خیبر پختونخوا اس وقت پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کے بارے میں سیاست بھی جذباتی ہے، بیانیہ بھی بلند آہنگ ہے اور مسائل بھی حقیقی، پیچیدہ اور دہائیوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا خطہ جس نے دہشت گردی کی آگ جھیلی، نقل مکانی کا دکھ اٹھایا، ریاستی تجربات کا میدان بنا اور اب انضمام، بحالی اور ترقی کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود، اگر گفتگو صرف اس نکتے پر مرکوز رہے کہ وفاق نے کتنے پیسے دیے یا نہیں دیے، تو اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کو کیا دیا، اصل سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے جو کچھ پایا، اس کے ساتھ کیا کیا۔ مالی دستاویزات کے مطابق 2010 سے نومبر 2025 تک خیبر پختونخوا کو وفاق کی جانب سے 8,404 ارب روپے مل چکے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت سو فیصد شیئر باقاعدگی سے ادا ہوا، دہشت گردی کے اضافی بوجھ پر ایک فیصد مزید ملا، ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاق نے اپنے حصے سے اربوں روپے منتقل کیے، آئی ڈی پیز، پی ایس ڈی پی، اسٹریٹ ٹرانسفرز اور بی آئی ایس پی کے ذریعے رقوم عوام تک پہنچیں۔ یہ اعداد و شمار کسی سیاسی تقریر کا حصہ نہیں بلکہ وزارتِ خزانہ کے ریکارڈ ہیں۔ سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ اگر 15 سال میں کے پی کے کو 8,404 ارب ملے ہیں تو اس عرصہ میں پنجاب سندھ اور بلوچستان کو کتنے ملے سوال تو یہ بھی ہے کہ ان 15 سال میں کس صوبے کے کنتے بنتے تھے اور اسے کیا ملا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کسی حکومت کی کارکردگی کا معیار جانچنے کا معیار اس کی عوامی حمائت ہے یا مخصوص اشرافیہ کی پسند نا پسند ۔ان حقائق کے بعد یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ اگر وسائل کی کمی بنیادی مسئلہ نہیں رہی، تو پھرصوبے آج بھی تعلیم، صحت، روزگار، صنعتی ترقی اور شہری سہولتوں میں پیچھے کیوں ہیں؟ اور یہ سوال صرف کے پی کے حکومت تک محدود کرنا نا انصافی ہو گی وفاق کی باقی اکائیوں کی کارکردگی جانچنے کا معیار بھی یہی ہونا چاہیے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ ایک نوجوان سیاسی چہرہ ہیں۔ انہیں اپنی جماعت کے بانی اور مرکزی قیادت کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ مگر سیاست میں اعتماد سے زیادہ کارکردگی بولتی ہے۔ پندرہ سالہ طویل حکمرانی کے بعد اب یہ دلیل کمزور پڑ جاتی ہے کہ صوبے کو موقع نہیں ملا، یا اختیار نہیں ملا، یا وسائل نہیں ملے۔ اب سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے ان وسائل کو کس سمت میں لگایا۔ یہی سوال باقی صوبوں سے بھی بنتا ہے اور انصاف سے تقابل کا متقاضی بھی۔ کہ کیا تعلیم میں وہ انقلاب آیا جس کے وعدے کیے گئے تھے؟ کیا سرکاری سکول واقعی معیار میں نجی شعبے کے قریب پہنچے؟ کیا یونیورسٹیاں تحقیق اور اختراع کا مرکز بنیں، یا صرف سیاسی بھرتیوں اور انتظامی بحرانوں کا شکار رہیں؟ صحت کے شعبے میں بھی تصویر کچھ مختلف نہیں۔ بنیادی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط کیا؟ کیا دیہی علاقوں میں ڈسپنسریاں فعال ہوئیں، ڈاکٹرز کی حاضری یقینی بنی، ادویات کی دستیابی مستقل ہوئی؟ یا ہم نے علاج کو ایک کارڈ تک محدود کر کے پورے نظام کو نظر انداز کر دیا؟ ترقی یافتہ ریاستیں صرف علاج پر خرچ نہیں کرتیں، وہ بیماری کی وجوہات پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے صوبوں کی پالیسی اس سمت کیوں نہیں جا سکی۔ ملک کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ روزگار ہے۔ نوجوان آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر صنعت، تجارت اور خدمات کے شعبے اس رفتار سے مواقع پیدا نہیں کر رہے۔ سیاحت کو بارہا معیشت کا نجات دہندہ قرار دیا گیا، مگر انفراسٹرکچر، ماحولیات، مقامی آبادی کی شمولیت اور مستقل پالیسی کے بغیر سیاحت صرف موسموں کی کہانی بن کر رہ گئی۔ کہیں سڑکیں بنیں، کہیں ہوٹل کھڑے ہوئے، مگر مقامی نوجوان کو پائیدار روزگار نہ ملا، نہ ہنر کی وہ تربیت ملی جو اسے باعزت روزی دے سکے۔ یہاں یہامر بھی ذہن نشین رہے کہ ضم شدہ اضلاع خیبر پختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی اور سیاسی تجربہ ہیں۔ اربوں روپے وہاں منتقل ہوئے، مگر آج بھی سوال یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کیا بدلا؟ کیا انصاف تک رسائی آسان ہوئی؟ کیا پولیس اور عدالتی نظام نے اعتماد حاصل کیا؟ کیا تعلیم اور صحت کے مراکز واقعی فعال ہوئے؟ یا فنڈز فائلوں، اسکیموں اور ٹھیکوں کی نذر ہو گئے؟ ان علاقوں میں ترقی صرف عمارتوں سے نہیں آتی، وہاں ریاستی اعتماد بحال کرنا پڑتا ہے، جو شفاف حکمرانی کے بغیر ممکن نہیں۔ گورننس وہ لفظ ہے جو سیاست میں اکثر نعرے کے طور پر استعمال ہوا، مگر عملی طور پر کم دکھائی دیا۔ بیوروکریسی کو کبھی مکمل آزادی ملی، کبھی مکمل بے بسی۔ احتساب کے دعوے بہت ہوئے، مگر ادارہ جاتی اصلاحات کم نظر آئیں۔ ایک مضبوط صوبائی حکومت وہ ہوتی ہے جو نظام کو افراد سے بالاتر کر دے، مگر یہاں اکثر پالیسیاں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ تسلسل ٹوٹتا رہا، ترجیحات بدلتی ہیں اور عوامی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ وفاق اور صوبے کے تعلقات کو مستقل محاذ آرائی میں بدل دینا بھی صوبے کے مفاد میں نہیں ۔ ہر ناکامی کا ملبہ وفاق یہ صوبے پر ڈال دینا وقتی سیاست تو ہو سکتی ہے، مگر طویل المدت حکمرانی نہیں۔ جب اعداد و شمار خود بتا رہے ہوں کہ وسائل ملے، تو پھر اخلاقی دیانت کا تقاضا ہے کہ صوبائی قیادت اپنی کارکردگی کا حساب دے۔ یہ پوچھا جائے کہ کن منصوبوں سے صوبے کی آمدن بڑھی، کن اصلاحات سے اخراجات میں بہتری آئی، کن پالیسیوں سے غربت کم ہوئی۔ عوام اب نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہے، ان کے نوجوان کو روزگار کہاں ملے گا، ان کے شہروں میں پینے کا صاف پانی، ٹرانسپورٹ اور صحت کی سہولت کب بہتر ہوگی۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی کب بدلے گی۔ اصل امتحان یہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ہوا پیسہ عوام کی زندگی میں تبدیلی لا سکا یا نہیں۔ اگر جواب مبہم ہے، تو مسئلہ وفاق میں نہیں، آئین میں نہیں، این ایف سی میں نہیں۔ مسئلہ گورننس میں ہے، ترجیحات میں ہے، اور اس سیاست میں ہے جو احتساب سے زیادہ بیانیے پر یقین رکھتی ہے۔ ٭٭٭٭٭
188