توانائی بچانے کے نام پر کیے گئے حکومتی فیصلے بعض اوقات ایسے طبقات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں جو نہ صرف معیشت کے لیے مفید ہوتے ہیں بلکہ سماجی صحت اور نوجوان نسل کے مستقبل کے ضامن بھی ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت جم مالکان اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے کہ تمام کاروبار شام آٹھ بجے بند کر دیے جائیں تاکہ بجلی کی بچت ہو، لیکن اس فیصلے نے فٹنس انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نے شاید اس شعبے کی نوعیت کو سمجھے بغیر ایک عمومی حکم جاری کیا اور اب اس کے نتائج ایسے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں جو معاشرے میں صحت، نظم و ضبط اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔ چند روز قبل میرے مرحوم استاد چوہدری محمد یونس مسٹر پاکستان کے فرزند مونس چوہدری کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی احکامات کے مطابق شام آٹھ بجے تمام کاروبار بند کرنے کی پابندی نے جم کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اگلے دن میں ان کے چھوٹے بھائی سہیل چوہدری کے جم جا پہنچا جو باگڑیاں چوک گرین ٹاؤن میں واقع ہے۔ سہیل چوہدری نہ صرف میرا دوست ہے بلکہ ایک ایسی مثال بھی ہے جو فٹنس کی اہمیت کو عملاً ثابت کرتی ہے۔ وہ دو برس قبل فالج کا شکار ہوا، ڈاکٹروں نے ورزش کا مشورہ دیا، اس نے اپنے ہی جم میں مسلسل ورزش کی اور آج مکمل صحت مند زندگی گزار رہا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جم محض کاروبار نہیں بلکہ صحت کی بحالی اور جسمانی و ذہنی بہتری کے مراکز ہیں۔ جم کی نوعیت دوسرے کاروباروں سے مختلف ہے۔ بازاروں، دکانوں اور دفاتر میں خریدار دن بھر آتے رہتے ہیں، مگر جم میں آنے والوں کی اکثریت وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دفاتر، تعلیمی اداروں، کاروباری مصروفیات یا دیگر ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر شام کے وقت ورزش کے لیے آتے ہیں۔ ایک سرکاری ملازم، ایک استاد، ایک طالب علم یا ایک مزدور دن بھر کی مصروفیات کے بعد شام سات یا آٹھ بجے ہی جم پہنچ پاتا ہے۔ جب یہی وقت جم کی اصل آمدنی کا ہوتا ہے تو شام آٹھ بجے بندش کا مطلب عملاً کاروبار بند کرنا ہے۔ یہ فیصلہ جم مالکان کو کرایہ، سٹاف کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات پورے کرنے سے بھی محروم کر رہا ہے۔یہ مسئلہ صرف چند فٹنس سنٹروں تک محدود نہیں۔ ملک بھر میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ جم کام کر رہے ہیں۔ ان کے مالکان اکثر وہ لوگ ہیں جو کھیلوں سے محبت رکھتے ہیں، خود باڈی بلڈنگ کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں، یا قومی سطح کے چیمپئن رہ چکے ہیں۔ پاکستان میں کھیلوں کی صنعت ویسے ہی کمزور ہے۔ حکومت کھیلوں کے فروغ کے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن عملی طور پر سپورٹس اکانومی کے لیے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی شخص اپنی جمع پونجی لگا کر جم کھولتا ہے، نوجوانوں کو صحت مند ماحول فراہم کرتا ہے اور ایک مثبت کاروبار چلاتا ہے تو اسے سہارا دینے کے بجائے مشکلات میں دھکیل دینا دانشمندی نہیں۔جم صرف مسلز بنانے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ یہ معاشرتی تربیت کے مراکز بھی ہیں۔ یہاں نوجوان نظم و ضبط سیکھتے ہیں، جسمانی صحت بہتر بناتے ہیں اور منشیات، جرائم اور منفی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں وقت گزارنے والا نوجوان نہ صرف اپنے جسم کو مضبوط بناتا ہے بلکہ اپنی شخصیت کو بھی سنوارتا ہے۔ آج جب معاشرہ نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی، منشیات کے رجحان اور جرائم کے مسائل سے نبرد آزما ہے، تو جم ایسے محفوظ مراکز ہیں جو نوجوان توانائی کو مثبت سمت دیتے ہیں۔ اگر ان مراکز کو معاشی دباؤ سے بند ہونے پر مجبور کیا گیا تو نقصان صرف کاروبار کا نہیں ہوگا بلکہ معاشرتی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے۔ حکومت توانائی کی بچت کرنا چاہتی ہے، یہ ایک جائز مقصد ہے، مگر ہر شعبے پر یکساں پیمانہ لاگو کرنا درست حکمت عملی نہیں۔ فٹنس سینٹرز کو عام کاروبار کی طرح دیکھنا انتظامی آسانی تو ہو سکتی ہے لیکن زمینی حقیقت نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ حکومت جم مالکان کے لیے الگ ایس او پیز مرتب کرے۔ انہیں پابند کیا جا سکتا ہے کہ غیر ضروری روشنیاں بند رکھیں، کم بجلی استعمال کریں، توانائی بچانے والے آلات لگائیں اور اوقات کار کو منظم کریں، مگر انہیں اس انداز میں بند کرنا کہ کاروبار ہی دم توڑ دے، نہ معیشت کے حق میں ہے نہ سماج کے۔اس پالیسی کا ایک افسوسناک پہلو اس کا غیر مساوی نفاذ بھی ہے۔ عام علاقوں میں قائم درمیانے درجے کے جم آٹھ بجے بند کرا دیے جاتے ہیں، جبکہ اشرافیہ کے علاقوں میں قائم بڑے اور مہنگے جم رات گئے تک کھلے رہتے ہیں۔ وہاں حکومتی شخصیات، بااثر طبقہ اور بیوروکریسی جاتی ہے، اس لیے قانون نرم پڑ جاتا ہے۔ دوسری طرف متوسط طبقے کے جم مالکان پر پولیس اور دیگر ادارے سختی کرتے ہیں۔ اس امتیازی رویے سے نہ صرف کاروباری طبقے میں احساس محرومی بڑھتا ہے بلکہ قانون کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ جم مالکان کو مجرم نہ سمجھا جائے۔ یہ لوگ باعزت کاروباری افراد ہیں جنہوں نے نوجوان نسل کی صحت پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر ان کے مسائل کا حل نکالنے کے بجائے پولیس اور انتظامیہ کو ان پر چھاپے مارنے، جرمانے کرنے اور ہراساں کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو یہ ایک مفید شعبے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ریاست کا کام شہریوں کو سہولت دینا ہے، انہیں ذلیل کرنا نہیں۔ جم مالکان کو اعتماد میں لے کر ایسا حل نکالا جا سکتا ہے جس سے توانائی کی بچت بھی ہو اور کاروبار بھی چل سکے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی سازی اکثر زمینی حقائق سے کٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ کوئی دفتر میں بیٹھ کر حکم جاری کر دیتا ہے اور اس کے اثرات لاکھوں لوگوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ فٹنس انڈسٹری جیسے شعبے کو سمجھے بغیر پابندیاں لگانا اس بات کی علامت ہے کہ فیصلہ سازوں کے سامنے مکمل تصویر موجود نہیں۔ نوجوانوں کی جسمانی صحت، کھیلوں کا فروغ اور مثبت معاشرتی سرگرمیاں کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اگر ہم ان بنیادوں کو کمزور کریں گے تو اس کے اثرات صرف معیشت پر نہیں بلکہ پوری نسل پر پڑیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ جم مالکان کے مسئلے کو فوری طور پر سنجیدگی سے لے۔ اس شعبے کو باقی کاروبار سے الگ سمجھتے ہوئے ایسی پالیسی بنائی جائے جو توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی صحت اور کاروباری استحکام کو بھی یقینی بنائے۔ اگر آج اس طبقے کی آواز نہ سنی گئی تو کل نہ صرف ہزاروں کاروبار بند ہوں گے بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک مثبت اور صحت مند متبادل بھی ختم ہو جائے گا۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جم اور اکھاڑے صرف کاروبار نہیں، معاشرے کی جسمانی اور اخلاقی صحت کے مراکز ہیں۔ ان کی بقا دراصل ایک بہتر معاشرے کی بقا ہے۔
6