اہل پنجاب فطری طور پر کسی دیوتا پرستی سے پاک رہے ہیں،غذا میں خود کفالت ہی دولت مندی تھی۔پنجاب اس دولت سے بھرپور تھا۔اس سر زمین پر عقیدے کی جگہ ثقافت اہم تھی۔ہڑپہ سے جہاں بہت کچھ ملا وہاں حیرت ہوتی ہے کہ کسی عبادت گاہ کے آثار نہیں ملے ۔یہاں ہندو عہد میں برہمن کا کردار ہندوستان کے باقی علاقوں کی طرح طاقتور نہیں تھا، برہمن پنجاب کے کسان کا دست نگر رہا اور سماجی و سیاسی فیصلوں میں اس کی اہمیت نہ تھی۔مختلف ادوار میں دوسرے علاقوں سے لوگوں کے نئے گروہ یہاں آئے تو ان کے ساتھ ان کے عقائد سیاسی رسوخ لے کر پنجاب میں الگ سماجی روایات قائم کرنے لگے۔ ایسے میں خانہ بدوش قبائل کی روایات بھی پنجاب میں مستحکم ہونے لگیں۔لوک روایت اور تاریخی بیانیوں میں گگا پیر ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں جن کی زندگی تاریخ، اساطیر اور عوامی عقیدت کے سنگم پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ چوہان قبیلے میں پیدا ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق ان کے والد واچھا چوہان اور والدہ رانی بچھل تھیں، جو تقریباً نویں یا دسویں صدی عیسوی کے آس پاس اس خطے کے حکمران تھے۔ بعض مؤرخین کے نزدیک ان کی پیدائش 900 عیسوی کے لگ بھگ قرار دی جاتی ہے۔ گگا پیر کی اولاد نے اپنی والدہ کے نام پر ’’بچھل راجپوت‘‘ کہلانا شروع کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ماں کا نام اس روایت میں غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ ایک دوسری روایت میں ان کے والد کا نام جیور اور والدہ کا تعلق توار (تْوار) قبیلے سے بتایا گیا ہے، جب کہ ان کی اہلیہ کا نام شریال بیان کیا جاتا ہے۔ ان متضاد روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ گگا پیرکی شخصیت نے مختلف علاقوں اور برادریوں میں اپنی الگ الگ شکلیں اختیار کیں۔ ان کی پیدائش سے متعلق ایک معروف خیال یہ ہے کہ گرو گورکھ ناتھ کی دعا سے وہ اپنے والدین کے گھر پیدا ہوئے۔ روایت ہے کہ گرو گورکھ ناتھ نے ان کی والدہ کو ’’گگل‘‘ نامی پھل یا پودا دیا، جسے کھانے کے بعد گگا پیر پیدا ہوئے، اسی نسبت سے ان کا نام گگاپڑ گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ گائے کی غیر معمولی خدمت اور حفاظت کے باعث ’’گوگا‘‘ کہلائے جو بعد میں گگا بن گیا۔ اس پہلو نے انہیں دیہی اور چرواہا معاشروں میں خاص مقبولیت دی، کیونکہ گائے اس خطے کی معیشت اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ تھی۔ تاریخی طور پر گگا پیر کے عہد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ برطانوی مؤرخ جیمز ٹوڈ نے انہیں جنگل دیش کا سردار قرار دیتے ہوئے محمود غزنوی کے زمانے کا ہم عصر لکھا ہے اور یہ بھی بیان کیا کہ انہوں نے دریائے ستلج کے کنارے محمود غزنوی کے خلاف مزاحمت کی۔ بعض ہندوستانی محققین، مثلاً دشرَتھ شرما، نے جین ماخذوں اور رزمیہ داستانوں کی بنیاد پر بھی انہیں گیارہویں صدی سے جوڑا ہے۔ تاہم کچھ مؤرخین انہیں تیرہویں یا حتیٰ کہ چودھویں صدی کی شخصیت قرار دیتے ہیں اور دہلی سلطنت کے بعض حکمرانوں کے ساتھ ان کے رابطوں کو بیان کرتے ہیں۔ ولیم کروک نے خیال ظاہر کیا کہ وہ تیرہویں صدی میں فیروز شاہ کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے۔ دیگر روایات میں رکن الدین فیروز شاہ یا فیروز تغلق کے زمانے کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ ان اختلافات کے باوجود راجستھان کے بیشتر محققین انہیں محمود غزنوی کے عہد کے قریب مانتے ہیں۔ چندر شیکھر کے مطابق گگا پیر راجستھان کے موجودہ ضلع چورو کے علاقے دادریوا کے چوہان سردار تھے۔ وہ شمال مغربی راجستھان کے ان مقامی حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، جیسا کہ پرتھوی راج چوہان اور ہمیردیو کی روایات میں مزاحمت کا ذکر ملتا ہے۔ بعض لوک روایتیں، خصوصاً مغربی اتر پردیش کے بجنور علاقے میں، انہیں پرتھوی راج چوہان کا بیٹا بھی قرار دیتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی شخصیت کو مختلف ادوار میں نئے تاریخی تناظر دیے گئے۔وقت کے ساتھ ساتھ گگا پیر ایک لوک ہیرو سے بڑھ کر دیوتا اور پیر کی حیثیت اختیار کر گئے۔ مغربی راجستھان میں سانپوں کی کثرت کے باعث چرواہوں اور کسانوں کو سانپ کے ڈسنے کا شدید خوف رہتا تھا۔ اس پس منظر میں گگا پیر کو سانپوں سے حفاظت کرنے والا بزرگ مانا جانے لگا۔ لوگ ان کا نام بطور تعویذ اور دعا پڑھتے اور یقین رکھتے کہ وہ زہر سے بچائیں گے۔ اسی وجہ سے ان کی تصاویر اور مجسموں میں اکثر سانپ دکھائے جاتے ہیں، بعض اوقات انہیں سانپ کی شکل میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس عقیدت نے انہیں ایک ’’سانپ دیوتا‘‘ کی صورت دے دی۔ گگا پیرکی شخصیت میں مذہبی ہم آہنگی کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ بعض مسلمان راجپوت، جنہیں گوگاوت کہا جاتا ہے، انہیں ’’زہرہ پیر‘‘ کے نام سے اپنا جد امجد مانتے ہیں۔ ناتھ پنتھی جوگی روایت میں انہیں گورکھ ناتھ سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح ان کی شخصیت ہندو اور مسلم دونوں روایتوں میں جگہ بناتی ہے۔ پنجاب میں انیسویں صدی کے دوران مسلمان، ہندو اور سکھ سب انہیں سانپوں سے بچانے والے بزرگ کے طور پر مانتے تھے۔ وہ پنج پیر کی روایت میں بھی شامل کیے گئے، جس سے ان کی عقیدت کو مزید وسعت ملی۔ ابتدا میں گگا پیر زیادہ تر نچلے طبقات، چرواہوں اور کسانوں کے ہیرو سمجھے جاتے تھے، مگر اٹھارویں صدی کے بعد ان کی شخصیت کو ’’راجپوتائزیشن‘‘ کے عمل سے گزارا گیا، یعنی انہیں ایک باقاعدہ راجپوت ہیرو اور حکمران کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس تبدیلی نے انہیں علاقائی لوک شخصیت سے نکال کر ایک وسیع تر ثقافتی علامت بنا دیا۔ ان کے گھوڑے ’’جاودیا‘‘ کا ذکر بھی روایتوں میں ملتا ہے اور جہاں ان کی پوجا ہوتی ہے وہاں گھوڑوں کو اسی نام سے موسوم کرنا باعثِ برکت سمجھا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ گگا پیر کی ریاست ’’باگڑ دیدگا‘‘ کہلاتی تھی، جو موجودہ ہریانہ کے ہانسی تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کا دارالحکومت دادریوا بتایا جاتا ہے، جو آج بھی زیارت گاہ کے طور پر معروف ہے۔ قدیم زمانے میں دریائے ستلج کا بہاؤ بھٹنڈہ کے علاقے سے گزرتا تھا، جس سے اس خطے کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت بڑھ جاتی تھی۔ اس طرح گگا پیر کی شخصیت صرف ایک روحانی یا اساطیری کردار نہیں بلکہ ایک علاقائی حکمران کے طور پر بھی سامنے آتی ہے۔یوں وہ تاریخ، لوک عقیدت اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں یقینی تاریخی شواہد کم سہی، مگر عوامی حافظے میں ان کی موجودگی مضبوط اور ہمہ گیر ہے۔ وہ ایک ایسے لوک ہیرو ہیں جنہیں وقت نے دیوتا، پیر، سانپوں کے محافظ اور راجپوت سردار،ہر روپ میں قبول کیا۔ یہ کثیرالجہتی ان کی مقبولیت کا اصل راز ہے۔
143