میرے ایک کولیگ ہیں عنایت صاحب۔ سادہ لوح انسان ہیں، گھر سے دفتراور دفتر سے گھر۔حالات حاضرہ سے اتنے بے خبر کہ مجھے لگتاہے انہیں یہ بھی نہیں پتا ہوگا کہ ضیاء الحق صاحب وفات پاچکے ہیں۔دنیا کے متعلق ان کا سارا علم وہی ہے جو کوئی اُن کے کان میں پھونک دیتاہے۔کل کہنے لگے ’امیر لوگ سکون کی نیند نہیں سوتے‘۔ میں نے سرکھجایا’آپ نے کسی امیر بندے کے بیڈ روم میں جھانک کر دیکھا ہے؟‘۔سٹپٹا کر بولے’نہیں، لیکن مجھے پتا ہے ایسا ہی ہوتاہے‘۔ میں نے پوری دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امیرلوگوں کی کچھ اور باتیں پوچھیں تو پرجوش ہوکر بولے’اُن کے پاس سارا مال حرام کا ہوتاہے، وہ ملازموں پر ظلم کرتے ہیں، غریب کو دیکھتے ہی اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیتے ہیں،پیسہ ہونے کے باوجود اچھے کھانے نہیں کھاسکتے اور انہیں خوفناک بیماریاں بھی لاحق ہوتی ہیں۔‘ یہ سوچ صرف عنایت صاحب کی نہیں ہم میں سے اکثر لوگوں کی ہے۔ غربت کو گلیمرائزڈ کرنے میں ہمارا جواب نہیں۔ہمیں کوئی غرض نہیں کہ کسی بندے نے کس قدر محنت سے پیسہ کمایا ہے۔بس اگر وہ امیر ہے تو بہت برا ہے اور اوپر بیان کی گئی ساری برائیاں اس میں ہونی چاہئیں۔
ہمارا بس نہیں چلتا کہ پیسے والوں کو کچا چبا جائیں لہٰذا ذہن میں جتنی بھی برائیاں آتی ہیں سب پیسے والوں کے کھاتے میں ڈال کر پرسکون ہوجاتے ہیں کہ شکر ہے ہم ایسے نہیں ہیں حالانکہ ہم خود بھی ویسے ہی امیر ہونے کیلئے مشقت کررہے ہیں لیکن کوئی جیک نہیں لگ رہا۔غربت سے بڑی برائی کیا ہوگی کہ نہ دن کو سکون نہ رات کو چین۔لوگ یہ تو فوراً جان لیتے ہیں کہ کسی کے پاس پیسہ کیسے آیا لیکن یہ کبھی نہیں جان پاتے کہ خود کے پاس گزارے لائق بھی پیسہ کیوں نہیں۔
٭ ٭ ٭
ایک بڑی سیاسی شخصیت کے متعلق بات ہورہی تھی۔ ایک صاحب فرمانے لگے کہ انہوں نے تیس چالیس سال پہلے اپنے بہت سے مزدور لوہا پگھلانے والی بھٹی میں پھینک کر زندہ جلا دیے تھے۔میں چونک اٹھا۔یہ بات میں بچپن میں ایک سیاسی پارٹی سے وابستہ لوگوں سے سنا کرتا تھا۔آج دوبارہ یہ بات سنی تو اُن صاحب سے پوچھا کہ بھائی جی جن مزدوروں کو آپ کے بقول بھٹی میں پھینکا گیا تھا انکے کوئی ماں باپ، بھائی، بہن، رشتے دار تو ہوں گے۔انہوں نے کوئی واویلا نہیں کیا۔ جواب ملا’اُن سب کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر خاموش کرا دیا جاتا تھا‘۔ میں نے پوچھا ’تو کیا جب یہ سیاسی شخصیت زیر عتاب تھی تب بھی مرنیوالے مزدوروں کا کوئی والی وارث سامنے نہیں آیا‘۔ کچھ دیرخاموشی رہی پھر وہ بولے’نہیں کیونکہ وہ ڈرتے تھے‘۔ میں نے پھر پوچھا’ان سب مزدوروں نے آپ اور آپ جیسے سینکڑوں لوگوں کو تو یہ بات بتا دی لیکن کسی اور کوکیوں نہیں بتائی اوربالفرض اگر ایسا ہوا تھا تو اُس سیاسی شخصیت پر تو سب سے بڑا کیس قتل کا بنتا تھا باقی ادھر اُدھر کے کیسوں کی کیا ضرورت تھی حکومت کو بھی تو پتا ہوگا کہ اِن صاحب نے اپنی بھٹی میں مزدوروں کو جلایا ہے، انہوں نے بھی اس بارے میں کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ بعد کی بدترین مخالف حکومت نے بھی ان پر یہ الزام نہیں لگایا۔‘یہ بات سن کر اُن صاحب کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے، کچھ دیر توقف کیا پھر غرا کر بولے’آپ مجھے ان کےحامی لگتے ہیں ورنہ بے گناہ مزدوروں کے قتل پر یوں تفتیشی بن کر سوال نہ کر رہے ہوتے‘۔
٭ ٭ ٭
وہ لوگ جنہیں زندگی میں کبھی کوئی اہمیت نہیں ملتی اُنہیں جب اپنی اہمیت جتانے کا کوئی موقع ملتا ہے توعمر کے کسی بھی حصے میں عجیب و غریب حرکات کرنے لگتے ہیں۔ایسے لوگ اکثر آپ کو ٹی وی پر نظر آتے ہوں گے۔ یہ کسی بازار میں ریڑھی پر شربت پی رہے ہوتے ہیں اور اچانک ایک رپورٹر آکر ان کے سامنے مائیک کر دیتا ہے کہ ’آپ کے خیال میں ملک کیسے ترقی کر سکتاہے‘۔
یہ سنتے ہی اِن کے چہرے پر ایک متانت نمودار ہوتی ہے اور ملکی ترقی کا بہترین حل سامنے آجاتاہے۔ایک شاندار کلاسک انگریزی فلم ہے’Twelve angry men‘ یوٹیوب پر مل جائے گی، اسی کی نقل پڑوسی ملک نے بھی بنائی ہے’ایک رکا ہوا فیصلہ‘ یہ بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔اس فلم کی سب سے بڑی خوبی تو یہ ہے کہ اس میں کوئی گانا نہیں، کوئی لڑکی نہیں، کوئی عورت نہیں لیکن فلم آپ کو ہلنے نہیں دے گی۔اس میں قتل کا کیس موضوع ہے اور ایک بوڑھا شخص بتاتا ہے کہ جب یہ قتل ہورہا تھا تو وہ نیچے والے فلور پر موجود تھا اور اسے آوازیں بھی آرہی تھیں۔ بعد میں پتا چلتاہے کہ بابا جی سفید جھوٹ بول رہے تھے کیونکہ وہ تو بہت اونچا سنتے تھے لیکن قتل کی واردات پر جب ان سے میڈیا والوں نے سوالات کیے تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ جھوٹ بول کرمرکز نگاہ بن سکتے ہیں۔اسی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جگہ جگہ یہ دعویٰ کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ میں تو تنقید کرنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ لیکن آپ ذرا اِن پر تنقید کرکے تو دیکھیں۔ ایسے لوگ شومئی قسمت سے اگر کسی ایک فن میں طاق ہوں تو بس اتنا ہی کافی ہے۔پھروہ اس ایک فن کے کندھے پر بندوق رکھ کر تمام فنون میں طاق ہونے کی داد پانا چاہتے ہیں۔آپ کسی سینئر ایکٹر سے ہی مل کر دیکھ لیں، وہ انتہائی پروقار انداز میں آپ کو یہ بھی سمجھائے گا کہ مریخ پر انسانی بستی کیسے بسائی جاسکتی ہے،اسٹیٹ بینک کے ریزرو کیسے بہتر بنائے جاسکتے ہیں اور شاعری کا مستقبل کیا ہے۔جب آپ نے اس کی ایک اہمیت تسلیم کرلی تو آپ کی کیاجرات کہ آپ اس کی دوسری خوبیوں سے انکار کریں۔
