ھماری آزادی کی جدو جہد کی کہانی                                      961

ھماری آزادی کی جدو جہد کی کہانی                                     

میری نسل کا تعلق قیام پاکستان کے بعد سے چوتھی نسل سے ہے، ھم وہ لوگ ہیں جنھیں تدریسی نصاب میں جنگ آزادی ، ایسٹ انڈیا کمپنی ،تحریک آزادی ، قیام کانگرس ،سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی،  موھنداس کرم چند گاندھی ،پنڈت جواہر لال نہرو، قیام مسلم لیگ ،  تحریک پاکستان، واسرائے ھند، لکھنو پیکٹ، گول میز کانفرسز، 14 نکات، 1934 کے انتحابات اور بالآخر قیام پاکستان 14 اگست 1947 کے بارے تفصیلی آگاہی دی گئی ھے۔اور یہ شعور دیا گیا کہ یہ ملک اتنی آسانی سے قائم نہیں ھوا ، بلکہ اس کے قیام  میں  مال، عزت، جان اور بے بہا خون کی قربانی دی گئی ھے۔
اس ساری جدو جہد میں ھماری خواتین کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں رہی ہیں۔محترمہ فاطمہ جناح سے لیکر آج تک کی ھماری سیاسی عہدیدارن کی جدوجہد کا مختصر زکر کر کے ان تمام عظیم ہستیوں کو خراج عقیدت پیش کروں گی جنھوں اپنا گزرا ھوا کل ھمارے آج کو محفوظ ، پر تحفظ  اور پروقار بنانے میں صرف کیا۔
محترمہ فاطمہ جناح نہ صرف تحریک پاکستان میں محمد علی جناح کے شانہ بشانہ رہی بلکہ قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آباد کاری میں بھی پیش پیش رہیں۔ 1964 میں خواجہ ناظم الدین کی وفات کے بعد اس وقت کی حزب مخالف کی جماعتوں نے متحدہ طور پر صدارتی امیدوار کے لیے بھی نامزد کیا۔ جسے بعد میں اس وقت کی جماعت اسلامی کی تایئد بھی حاصل ھو گئی۔
1948 میں آزادی کے فوری بعد اس وقت کی دستور ساز اسمبلی میں محترمہ شائستہ اکرام اللہ اور بیگم جہاں آرا شاہنواز نے اپنی محنت، اور کام سے لگن کے  باعث نمایاں مقام حاصل کیا، ان خواتین نے پہلی بار پاکستان  کے جاگیر دارانہ نظام میں شریعت کے مطابق جائیداد میں خواتین کا شرعی و قانونی حق مقرر کرنے کے لئے  نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ اس پر تمامتر دستاویزی کام بھی مکمل کیا۔  جسے 1951 میں باقاعدہ قانونی حثیت دے دی گئی۔
1955 میں محمد علی بوگرہ کی دوسری شادی کے نتیجے میں خواتین کے عائلی حقوق اور بلا اجازت دوسری شادی کے خلاف  تحفظ کے لیےبیگم جہاں آرا شاہنواز کی سربراہی میں یونائیٹیڈ فرنٹ آن وویمن رائٹس فورم قائم کیا گیا۔ APWA اورUFWR کی جدوجہد کے نتیجےمیں اس وقت کی حکومت نے چیف جسٹس جناب جسٹس راشد  سپریم کورٹ آف پاکستان کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جس کے زمہ شادی، طلاق، نان و نفقہ  اور بچوں کی خضانت  کے معاملات میں اس وقت کے قوانین  کا تفصیلی مطالعہ اور انکو اسلامی احکامات و ھدایات کے مبطابق ڈھالنے کے لیے تجاویز مرتب کرنے کےلیے کمیشن قائم کیا۔ جس نے 1956 میں تفصیلی رپورٹ جمع کروائی۔ جس میں مولانا احتشام الحق تھانوی کا اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔1961 کے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس کی بنیاد میں یہی جدوجہد اور رپورٹ کے نتائج شامل تھے۔  
 بیگم جہاں آرا شاہنواز نے یونایٹیڈ  فرنٹ آن وویمن  رائٹس  کے چارٹر میں مسلم عائلی قوانین کے علاوہ خواتین کے لئے مساوی مقام، مواقع، کام اور اجرت کو بھی شامل کیا، جسے سر ظفراللہ کی مخالفت کے باوجود دستور ساز اسمبلی نے اکثریت کےساتھ منظور کیا۔ جبکہ اس وقت برطانیہ کے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں اپنی خواتین کو مساوی کام و اجرت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس چارٹر کی منظوری پارلیمانی خواتین کی جدو جہد کے نتیجے میں مجموعی طور  پر خواتین  کے تحفظ کی طرف اہم قدم تھا۔
1956 میں پہلے دستور کی منظوری میں ایک اور اہم قدم خواتین کے لیے خصوصی علاقائی حلقہ بندیوں کے لحاظ سے مخصوص نشستوں  کا کوٹہ مقررکرنا تھا ، جن میں خواتین کو ووٹ کا دوہرا حق حاصل تھا، ایک حق عام نشت کےلیے اور ایک مخصوص نشست کےلیے  حاصل تھا۔ تاہم بعد میں 1962 کے آئین کے تحت اس حق کو ختم کر دیاگیا۔
  1970 میں جناب زوالفقعارعلی بھٹو کی الیکشن  مہم خواتین کو نئی توانائی اور جلا بحشی ، انکے نعرہ "روٹی، کپڑہ اور مکان " نے خواتین کونئے سرے سے متحرک کیا اور پہلی دفعہ انھیں اپنی مرضی کے نماہئندہ کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ھوا۔ یہ بنیادی سطح پر خواتین کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے اور اس میں شامل کرنے کی طرف اہم ترین پیش رفت تھی۔1970 کی دستور سازی کی کمیٹی میں بیگم اشرف عباسی اور بیگم نسیم جہاں نے ویسے ہی فعال کردار ادا کیا جیسے 1956 میں بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بیگم جہاں آرا شاہنواز نے ادا کیا تھا۔
1973 کے آیئن میں بلا مذہب، رنگ، نسل و زبان کے صنفی مساوات کو قائم کیا گیا۔ خواتین کو مقامی  و قومی سیاسی اداروں میں نمائندگی کئے لیے کوٹہ مقرر کیا گیا۔ اور خواتین کو قومی زندگی کے دائرہ میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گئے، جن میں قانون ساز اداروں میں بلاواسطہ انتحاب کے زریعے خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا قیام اور  خواتین کو  مقابلے کی اعلی ملازمتوں میں اپنی قابلیت و صلاحیتوں کے بل بوتے پر شامل کرنے کےلیے عملی اقدامات کیے گئے۔
1977 کے بعد قائم  کردہ حکومت کے دور میں خواتین کے کرداروں کو بہت حد تک محدود کرتے ھوئے مختلف پابندیوں اور شرائط کے تابع کر دیا گیا ۔ رہی کسر زنا آرڈیننس، حدود آرڈیینس، قذف، زنا بلجبر، قانون شہادت آرڈیینس اور عورت کی گواہی کے معاملات نے خواتین کے حقوق اور انکے لیے کی گئی جدوجہد کی   بدترین حوصلہ شکنی کی ۔ لیکن ان تمام حالات کے باوجود وویمن ایکشن فورم نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی بلکہ اس دور کے بعد بھی ابھی تک جاری و ساری رکھی ہے۔
1986 میں محترمہ بینظر بھٹو اور محترمہ نصرت بھٹو نے بحثیت خواتین سیاست کو نئے اسلوب و انداز سے روشناس کروایا۔ محترمہ بینظیر  بھٹو کی سیاسی جدوجہد، کردارو  شخصیت  پر کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہیں۔ انکا نام اور جدوجہد دنیا کی سیاست میں ھمیشہ ہر درجے کی خواتین کے لیے ہمت، بلند حوصلہ اور چٹانوٰں جیسی مضبوطی کا استعارہ بن کر حوصلے بڑھاتی رہے گی۔
اسی دور کی سیاسی خواتین بیگم نسیم ولی خان ، بیگم عابدہ حسین اور بیگم تحمینہ دولتانہ کے کرداروں کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، یہ کردار اور ہستیاں بھی ھم خواتین کے لئے مشعل راہ کے حثیت رکھتی ہیں ۔
2002 کے الیکشن کے بعد ، اس وقت کی حکومت نے خواتین کی انفرادی حثیت کو تسلیم کرتے ھوئے انکی قانون ساز اداروں میں بلترتیب بلواسطہ اور بلاواسطہ نمایندگی 20 ٪ اور  33٪  تک بڑھایا گیا۔ اسی دور میں خواتین کی سیاسی شمولیت کے عنوان سے قومی کانفرس کا انعقاد کیاگیا،اس دور میں حکومتی اور حزب مخالف دونوں طرف کی خواتین ممبران و عہدیدداران نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مثالی کام کیا ، جن میں نیلوفر بختیار، شیریں رحمان، کشمالہ طارق، فوزیہ وہاب(مرحومہ) شامل ہیں۔ ان خواتین کی محنت اور جدوجہد کے نتیجے میں خواتین کے متعدد حقوق کے تحفظ کے ضمن میں قابل تحسین قانون سازی ھوئی، جن میں وویمن پروٹیکشن ایکٹ کا نفاذ اور حدود و زنا آرڈیینس کی قابل مذمت شقوں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ 
ھمارا یوم جشن آزادی ان تمام خواتین کے نام جنھوں ھماری حفاظت اور سربلندی کےمقام کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں اور انکے بہترین پل ھمارے آج کےلیے  قربان کر دئیے۔ 
ان تمام خواتین کو زندہ قوم کا سلام!

بشکریہ اردو کالمز