے، مگر فی الحال مجھے اسکی عقل نہیں اس کا اعتماد بحال کرنا تھا۔ چنانچہ میں نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے اسکے عشق کی کامیابی کیلئے باقاعدہ دعا کی۔ میں نے غور سے سنا، وہ پورے خضوع و خشوع سے آمین آمین کہہ رہا تھا۔اب اس کا اعتماد واقعی بحال ہونا شروع ہو گیا تھا، بلکہ ایک عجیب و غریب چیز میں نے محسوس کی اور وہ یہ کہ اسکے قد میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی یعنی اس میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا۔ تیرہ انچ سے وہ چودہ انچ ، پھر پندرہ انچ اور کچھ ماہ کے بعد میں نے اسے دیکھا وہ میرے قد کے برابر ہو چکا تھا۔ یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس پر مستزاد یہ مسرت کہ اب وہ مجھ سے اتنا بے تکلف ہو جاتا تھا جس سے آگے جانا ممکن نہیں تھا، تا ہم ایک تبدیلی اس میں یہ آئی کہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ محلے کے دوسرے لوگوں سے بھی اسکی بے تکلفی عجیب رخ اختیار کر چکی تھی۔وہ کسی کالے شخص کو دیکھتا تو اسے’بٹ صاحب‘ کہہ کر مخاطب ہوتا کسی لمبے شخص کودیکھتا تو کہتا ’ تم بطور سیڑھی کرائے پر چلا کرو، کافی پیسے کما لو گے۔‘ اپنے سے چھوٹے قد والے لوگوں کا بھی مذاق اڑاتا، تاہم آہستہ آہستہ اسکی بے تکلفی کا سب سے زیادہ نشانہ خود میں بننا شروع ہو گیا۔ اب وہ مجھے تم کہہ کر مخاطب ہوتا بلکہ اکثر اوقات ’تو‘ ہی سے کام چلانے کی کوشش کرتا۔ میں نے اسےسرکہنے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ مجھے عطاء ہی کہا کرو لیکن اب وہ مجھےاوےکہنے لگا تھا۔میں نے اسکی یہ حالت دیکھی تو ایک دفعہ پھر اپنے ماہر نفسیات دوست کے پاس گیا اور اسے اس سابقہ بونے کی بابت ساری تفصیل بیان کی۔ اس نے میری بات سنی تو ہنسا اور بولا’میرے پاس کیا لینے آئے ہو، اب بھگتو‘ میں نے کہا’تم عجیب آدمی ہو تم ہی نے تو کہا تھا اس میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے اس سے بے تکلفی کا رویہ اختیار کرو!‘ دوست نے کہا مگر تمھیں اس میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں اور بدلی ہوئی گفتگو سے شروع ہی میں اس کے ظرف کا اندازہ ہو جانا چاہئے تھا۔ حضرت عیسیٰ جن مردوں کو زندہ کرتے تھےوہ زندہ ہوتے ہی انکے بَیری ہو جایا کرتے تھے۔ یہ سارا واقعہ جو میں نے ابھی بیان کیا یہ دس سال پہلے کا ہے۔ کل بازار سے گزرتے ہوئے ایک بار پھر میرا پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا۔ میں نے جھک کر دیکھا تو یہ وہی تیرہ انچ کا بونا تھا جو پورے قد کا ہونے کے بعد سے سب کو بونا سمجھنے لگا تھا۔ اس نے میرے پاؤں پکڑ لیے مگر میں نے اسے اٹھایا اور گھر لے آیا ان دنوں میں دوبارہ اس کا اعتماد بحال کرنے میں لگا ہوا ہوں۔
11