اب جبکہ بلوچستان سے ملحق ہمسائیہ ایران حالت جنگ میں ہے تو کچھ لوگ پھر سے بلوچستان کے الحاق کو متنازع بنانے پر کمر بستہ ہیں۔بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے جب بھی قومی سطح پر کوئی تناؤ یا بدامنی جنم لیتی ہے، ایک مخصوص بیانیہ منظم انداز میں ابھارا جاتا ہے کہ یہ الحاق ’’جبری‘‘ تھا۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں اس بیانیے کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے تاریخ کا کوئی ناقابلِ تردید فیصلہ ہو، حالانکہ سنجیدہ تحقیق، دستاویزی شواہد اور برطانوی دور کے آئینی ڈھانچے جبر کے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ بیانیہ کیوں موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی جڑیں کہاں ہیں اور حقیقت کیا ہے۔ برطانوی ہند کے سیاسی نقشے کو سمجھے بغیر بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنا ممکن نہیں۔اس کے لئے پڑھنا پڑتا ہے۔کچھ بڑوں سے جاننا پڑتا ہے ۔کچھ سازشوں سے آگاہی درکار ہوتی ہے۔ بلوچستان، جیسا کہ آج ایک وحدت کی صورت میں نظر آتا ہے، درحقیقت مختلف انتظامی اکائیوں پر مشتمل تھا۔ ایک طرف ’’برطانوی بلوچستان‘‘ تھا، جس میں کوئٹہ، سبی، ژوب اور دیگر علاقے براہِ راست برطانوی انتظام میں تھے، دوسری طرف قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران جیسی نیم خودمختار ریاستیں تھیں، جو برطانوی تاج کی بالادستی کو تسلیم کرتی تھیں۔ ان ریاستوں کے دفاع اور خارجہ امور مکمل طور پر برطانوی کنٹرول میں تھے، اس لیے انہیں مکمل خودمختار ریاست قرار دینا تاریخی مغالطہ ہے۔ 1947 میں جب برصغیر کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو ’’انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ‘‘ کے تحت برطانوی حکومت نے واضح کر دیا تھا کہ تمام شاہی ریاستیں یا تو بھارت کے ساتھ الحاق کریں گی یا پاکستان کے ساتھ۔ آزاد رہنے کا کوئی واضح اور قابلِ عمل آپشن فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ یہ ایک بنیادی قانونی حقیقت ہے جسے نظرانداز کر کے آج کچھ لوگوں کی جانب سے ’’آزاد قلات‘‘ کا تصور پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت قلات کو کبھی ایک خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ بلوچستان کے بڑے حصے کا فیصلہ تو خانِ قلات کے دستخط سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔ 29 جون 1947 کو برطانوی بلوچستان کے شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی نے متفقہ طور پر پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ کسی دباؤ یا فوجی مداخلت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مقامی نمائندوں کی اجتماعی رائے کا اظہار تھا۔ اسی طرح مکران، لسبیلہ اور خاران جیسی ریاستوں نے مارچ 1948 تک رضاکارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ ان ریاستوں کے حکمرانوں نے اپنے سیاسی اور جغرافیائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا، نہ کہ کسی جبر کے تحت۔اس تناظر میں جب 27 مارچ 1948 کو خانِ قلات، میر احمد یار خان نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تو یہ ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک تسلسل کا منطقی انجام تھا۔ اس سے قبل طویل مذاکرات ہو چکے تھے، مختلف آپشنز پر غور کیا جا چکا تھا اور علاقائی حقیقتیں واضح ہو چکی تھیں۔ یہ کہنا کہ پاکستان نے قلات پر فوجی یلغار کر کے اسے زبردستی شامل کیا، نہ صرف تاریخی طور پر کمزور دعویٰ ہے بلکہ دستاویزی شواہد سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ قائداعظم محمد علی جناح کا کردار اس پورے عمل میں کلیدی تھا۔ وہ نہ صرف ایک وکیل کی حیثیت سے قلات ریاست کے قانونی مشیر رہ چکے تھے بلکہ انہوں نے ہمیشہ بلوچستان کو سیاسی اور آئینی حقوق دینے کی حمایت کی۔ ان کے چودہ نکات میں صوبائی خودمختاری پر زور اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ وفاق کو ایک جمہوری اور متوازن ڈھانچے میں دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قلات کے خان اور قائداعظم کے درمیان تعلقات محض سیاسی نہیں بلکہ ذاتی اعتماد پر بھی مبنی تھے۔ خانِ قلات کا انہیں’’والد‘‘ کے جیساکہنا اسی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بلوچستان کی جغرافیائی تکمیل 1958 میں اس وقت ہوئی جب پاکستان نے عمان سے گوادر کو خریدا۔ یہ ایک خالصتاً سفارتی اور مالی معاہدہ تھا، جس میں کسی قسم کی عسکری مداخلت شامل نہیں تھی۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرحدی اور علاقائی پالیسیوں میں قانونی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دی۔پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’جبری الحاق‘‘کا بیانیہ کہاں سے آیا؟ اس کا جواب سیاسی اور سماجی تناظر میں پوشیدہ ہے۔ بلوچستان میں وقتاً فوقتاً پائی جانے والی محرومیوں، ترقیاتی عدم توازن اور سیاسی شکایات کو بعض عناصر نے ایک تاریخی جواز دینے کی کوشش کی۔ یہ بیانیہ بعد کے عشروں میں تشکیل پایا، جس کا مقصد نہ صرف مقامی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے خلاف ایک مقدمہ تیار کرنا تھا۔ اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولیوشن کی رپورٹ اسی نکتے پر روشنی ڈالتی ہے کہ یہ بیانیہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جس میں تاریخی حقائق کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس مہم کو مزید تقویت دی ہے، جہاں آدھی سچائیاں اور مکمل جھوٹ ایک ہی شدت سے گردش کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں تحقیق اور مستند حوالہ جات کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ تاہم اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں احساسِ محرومی ایک حقیقت ہے اور اسے محض ’’پروپیگنڈا‘‘ کہہ کر رد کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، سیاسی شمولیت اور مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا وہ عوامل ہیں جو اس بیانیے کی جڑوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔ تاریخ کو درست کرنا ضروری ہے، مگر حال کو بہتر بنانا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ جامد نہیں ہوتی، بلکہ اس کی تعبیر وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ تعبیر کی بنیاد حقائق پر ہونی چاہیے، نہ کہ جذباتی نعروں یا سیاسی مفادات پر۔ بلوچستان کا الحاق ایک پیچیدہ تاریخی عمل تھا، جس میں قانونی، سیاسی اور جغرافیائی عوامل شامل تھے۔ اسے محض ’’جبر‘‘ یا ’’رضامندی‘‘ کے سادہ خانوں میں تقسیم کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو انتہاؤں سے بچنا ہوگا۔ ایک طرف وہ بیانیہ ہے جو ہر چیز کو سازش قرار دیتا ہے اور دوسری طرف وہ، جو ہر شکایت کو غلط سمجھتا ہے۔ سچ ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے اور اسی سچ تک پہنچنے کے لیے تحقیق، مکالمہ اور دیانتداری کی ضرورت ہے۔
119