44

لہورا سنگھ لہوری

میرے سامنے کچھ تصاویر ہیں۔ یہ تقسیم کے دوران فسادات میں بچ گئیں،یا انہیں تقسیم کے بعد تین چار سال زندہ رہنے والے مصور نے بھارت جا کر بنایا، جانے کیسے ۔ان کا مصور لہورا سنگھ لہوری ہے۔ ایک مسلمان شاعر کا شاگرد ، ایک مسلمان مصور کا شاگرد مصور۔لہورا سنگھ لہوری تک میں استاد مولا بخش کشتہ کے ذریعے پہنچا ہوں۔مولا بخش کشتہ نے لہورا سنگھ لہوری کے کچھ پنجابی اشعار نقل کئے ہیں۔ اہل لاہور کا یہ دکھ کیا کم ہے کہ ان کا حکمران کبھی مقامی نہیں رہا۔ہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ ہے جو لاہور شہر کیمضافات سے اٹھا اور لاہور کو اپنا بنالیا۔جو لوگ فکری ارتقا کے مرحلوں سے گزرتے ہیں، وہ اکثر اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کا سچ ایک نہیں، کئی پرتوں میں بٹا ہوا ہے۔ایسے میں ایک راستہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم تاریخ کے اْن کرداروں کو تلاش کریں جو بڑے بیانیوں کے شور میں گم ہو گئے۔ وہ لوگ جو شاید اقتدار کے ایوانوں میں نہیں تھے، مگر ثقافت، فن اور معاشرتی یادداشت میں انہوں نے خاموش مگر پائیدار نقوش چھوڑے۔ لاہور کی تاریخ اس اعتبار سے حیرت انگیز ہے۔ یہاں کی گلیوں، بازاروں اور دروازوں میں صرف بادشاہوں اور جرنیلوں کی کہانیاں نہیں بلکہ فنکاروں، شاعروں، صوفیوں اور گمنام ہنرمندوں کی زندگیاںسانس لیتی ہیں۔ انہی نسبتاً نظر انداز شخصیات میں ایک نام لہورا سنگھ کا بھی ہے۔ لہورا سنگھ 1865ء پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پنجاب کی سیاسی تقدیر بڑی تیزی سے بدل چکی تھی۔ 1849ء میں سکھ سلطنت کے خاتمے کے بعد پورا خطہ برطانوی نوآبادیاتی نظام کے تحت آ چکا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طاقت ور ریاست اب تاریخ کا حصہ بن چکی تھی اور اس کی جگہ ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ قائم ہو چکا تھا جس میں برطانوی اقتدار فیصلہ کن تھا۔ تاہم سیاسی اقتدار کی تبدیلی کے باوجود سماجی اور ثقافتی سطح پر سکھ برادری اپنی شناخت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔گردوارے اس شناخت کے مراکز تھے۔ مذہبی رسومات، عقائد سے گندھی شاعری اور علامتی فنون کے ذریعے ایک پوری تہذیبی روایت کو زندہ رکھا جا رہا تھا۔ یہی ماحول لہورا سنگھ کے بچپن اور نوجوانی کا پس منظر بنا۔ وہ ایسے ماحول میں پلے جہاں مذہبی تفریق نہیں تھی۔انیسویں صدی کے اواخر کا پنجاب ایک دلچسپ تہذیبی تجربہ گاہ تھا۔ ایک طرف برطانوی حکمرانی کے اثرات تھے جو انتظامی ڈھانچے، تعلیم اور شہری زندگی کو بدل رہے تھے، دوسری طرف مقامی ثقافت اپنی جڑوں کو بچانے اور نئے حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ لاہور اس عمل کا سب سے نمایاں مرکز تھا۔لاہور کواس زمانے میں محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں کا سنگم سمجھ لیں۔ مغل دور کی یادگاریں، سکھ عہد کی نشانیاں اور برطانوی دور کی نئی عمارتیں ایک ہی شہر میں جمع تھیں۔ گلیوں میں فارسی اور اردو کے اشعار سنائی دیتے تھے اور پنجابی لوک گیت بھی۔ بازاروں میں خطاطی، مصوری، دستکاری اور کتابت کے فنکار اپنے اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے تھے۔ لہورا سنگھ لہوری نے اپنی باقاعدہ فنی تربیت لاہور کے ممتاز مصور، محمد بخش مصور کے زیر سایہ حاصل کی۔ محمد بخش اس دور کے معروف فنکار تھے اور ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں مصوری کی روایت نسل در نسل منتقل ہو رہی تھی۔ وہ خلیفہ امام الدین کے والد بھی تھے، جو بعد میں خود ایک اہم مصور کے طور پر جانے گئے۔محمد بخش مصور کی شاگردی میں لہورا سنگھ کو صرف مصوری کی تکنیکیں ہی نہیں سکھائی گئیں بلکہ فن کی روح بھی سمجھائی گئی۔ اس دور میں پنجابی مصوری کی ایک خاص روایت موجود تھی جس میں عوامی اسلوب، مذہبی علامت نگاری اور تاریخی موضوعات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یہ روایت بڑی حد تک اس سرپرستی کی مرہون منت تھی جو سکھ دور میں فنکاروں کو حاصل رہی تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں مصوری اور دیگر فنون کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ درباری مصور مذہبی شخصیات، جنگی مناظر اور تاریخی واقعات کو تصویروں میں محفوظ کرتے تھے۔ اگرچہ برطانوی دور میں دربار کی وہ سرپرستی باقی نہ رہی مگر اس روایت کے اثرات لاہور کے فنکار حلقوں میں بدستور موجود تھے۔لہورا سنگھ نے اسی روایت کو آگے بڑھایا۔انہوں نے گوروں کی تعلیمات، واقعات اور مناظر کو پینٹ کیا۔اپنے کیریئر کے ابتدائی زمانے میں انہوں نے لاہور کے گمٹی بازار میں کام شروع کیا۔ گمٹی بازار اس زمانے میں صرف تجارت کا مرکز نہیں تھا بلکہ ہنرمندوں اور فنکاروں کا بھی ایک اہم ٹھکانہ تھا۔ یہاں مصور، خطاط، سنار اور دیگر کاریگر اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔بعد ازاں لہورا سنگھ نے ڈبی بازار میں اپنا ذاتی سٹوڈیو قائم کیا۔ ڈبی بازارمیں چھوٹے چھوٹے دکانچے، دیواروں پر لٹکی تصویریں، رنگوں کی خوشبو اور کاریگروں کی مصروفیت اس جگہ کو ایک جیتا جاگتا فنکارانہ منظر بنا دیتی تھی۔ لہورا سنگھ کی تصویروں میں یک رنگی یا مونوکروم تکنیک نمایاں تھی۔ اس اسلوب میں رنگوں کی کثرت کے بجائے ایک محدود رنگی دائرے کے اندر گہرائی اور تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے وہ مذہبی اور تاریخی موضوعات کو ایک خاص سنجیدگی اور وقار کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ان کی بہت سی تصویروں میں سکھ تاریخ اور مذہبی روایت کے مناظر دکھائی دیتے تھے۔ گردواروں کے روحانی ماحول، سکھ مذہبی شخصیات اور تاریخی واقعات کو انہوں نے علامتی انداز میں پیش کیا۔ ان کی مصوری میں داستان اور عقیدت کا ایک امتزاج ملتا ہے، جس میں تاریخ ایک روحانی تجربہ بن جاتی ہے۔لہورا سنگھ صرف مصور ہی نہیں تھے بلکہ شاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ اس زمانے میں فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبے اکثر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے تھے۔ مصور شاعری بھی کرتے تھے اور شاعر خطاطی یا مصوری سے بھی شغف رکھتے تھے۔ اس طرح فن ایک ہمہ جہت اظہار بن جاتا تھا۔اگرچہ لہورا سنگھ کی شاعری کے نمونے بہت کم دستیاب ہیں، مگر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کی تخلیقی حس صرف رنگوں تک محدود نہیں تھی۔ وہ اپنے عہد کے اس فنکارانہ مزاج کا حصہ تھے جس میں تصویر، لفظ اور علامت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے۔لاہور کی ثقافت ہمیشہ سے ایسے فنکاروں کی مرہون منت رہی ہے جو شہرت کے بڑے دائروں سے باہر رہ کر بھی شہر کی روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام تاریخ کی کتابوں میں بڑے حروف میں لکھے جاتے ہیں، مگر شہر کی اصل یادداشت اکثر انہی گمنام یا نیم گمنام فنکاروں کے ذریعے محفوظ رہتی ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ تاریخ صرف جنگوں اور سیاسی فیصلوں کا نام نہیں بلکہ ثقافتی تخلیق کا ایک مسلسل عمل بھی ہے۔آج جب ہم لاہور کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد یا نوآبادیاتی عمارتیں ہی نظر نہیں آتیں۔ ہمیں ان گلیوں میں وہ فنکار بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے ہنر سے اس شہر کو ایک روح عطا کی۔لہورا سنگھ انہی میں سے ایک تھے۔ ان کا نام شاید بڑی تاریخی کتابوں میں زیادہ نمایاں نہ ہو، مگر لاہور کی ثقافتی تاریخ میں وہ ایک خاموش مگر معنی خیز موجودگی رکھتے ہیں۔اور شاید تاریخ کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے کہ اس کے حاشیوں میں چھپے ہوئے کردار کبھی کبھی مرکزی داستان سے زیادہ روشن معلوم ہوتے ہیں۔ ( جاری ہے)

بشکریہ جنگ نیوزکالم