43

سفارت کا جال، تدبر کی تلوار

مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید دنیا میں جنگیں صرف میزائلوں، ٹینکوں اور محاذوں پر نہیں جیتی جاتیں، بلکہ ان کے اصل نتائج سفارت کاری، تحمل اور وقت پر درست فیصلوں سے طے ہوتے ہیں۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی، لبنان میں بڑھتی ہوئی کارروائیاں، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتِ حال اور اسلام آباد میں مذاکرات، یہ سب مل کر ایک ایسے پیچیدہ منظرنامے کی تشکیل کر رہے ہیں، جہاں ایک غلط قدم پورے خطے کو نئی آگ میں جھونک سکتا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور اسرائیل عمومی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ صرف جغرافیائی فاصلہ نہیں، بلکہ خطے کے طاقت کے توازن کی نزاکت بھی ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کے مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان اور ایران، جنوب میں بحیرہ عرب اور اداخلی طور پر معاشی و سلامتی کے کئی چیلنج موجود ہیں۔ ایسے میں ایک نئے محاذ کا کھلنا پاکستان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل بھی جانتا ہے کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے، اسلامی دنیا میں سیاسی وزن رکھتا ہے اور عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے دونوں ممالک عمومی طور پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانیے سے بچتے رہے ہیں اور اگر کبھی تناؤ پیدا بھی ہو تو اسے کھلے تصادم کی صورت اختیار نہیں کرنے دیتے۔ موجودہ بحران میں بھی یہی رجحان نمایاں ہے: اسرائیل اپنی علاقائی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان خطے کو ایک نئی جنگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے حالیہ بحران میں ایک اہم سفارتی نکتہ سمجھا: آج کے دور میں طاقت کا مطلب صرف عسکری صلاحیت نہیں، بلکہ رابطے کے دروازے کھلے رکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے خود کو محض تماشائی نہیں، بلکہ ایک فعال ثالث کے طور پر پیش کیا۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد سازی کی راہ ہموار کی، دو مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کا ایک خاکہ پیش کیا، اور اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر سامنے لایا۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اب صرف ردِعمل دینے والی ریاست نہیں رہنا چاہتا، بلکہ پیش بندی اور بحران سازی کے بجائے بحران حل کرنے والی ریاست کے طور پر اپنا تشخص بنانا چاہتا ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ اسرائیل، بھارت کے ساتھ مل کر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس رائے کی بنیاد یہ ہے کہ اگر پاکستان عالمی ثالث کے طور پر ابھرتا ہے، تو یہ نہ صرف اسلام آباد کے لیے سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ اسرائیل کے لیے ایک ایسی پیش رفت ہوگی جو اس کے خطے میں یکطرفہ بیانیے کو چیلنج کر سکتی ہے۔ اس نقطہ نظر میں کچھ وزن ضرور ہے، کیونکہ اسرائیل کی حکمت عملی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے بیانیے کو مرکز میں رکھے، اور خطے میں ایسی کسی سفارتی پیش رفت سے محتاط رہے جو اس کے لیے دباؤ پیدا کرے۔ تاہم، اس تجزیے کو مبالغہ آمیز بنانے سے بھی گریز ضروری ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں بھارت کی حیثیت ویسی فیصلہ کن نہیں رہی جیسی چند برس قبل سمجھی جاتی تھی۔ یوکرین جنگ، غزہ بحران، ایران تنازع، اور خلیج کی کشیدگی،ان میں سے کسی بھی بڑے بحران میں نئی دہلی کوئی کلیدی ثالث یا ضامن قوت بن کر سامنے نہیں آ سکا۔ بھارت کی سفارت کاری اب زیادہ تر مفاداتی توازن تک محدود دکھائی دیتی ہے، جبکہ اس کی علاقائی ساکھ بھی کئی سوالات کی زد میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسرائیل بھارت کے ذریعے پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے بھی، تو اس کے امکانات محدود رہیں گے۔ اس وقت اصل فیصلہ کن مراکز واشنگٹن، تہران، ریاض، انقرہ اور اسلام آباد ہیں۔ یہی وہ دارالحکومت ہیں جہاں خطے کے مستقبل کے بڑے فیصلے ہو رہے ہیں، نہ کہ دہلی میں۔ صدر ٹرمپکی حالیہ پوزیشن بھی اس پورے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، دوسری طرف امریکہ کو یہ احساس بھی ہے کہ اگر لبنان میں کشیدگی بڑھتی رہی تو پورا امن فریم ورک ناکام ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حلقوں سے اسرائیل کے لیے محتاط پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب خطے میں کھلی چھوٹ کی پالیسی سے کچھ فاصلے پر آنا چاہتا ہے، تاکہ ایک وسیع تر تصادم سے بچا جا سکے۔ پاکستان کے لیے اس تمام صورتِ حال میں اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ اسرائیل کو عسکری طور پر ‘‘بے بس’’ کر دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے خطے کو مسلسل جنگی بیانیے میں قید رکھنا مشکل بنا دے۔ پاکستان نے اس بحران میں تین بنیادی سفارتی کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اول: ایران کے ساتھ اعتماد کا رشتہ برقرار رکھا۔پاکستان اور ایران کے تعلقات میں ماضی میں اتار چڑھاؤ ضرور رہے، مگر موجودہ بحران میں اسلام آباد نے تہران کے ساتھ رابطہ اور اعتماد برقرار رکھا۔ یہ ایک اہم کامیابی ہے، کیونکہ مغربی سرحد پر اعتماد کے بغیر پاکستان کسی بھی وسیع علاقائی کردار کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ دوم: امریکہ کے ساتھ رابطے کے دروازے بند نہیں ہونے دیے۔پاکستان نے واشنگٹن کو یہ باور کرایا کہ وہ خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کو مذاکراتی مقام کے طور پر اہمیت ملی۔ سوم: عرب دنیا اور عالمی برادری کو ایک ذمہ دار ریاست کا تاثر دیا۔پاکستان نے جذباتی نعروں کے بجائے ایک متوازن سفارتی مؤقف اپنایا۔ اس سے یہ پیغام گیا کہ اسلام آباد بحران کو ہوا دینے نہیں، کم کرنے آیا ہے۔یہی دراصل ’’جال کاٹنے‘‘ کی حکمت ہے۔ پاکستان کے گرد برسوں سے کئی طرح کے دباؤ موجود رہے: بھارت کا دباؤ، افغان سرحدی مسائل، معاشی بحران، اور خطے کی غیر یقینی صورتِ حال۔ لیکن حالیہ بحران میں پاکستان نے کوشش کی کہ انہی دباؤ کو اپنی سفارتی اہمیت میں بدل دے۔ پاکستان کی موجودہ حکمتِ عملی خاموش سفارت کاری، متوازن بیانیہ اور درست وقت پر درست فریق سے رابطہ پر مبنی ہے۔یہی وہ اوزار ہیں جن سے ریاستیں دودھ کی نہریں کھودتی ہیں۔پاکستان کے لیے اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز سمت دے سکا، اگر جنگ بندی کو مستقل فریم ورک میں بدلنے میں مدد ملی اور اگر داخلی استحکام برقرار رہا، تو پاکستان کے عالمی تشخص کی نئی تشکیل ہوگی۔آج پاکستان کی اصل قوت صرف دفاعی صلاحیت نہیں، بلکہ تدبر، تحمل اور توازن ہے۔ یہی توازن اسے اپنے گرد بچھائے گئے سفارتی اور تزویراتی جال کو آہستہ آہستہ کاٹنے کی صلاحیت دے رہا ہے۔ شاید یہی اس دور کی سب سے بڑی ریاستی دانش ہے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم