پاور سیکٹر کے مسائل اور حل

ایران اور امریکہ کی جنگ کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی میں تعطل اور آبی ذخائر میں پانی کی کمی کے باعث پیدا ہونے والے بجلی کے حالیہ بحران نے ایک بار پھر پاور سیکٹر کے دیرینہ مسائل کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔ اس حوالے سے جہاں انڈسٹری، کاروباری اداروں اور گھریلو صارفین کو مہنگی بجلی کا مسئلہ درپیش تھا وہیں اب اس کی فراہمی میں عدم تسلسل اور غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ سے صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان میں اس وقت انڈسٹری اور کاروباری طبقے کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب پیداواری لاگت بڑھنے کا ہے۔ ایک طرف مقامی سطح پر لوگوں کی قوت خرید کم ہونے کے باعث پیداواری عمل سست ہے اور دوسری طرف عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات خطے کے دیگر ممالک سے مقابلے میں مسابقت کی دوڑ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ان مسائل کو دیکھتے ہوئے پاور سیکٹر میں فوری اور ٹھوس اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ انڈسٹری کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے اور صارفین کو خطے کے دیگر ممالک کے مساوی نرخوں پر بجلی کی سہولت میسر آ سکے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انڈسٹری اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی بجائے بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے پاور مینجمنٹ پر سرمایہ اور وقت لگانے پر مجبور ہے۔ اس حوالے سے افسوسناک امر یہ ہے کہ کاغذوں کی حد تک ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت ضرورت سے کہیں زیادہ ہے لیکن عملی طور پر نہ تو مجموعی استعداد کے مطابق بجلی پیدا ہو رہی ہے اور نہ ہی درکار ضرورت کے مطابق صارفین کو بجلی مہیا کی جا رہی ہے حالانکہ اگر فاضل پیداواری صلاحیت کو استعمال میں لانے کیلئے بجلی کی قیمت کم کر دی جائے تو نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ممکن ہے بلکہ پیدواری لاگت میں کمی سے مقامی طور پر تیار ہونے والی مصنوعات کی مانگ بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں بجلی کے بلوں میں کمی سے شہریوں کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہو گا اور حکومت کی نجی بجلی گھروں کو "کیپسٹی پیمنٹ" کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگی سے بھی جان چھوٹ جائیگی۔اس حوالے سے ایک اور بڑا مسئلہ بجلی کی ترسیل کا فرسودہ اور ناقص نظام ہے جسکی وجہ سے نیشنل گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی کا "ٹرانسمیشن لاس" بہت زیادہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنے نظام کی خرابی کا یہ بوجھ اور حکومت کی طرف سے دی جانے والی کراس سبسڈیز و بجلی چوری کی صورت میں ہونے والا نقصان بھی عام صارفین پر ڈال دیتی ہیں جس سے بجلی کی قیمت صارفین کیلئے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ پاور سیکٹر کے یہ مسائل گزشتہ تین دہائیوں سے یونہی چلے آ رہے ہیں اور ان کو حل کرنےکیلئے کسی سطح پر کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت پاور سیکٹر کے نام نہاد ماہرین اور بیوروکریسی پر انحصار کی پالیسی تبدیل کرکے نجی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کو پالیسی سازی کے عمل اور اس کے نفاذ کا حصہ بنائے۔ اس سلسلے میںنہ صرف طویل المدت پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے بلکہ تسلسل کے ساتھ اس پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کرکے عوام کو پیشرفت سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ شفافیت اور استعداد کار میں اضافے سے کارکردگی میں اضافہ ممکن ہوسکے۔ اس سلسلے میں ہر سطح پر ذمہ دار عناصرکو جوابدہ بنانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ کئی سال گزرنے کے باوجود پاور سیکٹر کے بنیادی مسائل اور بجلی کی ترسیل کا نظام ٹھیک نہ ہونا بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بجلی کی ترسیل کا نظام نہ صرف فرسودہ ہو چکا ہے بلکہ اس پر دباو میں بھی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں اب اسے اپ گریڈ کرنے کی لاگت بھی تین سے چار گنا زیادہ ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود کوئی اس تاخیر کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ۔ اسی طرح نادہندہ صارفین سے واجبات کی وصولی، لائن لاسز میں کمی اور گورننس کے مسائل بھی جوں کے توں ہیں۔ اس حوالے سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں بالخصوص حیسکو، سیپکو، پیسکو اور کیسکو کی کارکردگی سب سے بری ہے لیکن ان کو جوابدہ بنانے کی بجائے ان کا نقصان دیگر بہتر کارکردگی دکھانے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین سے اضافی بلنگ کر کے پورا کر لیا جاتا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر پاور سیکٹر میں بنیادی اصلاحات کے ذریعے اس کی استعداد کار بہتر بنا کر بجلی کی نصب شدہ پیداوار کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنا لیا جائے تو نہ صرف بجلی سستی ہو سکتی ہے بلکہ حکومت کو لائف لائن صارفین اور انڈسٹری کو دی جانے والی سبسڈی اور ریلیف پیکجز کے باعث ہونے والے مالی خسارے سے بھی نجات مل سکتی ہے۔ اس طرح نہ تو حکومت کو بار بار انڈسٹری کے مطالبے پر ریلیف پیکیج دینا پڑیں گے اور نہ ہی انڈسٹری کو انرجی پالیسی میں بار بار تبدیلی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔موجودہ حالات میں بجلی کی فراہمی کا قابل اعتماد نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں جہاں صنعتی ترقی کا عمل رکا ہوا ہے وہیں پہلے سے موجود صنعتوں اور کاروباری اداروں کا بھی زیادہ تر سرمایہ پیداوار میں اضافے کی بجائے بجلی اور گیس کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری پر خرچ ہو رہا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے زیادہ تر کاروبار، مینوفیکچرر کی بجائے پاور پروڈیوسر بننے پر مجبور ہیں اور بجلی کی فراہمی اور بیک اپ کا مسئلہ حل کرنے کیلئےگرڈ، جنریٹر، سولر اور دیگر بیک اپ سسٹم چلا رہے ہیں اور ان کا نیشنل گرڈ پر انحصار کم ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں اب بھی اقدامات نہ کئے گئے تو یہ مسائل مزید گھمبیر ہونے کا اندیشہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ آج