سیاسی بیبیاں 879

سیاسی بیبیاں

گزشتہ دن سے خبروں اور سوشل میڈیا میں کہیں کہیں پی ٹی آئی کی رکن پنجاب اسمبلی عظمی کاردار صاحبہ کی اڈیو کال موضوع بحث بنی رہی، میں عظمی کاردار صاحبہ کے جواب صفائی کے انتظار میں تھی کہ وہ اپنے دفاع میں کیا کہیں گی اور کسطرح سےکریں گیں۔ عظمی صاحبہ کے جواب صفائی سے ایک بات تو واضح ھو گئی ہے عورت چاہے جس بھی درجے پر فائز ھو ، اپنی صفائی ،ایثار، قربانی اور وفاؤں کا یقین آنسوؤں کے زریعے ہی دلاے گی، اسکے ساتھ ہی مجھے آج سے چند سال پہلے سابق رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر محترمہ فردوس عاشق اعوان  صاحبہ کی وہ وڈیو یاد آگئی جس میں کم و بیش اسی طرح کے حالات میں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان اور کابینہ کے اجلاس میں استعفعی دیتے ھوے اسطرح کے جذبات اور احساسات کے ساتھ گلو گیر آواز میں اپنے اندورنی جذبات، خلفشار، اور وفاوں کا یقین دلا رہی تھیں۔

مجھے اعتراض انکی وفاوں ،جذبات اور انکی سیاسی وابستگیوں  یا ان میں پیدا ھونے والے شکوک و شبہات پر نہیں ہے، اصل نقظہ یہ ہے کہ قانون ساز اداروں میں بیٹھی ھوئی تمام خواتین کسی بھی سیاسی تعلق سے بالا تر ھو کےھم جیسی عام گھریلو، سماجی، مالی اور معاشرتی طور پر فعال اور مستحکم خواتین کے لیے رول ماڈل کی حثیت رکھتی ہیں۔ اور ھماری ھمت اور حوصلہ بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ اور ایک بات تو ھمیشہ سے عیاں ھے خواتین جس مقام پر کام کر رہی ھوں وہ محنت اور لگن کے ساتھ اپنی زمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہیں ، جبکہ ھمارے معاشرے میں ہر سطح پر خواتین کے کام کرنے کی صلاحیتوں کے حوالےسے عام تا ثر یہی پایا جاتا ہے،

( کوٹہ پر ائی ہیں، خانہ پوری کے لئے رکھی ھوئی ہیں،  میک اپ اور فیشن شو کے لیے آتی ہیں، اور اپنے خاتون ھونے کا فاہیدہ اٹھاتی ہیں وغیرہ وغیرہ)۔

اور اسطرح کے رویوں کا سامنا ھماری ہر درجے اور سطح پر کام کرنے والی خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم گزشتہ دو سالوں کے دوران  ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز اور قانون ساز اداروں کے اجلاس کی کاروایوں کا جائزہ لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ھماری تمام معزز خواتین ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پوری تیاری، ھوم ورک ، اعداد و شمار،دلائل اور ثبوت کے ساتھ اپنی بات کا اظہار کر رہی ھوں گی۔ کسی بھی مقام پر ان خواتین کو ھوائی قلعوں کی باتیں کرتے ھوئے نہیں پاہیں گے ، چاہے وہ شازیہ مری، عظمی بخاری، عالیہ حمزہ ملک، ناز بلوچ، شیری رحمن، ،مائیزہ حمید ، شرمیلا فاروقی، زرتاج گل، نفیسہ شاہ، مریم اورنگزیب، شہلا رضا، عظمی کاردار، حنا پرویز بٹ میں سے کوئی بھی ھو، اپنے موقف کو دلائل اور گراونڈ ورکنگ کے ساتھ پیش کر رہی ھو نگی ، انکے برعکس مرد حضرات سیاسی و شخصی عیقدت کے تناظر میں اپنا یا جماعت کا موقف بیان کر رہے ھونگے۔ جس سےاس امر کا کھل کا اظہار ھوتا ہے یہ خواتین اپنی کام کرنے کی صلاحیت کو بروےکار لاتے ھوے محنت سے اپنے اپکو منوانا چاہتی ہیں۔

جہانتک عظمی کاردار صاحبہ کی آڈیو ریکارڈنگ کی بات ہے تو اس میں بہت سے امور کا کھل کر اظہار ھو گیا ہے، (میرا عظمی صاحبہ کی بات چیت اور اس میں بیان کیے ھوے مواد سے کوئی سروکار نہیں ہے)۔ اس ریکارڈنگ  سے ایک بات کھل کر سامنے آگئ ہے کہ نوئے کی دھائی سے ھم یہی سنتے آئے ہیں کہ ایجنسیاں فون ٹیپ کرتی ہیں، لیکن اب موبائل فون نے یہ سہولت اور اختیار عام کر دیا ھے کہ کوئی بھی کسی بھی وقت اس اختیار کو کسی کے خلاف بھی بے دریغ استعمال کر سکتاہے۔ اور اس اختیار کے استعمال کرنے پر اس سے کوئی باز پرس بھی نہیں کی جاہیگی۔

دوسرا، اس بات کا اظہار ھوا ہے اپنےپیشہ وارنہ امور میں انتہائی  قریبی عزیز و اقارب، دوست احباب کے سامنے بھی کسی امر پر لب کشائی نہ کریں، بصورت دیگر روتے ھوئے اپنی وفاؤں کا یقین دلانا پڑے گا۔اب عظمی صاحبہ جس طرح سے بات کر رہی تھیں اس سے صاف ظاہر ھو رہا ہے سننے والا/والی انتہائی قرابت کے درجے کی حامل ہیں۔یہ تو عظمی کاردار صاحبہ ہی بتا سکتی ہیں وہ کس کے ساتھ اپنے اصلی جذبات کا کھل کر اظہار کر رہی تھیں۔ ھمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ھم اصل قصوروار کو چھوڑ دیتے ہیں، باقی معاملے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو ریکارڈنگ کو منظر عام پر لانے والے/والی کی نیت اور مذموم مقاصد کا تعین بھی ھونا چاہیے،کیونکہ نیت کا واضح اظہار ھو رہا ہے کہ ایک فریق کوفریبانہ نقصان پہنچا کر دوسرے فریق کو اپنی  چال بازوفاؤں کا یقین دلا کر مفاد حاصل کرنا ہے۔ اور ایسا شخص کسی طور بھی لائق اعتبار نہیں ھو سکتا۔  

تیسرا، اس امر کا اظہار ھوتا ہے جب تک ھماری سیاسی جماعتوں میں ان کے قائدین کی اندھی  شخصیت پرستی ،انکے آمرنہ رویوں کی پوجا ، انکے اہل خانہ سے دلی عیقدت اور ہر طرح کے معاملے پر زبان بندی کو اولین ترجیحات میں نہیں رکھا جاہیگا اس وقت تک جماعت میں اپکو نمایاں مقام حاصل نہیں ھو گا، اور یہ طریقہ کار ھماری تینوں پڑٰی سیاسی جماعتوں میں واضح عیاں ھوتا ہے،جو خود کو کہتی تو جمہوریت پسند ہیں لیکن جماعت کے طریقہ کار میں نقائص کی نشاندہی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ جب جماعت کے اندونی اجلاسوں میں تمام اراکین کو یکساں مواقع نہیں دیے جاہینگے انکے موقف کو سنا نہیں جاہیگا تو پھر ان اراکین نے اپنے نجی یا زاتی حلقوں میں اپنے موقف کا اظہار تو کرناہی ہے، اور جسکا فاہیدہ دوستی یا رشتہ داری کے پردے چھپے ھوۓ کوئی بھی موقع پرست اٹھا سکتا ہے۔ جس نے بھی ریکارڈنگ عام کرنے کی حرکت کی ہے یہ کسی بھی طور لایق تحسین نہیں ہے۔

ھماری سیاسی جماعتیں کسی بھی معاملے میں خواتین ممبران کو تو بڑے آرام سے دیوار کے ساتھ لگا دیتے ہیں لیکن کسی مرد ممبر کے خلاف اس خوف سے اس  طرح کی کاروائی نہیں کرتے کہ اگر اسکو عہدے سے ہٹایاگیا یا دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی گئی تو نجانے کتنے ممبران اسمبلی توڑ کر اپنے ساتھ لے جاہیگا، اور اسکی واضح مثال چینی سکینڈل میں نام آنے کے باوجود نہ تو کسی کو قصووار گردانا گیا ، نہ ہی کسی کو عہدے سے ہٹایا گیا، بلکہ پہلے زیادہ بہتر عہدوں پر لے جایا گیا۔ 

اور میرے لیے سب سے حوصلہ شکنی کی بات  خواتین کا روتے ھوئے اپنا موقف بیان کرنا یا صفائی دینا ہے، ھمارے اس نظام میں سب کچھ منظر عام پر آنے کے باوجود کبھی کسی سیاسی، غیر سیاسی یا مذہبی فرد نے روتے ھوئے اپنی صفائی تو نہیں دی، جھانگیر ترین صاحب کو لیں، نہ الزام/جرم قبول کیا ، نہ کسی کو صفائی دی اور نہ کسی کو اپنی وفاؤں کا یقین دلانے کی ضرورت محسوس کی، مفتی عبدالقوی صاحب کو لیں ، ایک شخص کی وجہ سے ایک انسان زندگی سے محروم ھو گیا، انھوں نے تو کسی بھی سطح پر اپنے جذبات/ غلطی کو قبول نہیں کیا،اور نہ ہی شرمندگی کا اظہار کیا، اس طرح کی بشمار مثالیں ھمارے سامنے موجود ہیں جہاں پر عہدوں سے ہٹائے جانے پر زیادہ بہتر طریقے سے اپنا دفاع کیا گیا اور موقف کو پیش کیا گیا۔  اسلیے ھماری ممبران کو اپنا مقام منوانے کے لیے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خاں اور بیگم شائستہ ھدایت اللہ جیسا پروقار، بلند حوصلہ اور چٹانوں جیسے مضبوظ عزائم رکھنے ھوں گے۔ اور اپنی دفاعی جنگ آنسوؤں کے بجائے ٹھوس حکمت عملی سے لڑنی ھو گی۔

(یہ کالم کسی بھی قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ھو کر تحریر کیا گیا ہے۔)

بشکریہ اردو کالمز