مجھے گہرے سبز رنگ کے بڑے بڑے پتوں والے یہ پودے ہمیشہ سے بھاتے ہیں، بہت چھوٹا تھا ،گھر کے باہر کیاری بنا کر کچھ آلو بو دئیے ۔ان کی چشموں سے تھوڑے دن بعد ہی پتے پھوٹ نکلے۔پودے بڑھنے لگے۔اب نرم مٹی کو روز جڑوں کے ساتھ چمٹے آلو پر ڈال کر چھپاتا،اگلے دن آلو پھر باہر دکھائی دینے لگتا۔آلو کو بھون کر کھانا مجھے پسند رہا ہے، آج بھی یہ شوق پورا کر لیتا ہوں۔گزشتہ دنوں ہمارے دوست زوہیر رانا نے بتایا کہ آلو کے کسان پچھلے کئی سال سے کسی مسلسل امتحان سے گزر رہے ہیں۔ کبھی موسمیاتی شدت، کبھی کھاد اور ڈیزل کی قیمتیں، کبھی بیج مافیا اور اب منڈیوں کا اچانک ختم ہو جانا۔ آلو کے کاشتکاروں کی موجودہ بدحالی اسی طویل بحران کی تازہ کڑی ہے، جس میں حکومتی پالیسی کی غیر سنجیدگی اور وقتی فیصلوں نے محنت کش کسان کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ کہ آلو افغانستان اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک ایران کے راستے برآمد کیے جا سکتے ہیں، بظاہر ایک ریلیف دکھائی دیتا ہے، مگر عملی طور پر یہ ایک کاغذی تسلی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ایران کے راستے برآمدات نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ لاجسٹک رکاوٹیں، طویل فاصلہ، سرحدی پیچیدگیاں اور ایران سے تجارت پر عائد اضافی امریکی محصولات (25 فیصد) اس راستے کو معاشی طور پر ناقابلِ عمل بنا دیتے ہیں۔ یوں یہ اجازت کسان کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس بحران کی سنگینی کا اندازہ اس خبر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے کئی اضلاع میں کسان اپنی تیار فصل کو ہل چلا کر مٹی میں واپس ملا رہے ہیں۔ یہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی شکست ہے۔ کسان اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں فصل کاٹنے، ذخیرہ کرنے اور منڈی تک لانے کی لاگت، ممکنہ آمدن سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ منظر کسی ایک فصل یا ایک سال کا نہیں، بلکہ زرعی پالیسی کی مجموعی ناکامی کا علامتی اظہار ہے۔ آلو پاکستان کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سبزی ہے،کھانے، رقبے اور پیداوار تینوں کے لحاظ سے۔میرے سامنے پڑی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2023 میں پاکستان نے 140 ملین ڈالر کے آلو برآمد کیے، جن میں سے 41 فیصد آلوافغانستان گیا۔ 2024 میں بھی برآمدات کی مالیت تقریباً 138 ملین ڈالر رہی اور 42 فیصد حصہ ایک بار پھر افغانستان نے خریدا۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ افغانستان محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ پاکستان کی آلو کی سب سے بڑی اور قدرتی منڈی ہے۔ سرحد بند ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اچانک ایک ایسی منڈی ختم ہو گئی جس کا متبادل نہ حکومت نے پہلے سوچا، نہ بعد میں ڈھونڈا۔افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش کو حکومت سکیورٹی خدشات سے جوڑتی ہے اور یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی فیصلے صرف ایک زاویے سے کیے جائیں گے؟ کیا معیشت، روزگار اور لاکھوں افراد کے روزی روٹی کے اثرات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ پالیسی سازی کا بنیادی اصول یہی ہوتا ہے کہ سکیورٹی اور معیشت کو توازن میں رکھا جائے، نہ کہ ایک کو قربان کر کے دوسرے کا نام لیا جائے۔افغانستان کے ساتھ معاملات کئی ماہ سے بندش میں ہیں اس دوران حکومت کو چاہئیے تھا کہ اپنے کسانوں کے لئے متبادل منڈیوں کو تلاش کرتی۔آخر یہ وزارت تجارت ،خارجہ اور سرمایہ کاری کس مرض کی دوا ہیں۔ پچھلے برسوں میں کسان پہلے ہی غیر معمولی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ کھاد کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہوئیں، بجلی اور ڈیزل مہنگا ہوا، ٹیوب ویل چلانا مشکل تر ہوتا گیا، موسمیاتی تبدیلی نے پیداوار کو سکوڑ ددیا، اوپر سے منڈی کا نظام بدستور استحصالی رہا۔ آڑھتی آج بھی طاقتور ہے، کسان آج بھی کمزور۔ حکومت نے کبھی سپورٹ پرائس کا مؤثر نظام دیا، نہ فصلوں کے لیے قابلِ اعتماد انشورنس سکیم متعارف کروائی، نہ ہی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے پر توجہ کی۔ آلو کے موجودہ بحران نے پاکستان کے زرعی برآمدی ماڈل کی اصل کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ ماڈل ردِعمل پر مبنی ہے، حکمتِ عملی پر نہیں۔ جب منڈی چل رہی ہو تو سب ٹھیک اور جب بند ہو جائے تو ہنگامی اجازت نامے، وقتی سبسڈی کے مطالبے اور غیر حقیقی راستوں کی تلاش۔ پنجاب کے کاشتکاروں کا برآمدی سبسڈی کا مطالبہ اسی مجبوری کا اظہار ہے، مگر سبسڈی بھی مستقل حل نہیں ہوتی، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں خزانے کی حالت پہلے ہی اشرافیہ کی وجہ سے کمزور ہو۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے زرعی منڈیوں کی منصوبہ بندی کبھی سنجیدگی سے نہیں کی۔ نہ وسطی ایشیا کے لیے متبادل زمینی راستوں پر پیشگی سرمایہ کاری کی گئی، نہ کولڈ سٹوریج اور ویلیو ایڈیشن کی صلاحیت بڑھائی گئی، نہ کسان کو یہ اعتماد دیا گیا کہ ریاست اس کیساتھ کھڑی ہے۔ اگر آلو کی پروسیسنگ، نشاستہ (سٹارچ) اور فریزڈ مصنوعات کی صنعت وقت پر فروغ پاتی تو آج اضافی پیداوار بوجھ کے بجائے موقع بن سکتی تھی،میں کئی فکری مجلسوں میں یہ کہتا آ رہا ہوں۔ ایران کے راستے برآمدات کی اجازت دراصل اس اعتراف کے مترادف ہے کہ افغان سرحد کی بندش نے معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ نقصان واضح ہے تو پھر اس کا مستقل حل کیوں نہیں سوچا جا رہا؟ ہزاروں خاندان افغانستان کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتے ہیں، مگر اسلام آباد کے پاس ان کے لیے کوئی جامع فریم ورک موجود نہیں۔ ہر بحران کے بعد ایک عارضی فیصلہ اور پھر خاموشی۔کسان کا مسئلہ صرف آلو تک محدود نہیں۔ گندم، گنا، کپاس، سب اسی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ کبھی درآمد کھول دی جاتی ہے، کبھی برآمد روک دی جاتی ہے اور کبھی قیمتیں اچانک آزاد کر دی جاتی ہیں۔جو گندم کسان سے تئیس سو روپے میں خریدی جا رہی تھی اب وہ پانچ ہزار روپے من بک رہی ہے۔ پالیسی میںعدم تسلسل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ کسان اگلے سیزن کے لیے منصوبہ بندی ہی نہیں کر پاتا۔ وہ نہیں جانتا کہ جو فصل آج فائدہ دے رہی ہے، کل حکومت کی کسی نوٹیفکیشن کی نذر تو نہیں ہو جائے گی۔اگر حکومت واقعی زرعی معیشت کو سنجیدہ لیتی ہے تو اسے ایڈہاک ازم سے نکلنا ہو گا۔ افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے واضح، طویل المدتی پالیسی، وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی کے منصوبے، لاجسٹک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور کسان کے لیے قیمتوں کا قابلِ پیش گوئی نظام ناگزیر ہے۔ بصورتِ دیگر، آلو آج زمین میں دفن ہو رہا ہے، کل کوئی اور فصل ہو گی اور کسان کا اعتماد ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔ یہ بحران محض آلو کا نہیں، یہ پالیسی کی کاشت اور غفلت کی فصل کا نتیجہ ہے۔ جب تک حکومت کسان کو محض ایک عددی اکائی نہیں بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھ کر پالیسی نہیں بنائے گی، تب تک پاکستان کی سب سے بڑی آلو منڈی بند ہی نہیں، ہماری زرعی سوچ بھی بند گلی میں پھنسی رہے گی۔
179