ہمارے بہت سے تجزیہ نگار مایوس کن جائزے پیش فرما رہے ہیں کہ "دیکھیں جی پاکستانی قیادت کی اتنی کوششوں کے باوجود ، ایرانیوں نے امریکا سے مکالمےکیلئے اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجنے سے انکار کر دیا ہے نتیجتاً امریکی ڈیلیگیشن بھی نہیں آیا ہماری تیاریاں تو دھری کی دھری رہ گئیں۔" درویش کی نظروں میں یہ قطعی منفی رپورٹنگ ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قیادت نے ورلڈ ڈپلومیسی کے میدان میں اپنا قد کاٹھ پوری کامیابی کے ساتھ اونچا کیاہے۔ ہمارا اصل مدعا دوسرا مذاکراتی راؤنڈ کروانا نہیں، ایران امریکا جنگ کا اگلا راؤنڈ رکوانا تھا جس میں الحمد للہ ہم سرخرو ہوئے ہیں جسکا پورا کریڈٹ خود امریکی صدر ٹرمپ نے پرائم منسٹرشہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے نام لے کر پاکستانی قیادت کو دیا ہے کہ ان دونوں کی درخواست پر میں نے اپنی فورسز کو حملوں سے روک دیا ہے تاکہ ایرانی قیادت میں اندرونی طور پر اس حوالے سے جو ابہام پایا جاتا ہے وہ اسے دور کرتے ہوئے کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکیں ،تاہم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی امریکا اس وقت مذاکرات کیلئے انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ دوسری طرف ایرانی قیادت نے ڈائیلاگ کیلئے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہارنے والا فریق شرائط عائد نہیں کر سکتا ٹرمپ نے خود ہی یکطرفہ طور پر سیز فائر میں توسیع کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑی تو ہم خطے میں تیل کی تنصیبات کو تباہ کر دیں گے، دیکھا جائے تویہ ایرانی انتباہ امریکا سےزیادہ خلیجی ریاستوں کیلئے ہے۔ البتہ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی افواج کا ایرانی آئل ٹینکر پر قبضہ اعلانِ جنگ کے مترادف ہے اور ہم اس بدمعاشی کا مقابلہ کریں گے۔ کس طرح کریں گے؟ انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی البتہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے چیف نے یہ کہا ہے کہ ہم نے پہلے سے زیادہ اسلحہ و بارود ذخیرہ کر لیا ہے۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ امریکی نیوی نے ایرانی تیل چین پہنچا کر واپس آنے والے جس جہاز کو پکڑا بقول ٹرمپ اس جہاز میں چین کی طرف سے ایران کیلئے تحائف تھے۔ انہوں نے چینی ساختہ ہتھیاروں کو تحائف کہہ کر بات کو نرم انداز میں پیش کیا کہ وہ چند روز بعد چین کے دورے پر بیجنگ جانے والے ہیں۔درویش یہاں ایرانی اندرونی کشمکش کے حوالے سے ایک باریک نکتہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ دیگر مسلم معاشروں کی طرح ایرانی معاشرے میں بھی جدت و قدامت پسندی کی تقسیم خاصی شدید ہے، بالخصوص گزشتہ سینتالیس برسوں میں یہ خلیج بتدریج وسیع ہو چکی ہے۔ جن احباب نے شاہ کے دور کا ایران ملاحظہ کر رکھا ہے وہ خمینی کے ایران سے اس کا تقابلی جائزہ کریں تو واضح ہوگا کہ انسانی سماج یا سوسائٹی میں تبدیلیوں کا سفر اتنی برق رفتاری سے ہونا ممکن نہیں سوائے اس کے کہ سماج کو اپنی من مرضی کا دکھایا جائے، ایسی تبدیلی ہمیشہ حقیقی کی بجائے مصنوعی ثابت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے بیشتر راسخ العقیدہ لوگ ڈیموکریسی یا عوامی ساورنٹی کو بہ نظر تحسین نہیں دیکھتے۔ چاہے ڈیموکریسی نے اسی فیصد عوامی ووٹ کا مینڈیٹ ہی کیوں نہ لیا ہو، اگر کسی نے سر اٹھانے کی جسارت کی تو وہ قابل گردن زدنی قرار پایا۔ یہ ایک طویل دردناک کہانی ہے اور یہی ایرانی وفدکے اسلام آباد نہ آنے کا کارن ہے۔ حالات سے باخبر لوگ بخوبی آگاہ ہوں گے، بنی صدر، رفسنجانی، روحانی یا خاتمی کو تو چھوڑیں، موجودہ منتخب ایرانی صدر مسعود پزشکیان جو نو کروڑ ایرانی عوام کے منتخب نمائندے ہیں کو اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ اہم ایشو پرخالص قومی مفاد میں کوئی ٹھوس قدم اٹھا سکیں۔ ابھی کل کی بات ہے، جب ہمسایہ عرب خلیجی مسلم ممالک پر ایرانی میزائلوں سے تباہی ہوئی، ایرانی صدر نے اس پر عرب ممالک سے معافی مانگتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ ہم آپ لوگوں کے خلاف آئندہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ فوری طور پر انہیں نہ صرف اپنا بیان واپس لینے پر مجبور کر دیا گیا بلکہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات پر نئے میزائل داغ دیئے گئے۔ پاکستان کی بھرپور سفارتکاری پر بہت سے معاملات درست ہوئے تو اسی روا روی میں ایرانی فارن منسٹر عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا لیکن اگلے ہی روز سٹریٹ آف ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ۔بلا شبہ ہمارے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نےقابل تحسین سفارتکاری کرتے ہوئے تہران میں تین روز نہ صرف سیاسی قیادت سے بلکہ خاتم النبین مرکز سے لے کر اسلامی پاسداران انقلاب کے لیڈران تک، سبھی سے گفتگو شنید کی۔ ایرانی عوام کے دائمی مفادات کی خاطر امن معاہدے کی افادیت واضح کی، اچھی خاصی یکسوئی دکھائی دی لیکن کیا کہا جائے، وہی اصرارکہ ہم تو جیتے ہوئے ہیں۔ غیر جانبداری و سچائی کے ساتھ ملاحظہ فرمالیں، کیا واقعی آپ جیتے ہوئے ہیں؟ انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا،اول درجے کی قیادت رخصت ہوچکی، قدرتی وسائل سے مالا مال عظیم ایرانی قوم غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے سٹریٹ آف ہرمز کا جو واحد ہتھیار بچا تھا امریکی ناکہ بندی نے اسے بھی بالفعل ناکارہ بنا ڈالا ہے آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں افزودہ یورینیم ایرانی سرزمین جتنا عزیز ہے اس پر سودا نہیں ہو سکتا، نہ کریں لیکن اس کی جو قیمت چکانی پڑ رہی ہے پھر اس کا دکھ بھی نہ کریں ، آپ کو ادراک ہی نہیں کہ آپ لوگوں نے اسلام آباد نہ پہنچ کر امن معاہدہ نہ کرتے ہوئے ایرانی عوام کا کتنا نقصان کیا ہے امریکیوں کا کیا بگڑے گا یکطرفہ جنگ بندی کرتے ہوئے وہ آپ پر معاشی قدغنیں مزید سخت کردیں گے، وہ سٹریٹ آف ہرمز میں آپ کی معاشی شاہ رگ دبوچ چکے، امن معاہدہ کرتے ہوئے آپ لوگوں نے منجمد بیس ارب ڈالرز کے علاوہ ایرانی عوام کیلئے جو اربوں ڈالر کے فائدے معاشی حوالے سے لینے تھے وہ سب غارت ہو جائیں گے اتنی زیادہ تنگیاں جھیل کر بالآخر آنا پھر بھی مذاکرات اور امن معاہدے پر ہی ہے بلکہ شاید زیادہ سخت شرائط قبول کرتے ہوئے تو پھر ابھی مذاکرات کیوں نہیں ؟ ٹرمپ تو جیسا بھی احمق یا گیا گزرا ہے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر تو آپ کے ساتھ مخلص ہیں۔ ہم پاکستانی ایرانی بھائیوں سے بےحد محبت کرتے ہیں آپ کی تہذیبی عظمتوں کے گیت گاتے ہیں آپ کی ترقی و خوشحالی کیلئے دعا گو ہیں، یہ ہاتھ پھولوں کی بجائے بارود کی طرف ہرگز نہیں بڑھنے چاہئیں۔
8