178

سرحد اور اوطاق کی خاموشی

ایک مقام پر گاڑی اچانک رک گئی۔ سامنے رینجرز چوکی تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم پاک بھارت سرحدی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔ عامر خان یہاں کے راستوں سے مانوس تھے، وہ اترے اور اہلکاروں کو کو تعارف کرایا اور علاقے میں ہماری موجودگی کی غرض و غایت بتائی۔عامر خان سے چند رسمی سوالات کے بعد ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی۔ گاڑی دوبارہ رواں ہوئی تو اندھیرا تیزی سے گہرا ہو رہا تھا۔ اسلام کوٹ سے مڑتے وقت ہمارے دائیں ہاتھ تھر کول پراجیکٹ کا وسیع و عریض علاقہ تھا۔ رات کی تاریکی میں آٹھ دس منزلہ عمارتوں کی روشن کھڑکیاں یوں دکھائی دیتی تھیں جیسے سمندر میں کوئی دیوقامت بحری جہاز لنگر انداز ہو۔ یہ روشنی، صحرا کی خاموش وسعتوں میں ایک عجیب سا تضاد پیدا کر رہی تھی۔ واپسی پر دن کی روشنی میں ان عمارتوں کا پھیلاؤ اور حجم پوری طرح سامنے آیا تو اندازہ ہوا کہ یہ منصوبہ کس قدر بڑے رقبے پر محیط ہے۔اس کی وجہ سے تھر میں مواصلاتی نطام خاصا بہتر ہوا ہے۔ فون اور سڑکوں کے آ جانے سے لوگوں کی سست رفتار زندگی بدل رہی ہے۔ سرحدی چوکی سے گزرنے کے بعد ہم دوبارہ ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کے لگ بھگ رفتار سے چلنے لگے۔ اس سڑک پر ٹریفک شاذونادر ہی نظر آتی ہے، مگر اس کے باوجود رفتار تیز نہیں کی جاتی۔ کسی بھی لمحے کسی جانور کے سڑک پر آ جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ ایک موقع پر صحرائی چوہا گاڑی کی تیز لائٹس سے گھبرا کر بھاگتا ہوا ایک طرف نکل گیا۔ تھر میں کئی پرندے اور جانور نایاب نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ڈاکٹر فیاض عالم بتا رہے تھے کہ یہاں جنگلی گدھا بھی پایا جاتا ہے جو شاید اب دنیا کے چند ہی ممالک میں باقی رہ گیا ہے۔ رات کے آٹھ بج کر کچھ منٹ ہوئے ہوں گے جب ہم ننگرپارکر کی آبادی میں داخل ہوئے۔ گاڑی آبادی کے بیچ سے گزرتی ہوئی ایک بیرونی راستے پر آ گئی۔ یہاں محمد طاہر ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ دعا فاونڈیشن نے ہر علاقے میں اپنے منصوبوں کی نگرانی کے لیے مقامی لوگ مقرر کر رکھے ہیں، محمد طاہر بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ ہمیں آبادی سے باہر ایک مقام پر لے گئے۔ خاردار جھاڑیوں کی باڑ کے درمیان ایک لکڑی کا پھاٹک تھا۔ پھاٹک کے اندر داخل ہوئے تو کوئی دو کنال پر مشتمل کھلا صحن تھا۔ ایک کونے میں تھڑے پر بیٹھک بنی ہوئی تھی جسے یہاں اوطاق کہا جاتا ہے۔ اندر آٹھ چارپائیاں بچھی تھیں، رضائیاں رکھی تھیں اور زرد روشنی والا ایک بلب جل رہا تھا۔ یہ منظر ہمیں اپنے دیہات کی وہ بیٹھکیں یاد دلا گیا جہاں شادی بیاہ کے موقع پر مہمانوں کو اسی طرح ایک جگہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ سردی زیادہ نہیں تھی۔ سب سے پہلے موبائل فون چارجنگ پر لگائے گئے۔ صحن کے ایک کونے میں بیت الخلا تھا۔ تازہ دم ہوئے تو اوطاق کے تھڑے پر دری بچھا کر کھانا لگا دیا گیا۔ گوارے کی پھلیوں جیسی ایک سبزی، گوشت اور چولہے سے اتری ہوئی گرم روٹیاں۔ سادگی کے اس دسترخوان میں ایک الگ ہی لذت تھی۔ خوب سیر ہو کر کھایا۔ ڈاکٹر فیاض عالم اور عامر خاکوانی ایک بار پھر تبادلہ خیال میں مصروف ہو گئے۔ میں نے موبائل دیکھا تو مناہل کے پیغامات تھے۔ وہ سونے سے پہلے مجھ سے بات کرنا چاہتی تھی۔مجھے افسوس ہوا کہ بیٹی سے بات نہ ہو سکی۔وہ جلد سو جاتی ہے۔تھکن کے بعد پیٹ بھرکھانا گویا بے ہوشی کی دوا ہوتا ہے ۔گیارہ بجے کے قریب میں اونگھنے لگا۔ گہری تاریکی کے بیچ ایک اوطاق اور اس پر چھائی خاموشی۔ باہر نیم اور کیکر کے دو تناور درخت تھے، ان پر اگر کوئی پرندہ حرکت کرتا تو پوری فضا میں ایک ہلکی سی جنبش محسوس ہوتی۔یہاں کے لوگ کیکر کو برسہا برس نیچے ست چھانٹتے رہتے ہیں ،یوں اس کی ایک چھتری نما شکل بن جاتی ہے، میرے دادا جان نے گاوں میں ایسے ہی پہاڑی کیکر کی چھتری بنا رکھی تھی۔جانے یہ خیال ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور دیہاتی لوگوں تک کیسے ایک ہی شکل میں پہنچا۔ سرمد خان کا فون سب سے زیادہ مصروف رہتا ہے۔ وہ بیک وقت دو تین فونوں پر گفتگو کر رہے تھے اور اپنے معاملات نمٹاتے جا رہے تھے۔ مجھے نیند آ گئی۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے آنکھ کھلی۔ باہر دیکھا تو ریحان صاحب طلوع ہوتے سورج کی تصویریں بنا رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ایک فوٹوگرافر کسی ملک کا ایسا بھی ہے جس نے پوری زندگی صرف طلوعِ آفتاب کو کیمرے میں محفوظ کیا، ایک ہی منظر کو ہزاروں زاویوں سے۔ میں غسل خانے گیا، نل کھولا اور نہانا شروع کیا۔ لاہور میں گرم پانی سے نہانے کی عادت ہے، مگر یہاں سردی کے باوجود پانی خاصا معتدل محسوس ہوا۔ سامان اٹھا کر باہر نکلے۔ رات کے اندھیرے میں جو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، دن کی روشنی میں نمایاں ہو گیا۔ باڑ والا لکڑی کی بلیوں سے بنا پھاٹک کھول کر باہر آئے تو تھر کے روایتی جھونپڑے نما گھر سامنے تھے۔ یہاں ہندو آبادی خاصی تعداد میں ہے۔ تھریوں کی مقامی زبان سندھی سے خاصی مختلف ہے، اس لیے کئی بار شبیر سومرو بھی رک کر سوچتے کہ بات کس طرح سمجھائی جائے۔ ایسے موقعوں پر محمد طاہر مترجم بن جاتے۔ ہمیں اوطاق سے کوئی دو کلومیٹر دور ایک گوٹھ جانا تھا۔ وہاں ریٹائرڈ کسٹم سپاہی محمد سوبدار کے ہاں ناشتے کا اہتمام تھا۔ یہ بزرگ پچاسی برس سے زائد عمر کے ہوں گے۔ صاف ستھرے، اردو بولنے اور سمجھنے والے۔ کراچی اور کوئٹہ میں ملازمت کر چکے تھے۔دوران ملازمت مولانا مودودی کے مضامین پڑھے، پھر ان کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی میں رہنے کی بجائے اپنے تھر آگئے۔ جماعت اسلامی کے رکن ہیں۔ ان کی اوطاق دو کمروں اور ایک برآمدے پر مشتمل تھی۔ اندر فرش سنگِ مرمر کا تھا جبکہ باہر صحن کچا تھا۔ ایک کیاری میں نیاز بو کی جھاڑیاں بھری ہوئی تھیں اور غسل خانے کے قریب کریڑ کا ایک درخت کھڑا تھا۔ یہاں ہمیں تلی ہوئی سبز مرچیں، تلے ہوئے آلو، مکھن اور شہد کے ساتھ پراٹھا پیش کیا گیا۔ بعد میں خالص دودھ کی چائے۔ کچھ دیر میزبان سے گفتگو ہوئی، زندگی، ملازمت اور علاقے کے حالات پر بات چیت ہوئی۔ان کے بچے بڑھ بڑھ کر تواضع کر رہے تھے۔ ناشتہ ختم ہوا تو ہم تاریخی اور انتظامی اہمیت کے مقامات کی طرف روانہ ہو گئے۔ صحرا کی اس صبح میں، انسان، زمین اور تاریخ ایک دوسرے سے یوں جڑے محسوس ہو رہے تھے جیسے یہ سب ایک ہی داستان کے مختلف باب ہوں۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم