عدالتی نظام تبدیلی کا منتظر ہے 674

عدالتی نظام تبدیلی کا منتظر ہے

      گزشتہ دنوں بلوچستان کے  سابقہ ایم پی اے مجید خان اچکزئی، جس نے جون 2017 میں کوئٹہ جی پی او چوک میں معمول کی ڈیوٹی پر متعین ٹریفک پولیس آفیسر حاجی عطااللہہ کو تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ھوئے برسرعام  کچل کر شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد ازاں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ھوئے  جاں بحق ھو گئے تھے ،کہ قتل کرنے کے مقدمے میں عدالت سے بری ھونے پر تمام توپوں کا رخ عدالتوں کی طرف موڑ دیا گیا، خاص طور پر سوشل میڈیا کے "مفکرین" نے الفاظ اور اپنی علمیت کا بے دریغ استعمال کیا۔ کچھ عرصے سے ھمارے ملک میں یہ رواج بن گیا ہے کہ ملک میں کسی بھی حصے میں کوئی بھی انسانیت سوز واقعہ رونما ھو جائے تو سوشل میڈیا کی دنیا میں بھونچال آ جاتا ہے، اس بات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاتا کہ آج کے دور میں خاص طور پر ناانصافی اور ظلم کو منظر عام پر لانے اور قانون ساز اداروں کو حرکت میں لانے میں سوشل میڈیا کا مثبت کردار ہے، بصورت دیگر ھمارے ملک میں عام اور بالخصوص غریب شہری انصاف اور قانون کے اداروں تک رسائی حاصل کرنے سے محروم ہی رہتا ہے۔ھمارے ملک میں انصاف نہ صرف مہنگا اور مبہم ھے بلکہ عام شہری کی سمجھ اور پہنچ سے بھی باہر ہے۔ یہی نکات مجید خان اچکزئی کی بریت کا باعث بھی بنے ہیں۔ 
عام شخص کےلیے مجید اچکزئی کو سزا دینے کےلیے سکیورٹی کیمرہ کی فوٹیج اور ملزم کا اقبال جرم  کافی ہے۔ لیکن ھمارے قانون کی کسوٹی پہ یہ دو شہارتیں نا کافی ہیں۔ عدالت نے خود بھی اپنے فیصلے میں لکھا ہےکہ" ناکافی شہادتون کی بنیاد پر ملزم کو بری کیا جاتا ہے"۔ عدالت کو ملزم کو سزایاب کرنے کے لیے تاہیدی شہادتوں کی بھی ضرورت ھوتی ہے۔ اور یہ کسی عدالت یا جج کا زاتی اختیار پسند یا ناپسند نہیں ہے بلکہ فوجداری معاملے کو ثابت کرنے کےلیے قانون شہادت آرڈر1984 کے تحت مقرر کردہ طریقہ کار ہے جس سے عدالتیں کسی بھی صورت میں روگردانی نہیں کر سکتیں، اقبال، اقبال جرم، اقرار، اقرار جرم،غیر عدالتی اقبال جرم، شخصی، ثانوی و تاہیدی شہادت، جدید الیکٹرانک شہادتیں، شناخت پریڈ، جرح وغیرہ وغیرہ وہ لامتناہی سلسلےہیں، جو فوجداری انصاف کے حصول کو نہ صرٖف طوالت دیتے ہیں بلکہ مدعی اور ملزم دونوں پر اضافی مالی اخراجات کا بوجھ بھی بڑھاتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اگرفوجداری انصاف کے سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی حوصلہ افزاء نہیں ہے، اگر یہ کہا جائے کہ بیشترسرکاری ملازم صرف تنخواہ کے حصول تک ھی اپنے فرائض و زمہ داریاں ادا کرتے ہیں تو غلط نہیں ھو گا۔۔ لہذا مجید اچکزئی کی بریت میں تمام تر ملبہ صرف عدالت پر ڈال دینا درست نہیں ہے۔ پولیس نے ابتداء میں اپنے ہی آفیسر کے قتل کا مقدمہ نامعلوم شخص کے خلاف درج کیا، جبکہ سوشل میڈیا کے بار بار کیمرہ ریکارڈنگ چلانے اور ملزم کا بذات خود مختلف میڈیا  فورم پر آکر اپنے فعل کو قبول کرنے اور متوفی خاندان کے ساتھ قبائلی رسم و رواج کے مطابق راضی نامہ کرنے کی کاوشوں کے اقرار کے بعد پولیس نے ملزم کو ایف آئی آرمیں باقاعدہ نامزد کیا۔ دوسری طرف اگر پراسکیوشن اور پولیس شناخت پریڈ، اقبال جرم کی ویڈیو ریکارڈنگ اور کیمرہ فوٹیج  کو تاہیدی شہادتوں سے ثابت نہیں کیا تو انصاف کے تقاضوں میں ملزم کا بری ھونا اسکا حق تھا۔
      وقوعہ سے لیکر ملزم کے بری ھونے تک پولیس اور پراسکیوشن کی کاکردگی سوالیہ نشان ہے، اگر ابتدء میں ھی ھر ادارے نے زمہ داری سے کام کیا ھوتا تو ملزم کو سزا ضرور ھوتی۔ محکمہ پولیس کا اب یہ کہنا کہ " فیصلے کے خلاف اپیل کرینگے" متوفی کے خاندان کے ساتھ انصاف اور انسانی ھمدردی نہیں بلکہ اپنی نااہلی کو چھپانے، معاشرےاور ادنی درجہ کے پولیس ملازمین میں اپنی عزت کو بحال کرنے کی بے سود کوشش ہے۔
        وقت کا تقاضا ہے کہ قانون کے مساوی اطلاق کےلیے ضابطہ فوجداری اور قانون شہادت میں موجودہ دور کے لوازمات اور ضروریات کے مطابق وسیع پیمانے پر ترمیم کی جائے تاکہ قانون کی عملداری اور انصاف سے وابستہ ہر ادارہ اپنے اختیارات کو استعمال کرنے میں کسی خوف اور تذبذب کا شکار نہ ھوں، اور اپنے ہر کام کو اولین ترجیح، زمہ داری، ایمانداری، ماہرانہ طریقے سے سرانجام دے پولیس کے ساتھ ساتھ پراسکیوشن کو بھی مستعد ، جوابدہ اور قانون کے تقاضوں کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے کا پابند کیا جائے۔ ۔  انصاف سستا اور عام شخص کی رسائی میں ھو، مدعی کو ملزم کو سزایاب کروانے کےلیے پراہئویٹ وکیل کی خدمات حاصل اور مالی اخراجات نہ کرنے پڑیں۔ 
    ملک کی زیریں عدالتوں میں کروڑں کی تعداد میں دیوانی و فوجداری مقدمات زیر سماعت ہیں جو دیگر بہت ساری وجوہات کے علاوہ عام قانون کے تقاضوں کا طویل ھونا بھی ہے، لہذا اب یہ انتہائی ضروری ہے کہ قانونی عدالتی نظام کو سادہ، عام فہم، جامع اور مختصر بنانے کےلیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی جاہیں تاکہ عام شہری کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ ھو سکے اور عملی معنوں میں مساوی قانون و انصاف کا مربوط نظام نافذ ھو سکے۔
 

بشکریہ اردو کالمز