234

لاہور کے بانی شہزادے ’’لوہ‘‘ کی یادگار

والڈ سٹی اتھارٹی لاہور نے، لاہور کے بانی لوہ سے منسوب خستہ حال یادگار کی مرمت کر کے اسے بحال کردیا ہے۔مجھے بحالی کا کام دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ ایک خیال ضرور پیدا ہوا کہ اگر لاہور کے قبل از اسلام عہد کی تعمیرات کا جائزہ لے لیا جاتا تو یہ یادگار زیادہ مناسب معلوم ہوتی۔یہ شاہی قلعہ لاہور میں واقع ہے۔ اسے ہم لوہ کی سمادھی یا مندر کے طور پر جانتے ہیں۔محمود غزنوی نے لاہور کو مسمار کردیا تھا،پھر بابر نے بھی سارا لاہور ڈھیر کردیا۔یہی وجہ ہے کہ قدیم ہونے کے باوجود لاہور میں غزنوی عہد کے حضرت علی ہجویری ؒ اور ملک ایاز کی قبر کے سوا شائد ہی کوئی نشانی موجود ہو۔آج کا لاہور بابر کے حملے کے بعد تعمیر ہوا شہر ہے۔میرا خیال ہے کہ اس وقت لوہ کی یادگار لاہور کی یہ قدیم ترین نشانی ہے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کے ڈھانچے کو مرمت یا بحالی کے دوران تبدیلیوں سے گزرنا پڑا۔ برادرم افتخار گیلانی کی ساری زندگی مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں گزری ،وہ کئی حوالوں سے ہندو مت سے جڑے واقعات،طرز تعمیر و کرداروں کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔ والڈ سٹی نے بحالی کے کام کی تصویر جاری کی تو چھوٹے سے مندر کی چھت کو جس گنبد کی شکل دی گئی وہ ہندو تعمیراتی طرز کی بجائے سکھ عہد کا نظر آتا ہے۔افتخار گیلانی نے نشاندہی کردی کہ یہ ہندو عہد کا کام نہیں۔ اسی طرح کے گنبد اسلامیہ کالج سول لائنز میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خاندان کی بیگمات کی سمادھیوں پر موجود ہیں۔ اور بھی ایسی تعمیراتی گواہیاں ہیں جو اسے بہت قدیم نہیں ظاہر کرتیں۔تاہم یہ بھی قابل غور ہے کہ سکھ تو لوہ یا لاوا کی پوجا نہیں کرتے پھر یہ یادگار کیسے قلعہ میں رہی، ممکن ہے کہ مغل عہد میں یہ دربار سے وابستہ ہندو امرا اور لاہور کی مقامی آبادی کے جذبات کے پیش نظر برقرار رکھی گئی ۔مغلوں سے پہلے قلعہ ایک ٹیلے پر کچی دیواروں سے بنا بتایا جاتا ہے۔ ممکن ہے ہندو شاہی دور میں یہ یادگار تعمیر کی گئی ہو یا پھر رامائن کے ان اسباق سے رہنمائی لی گئی ہو جو بتاتے ہیں کہ ٹیلے پر لوہ پور آباد تھا اور اس کا بانی رام چندر کا فرزند ’’لو‘‘ تھا۔ اردو میں اس حوالے سے نقل شدہ مواد ہے،وہ بھی نہ ہونے کے برابر،تازہ کام سامنے نہیں آرہا۔ خرابی یہ ہے کہ اب ہندوستان کی قدیم زبانوں کو جاننے والے لوگ لاہور میں نا ہونے کے برابر ہیں۔اللہ بھلا کرے اے آئی کا کہ دوسری زبانوں کی دستاویزات اس کے سامنے رکھیں تو ترجمہ مل جاتا ہے۔کچھ دستاویزات، ویب سائٹس اور کچھ اپنی فہم کو جوڑ کر مجھے ’’لوہ‘‘ کے بارے میں تفصیلات دستیاب ہوئی ہیں، اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ یہ کوئی تخیلاتی کردار نہیں تھا۔ ہندوستانکی قدیم تہذیبی تاریخ میں رام چندر کے جڑواں بیٹوں لَو (Lava) اور کْش (Kusha) کا تذکرہ محض ایک مذہبی حکایت نہیں بلکہ ایک ایسا بیانیہ ہے جس نے شمالی ہند اور پنجاب کی مقامی روایات تک کو متاثر کیا۔ لَو ، جسے بعض مقامی لہجوں اور قصوں میں لہْو، لہ، لہا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ایک ایسا کردار ہے جس کے گرد سنسکرت ادبیات، والمیکی روایت، پورانوں اور پنجاب کی لوک داستانیں باہم ملتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ کْش اور اس کا جڑواں بھائی لَو رام اور سیتا کے بیٹے تھے۔ ان دونوں کی داستان ہندو مذہبی رزمیہ رامائن میں بیان کی گئی ہے۔ہندو روایات کے مطابق کْش نے کشمیر، دریائے سندھ اور ہندو کش تک کے علاقوں پر حکومت کی، جنہیں اس عہد میں ہندوستان کے سرحدی علاقے سمجھا جاتا تھا۔ اسے ہندو کش کشترا بھی کہا گیا۔روایات کے مطابق کْش نے کشمیر کی وادی میں ایک شہر کی بنیاد رکھی ۔اسی نے قصور شہر کو آباد کیا، جبکہ اس کا جڑواں بھائی لَو لاواپوری (موجودہ لاہور) کا بانی سمجھا جاتا ہے۔لاہور اور قصور کا سماجی مزاج آج بھی ایک جیسا ہے۔ روایات کے مطابق رام چندر نے ریاستی دباؤ اور درباری بدگمانی کے باعث سیتا کو چھوڑ دیا۔ سیتا جنگل میں مہا رشی والمیکی کے آشرم میں پناہ گزین ہوئیں، جہاں ان کے ہاں جڑواں بیٹے لَو اور کْش پیدا ہوئے۔ انہیں وہیں والمی کی سرپرستی میں پرورش ملی۔ والمیکی نہ صرف اس دور کے عظیم ترین رشی سمجھے جاتے ہیں بلکہ کلاسیکی سنسکرت ادب میں رامائن کے خالق بھی ہیں۔ ان سے منسوب تعلیمات میں عدمِ تشدد، سچائی، انسانی فلاح اور دھرم پر قائم رہنے پر زور ملتا ہے۔ ان کا بیانیہ رزمیہ ہوتے ہوئے بھی روحانی اور اخلاقی معنویت سے بھرپور ہے۔ اسی لیے لَو اور کْش پر ان کی تربیت کا گہرا اثر پڑا۔یاد رہے کہ انارکلی میں ایک مندر انہی سے منسوب ہے اور یہاں والمیکی فرقہ کے ہندو یاترا کے لئے آتے ہیں۔ لَو بچپن ہی سے علم، موسیقی، رزمیہ نظم اور تیر اندازی میں غیر معمولی تھا۔ پرانوں میں لکھا ہے کہ اس کی طبیعت میں سنجیدگی، نرمی، شجاعت اور دانش کا عکس تھا۔ رامائن کے مطابق جب سیتا حمل سے تھیں تو وہ ایودھیا کی بادشاہی چھوڑ کر چلی گئیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بادشاہ رام نے رعایا کے اعتراضات کے جواب میں سیتا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پاکدامنی ثابت کریں، تاکہ ان پر لگے الزام کو غلط ثابت کیا جا سکے۔ اس دکھ اور احتجاج میں وہ ایودھیا سے نکل گئیں اور تمسا ندی کے کنارے واقع رِشی والمی کی کے آشرم میں پناہ لی۔ تمسا ندی ایودھیا کے پاس ہے، اب یہ بڑی حد تک خشک ہو چکی ہے لیکن موجود ہے، ہندو اسے مقدس مانتے ہیں۔ تمسا ندی کا حوالہ بتاتا ہے کہ سیتا ایودھیا سے نکل کر کچھ دور تمسا ندی کے کنارے جنگل میں پناہ گزیں ہوئیں،جہاں والمیکی رشی کا آشرم تھا۔ یہ ٹھوس شہادت ثابت کرتی ہے کہ لو اور کش کی پیدائش اور بچپن پنجاب میں نہیں گزرا۔ اسی آشرم میں سیتا نے اپنے جڑواں بیٹوں لَو اور کْش کو جنم دیا۔ یہ دونوں وہیں پر بڑے ہوئے، جہاں رِشی والمیکی نے انہیں تعلیم بھی دی اور جنگی تربیت بھی۔ اسی دوران انہوں نے رام کی زندگی اور داستان بھی اپنے استاد سے سیکھی۔ والمیکی رامائن کے مطابق جب رام نے اشو میدھ یگیہ(ایک قدیم روایت جس میں بادشاہ اپنا گھوڑا آزاد چھوڑتا ہے،اسے جہاں تک روکا نہ جائے وہ بادشاہ کا علاقہ ہوتا ،واپسی پر اس گھوڑے کو قربان کیا جاتا) کیا تو قربانی کے گھوڑے کو چھوڑنے کے بعد دونوں بھائیوں نے اسے روک لیا۔ اس موقع پر لَو اور کْش نے رام کے لشکر سے جنگ کی۔ ہنومان، شتروگھن اور یہاں تک کہ لکشمن تک سے یہ بھڑ گئے۔ بعد میں رام نے پہچان لیا کہ یہ اس کے اپنے بیٹے ہیں۔ (جاری ہے)

بشکریہ جنگ نیوزکالم