362

۲۳ خاندان اور تیسری دُنیا

دُنیا میں جہاں انسان کو چِپ کے زریعے کنٹرول کرنے کی جنگ جاری ہے اُسی دُنیا میں آج بھی بہت سے ممالک کی اکثریت غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگیاں گُزارنے پہ مجبور ہے کیا یہ خدائی قانون ہے کے غریب ہمیشہ غربت میں ہی رہے گا؟نہیں یہ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون ہیں جس میں امیر اُن بلندیوں کو چھو رہا ہے جو نیلے آسمان کو بھی مات دے رہی ہیں اور غریب ممالک میں آج بھی بچے بغیر لباس کہ پھر رہے ہیں۔
کیپٹیل ازم جو آج مکمل طور پہ ناکام ہوگیا ہے جہاں دُنیا کے ۸۰ فیصد وسائل پر ۲۳ خاندان قابض ہیں۔کیپٹل ازم کے پیروکاراوں نے وسائل کو ہتھیانے کے لیے ٹیکنالوجی اور ترقی کی ٹرم کو  استعمال کرتے ہوئے غریب ممالک کے وسائلُ پر قابض ہوتے  ہوئے انہی کے وسائل پر قرض دار بنا دیا جن ممالک میں آج بھی بچے بھوک سے مر جاتے ہیں اور جو زندہ بچ جائیں وہ پیدائشی مقروض ٹھرتے ہیں۔پھر ان ممالک کی قوموں کے نشخص اور غیرتوں کو بھی نیلام کیا گیا یوں تیسری دُنیا کے ممالک کو ہر طرف سے مفلوج کر کے اُن پر حکم صادر کرنے اور احکامات ماننے کا پابند بنا دیا گیا۔اس نظام میں ہر ممکن کوشش کر کے تیسری دُنیا کے لیڈرز کا صفایا کیا اور پھر اپنے پلان میں ردوبدل کر کے اس بات کا آج تک حاص خیال رکھا گیا کہ تیسری دُنیا میں کوئی لیڈرشب قائم نا ہو سکے اپنے پلان کے مطابق انہوں نے تیسری دُنیا کو اپنا غلام بنانے اور اجارہداری کو قائم رکھنے کے لیے اس بات کا خصوصی خیال رکھا کہ تیسری دُنیا میں اب کوئی سویکارنو،زُلفی بھٹو،ایندرھا گاندھی،معمر قزافی،شاہ فیصل،یاسر عرافات،نیلسن منڈیلا،فیدرل کاسترو اور چےگویرا پیدا نا ہو سکیں  تاکہ تیسری دُنیا میں پیدا ہونے والا بچہ ان کی نسلوں کا بھی غلام رہ سکے۔
انسانی معاشرہ آج تباہی کے دہانے پرہے کیونکہ جہاں پر مساوات کے اصول کو نظرانداز کر دیا جائے،وسائل کو غیرمنصفانہ تقسیم کیا جاے،اخلاقی اور معاشی اقدار کو بھلاتے ہوئے طبقات کو جنم دیا جائے،انسانیت کے نام پر اجارہداری اور ظلم کی پشت پناہی کی جائے،اور جہاں من مرضی کا قانون رائج ہو وہاں دُنیا کا توازن برقرار رکھنا ناممکن ہے۔
آج کی اس دوڑ میں دُنیا کو وبا کا سامنا ہے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں مگر ستم کے مارے اس دُنیا میں سُرخی بھی تب تک نہیں بنتی جب تک کوئی چیز امراء کو متاثر نا کرے خیر کشمیر میں مظلوموں کی چیخیں،برما کے لوگوں کا تڑپنا فلسطین کے لوگوں کی آہ زاری، شام کے لوگوں کی سسکیاں ناخُداؤں کی محفل یونائیٹیڈ نیشن تک تو نا پہنچ سکی مگر لگتا ہے اس زات نے سُن لی جو خالق بھی ہے مالک بھی ہے اور یکتا بھی۔
 

بشکریہ اردو کالمز