624

زیر نقطہء

عنوان: سیاسی جتھے

استاذ ہارون الرشید کا کہنا : "تعلیم ، شعور اور اخلاقی اقدار  کارفرما  نہ ہو تو سیاسی پارٹیاں  سیاسی پارٹیاں نہیں جتھے بن جاتی ہیں ۔" ہمارا اب کا معاملہ بھی کچھ یوں ہی ہے کہ سیاسی پارٹیوں سے محروم ہم، سیاسی جتھوں کی ہمنوائی پہ مجبور ہیں ۔ جب مسائل یوں بڑھنا شروع کردیں کہ تنظیم سازی  سے زیادہ تنظیم سازی کے مفہوم سے لاعلمی درپیش ہو تو پھر پچھلی ساری محنت ریت کی عمارت قرار پا کر  گھڑام سے گر پڑتی ہے ۔ کچھ ایسی ہی مشکل ، ایسے ہی     حالات آج ہمیں درپیش ہیں۔ ایسے ہی جیسے کوئی رینگتے بچے سے چھلانگیں لگوانے پہ تل جائے ویسے ہی ہم نا آموز ،   نابالغ ، کچے اور خشک مغزوں سے عظیم اونچائیاں سر کروانے پہ تلے ہیں۔ ان سے سیاسی پختگی کی امید لگانے پہ تلے ہیں جو کہ سیاست کی ا ،ب سے بھی نابلد ہیں۔

بحیثیت قوم ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم سانپ کی کھوپڑی پہ بعد میں مارتے ہیں اور اسکا پچھلا حصہ پہلے کچلتے ہیں۔ یوں کئیوں کو زخمی کروا بیٹھتے ہیں اور پھر وار کی صحت پہ استدلال  شروع کر دیتے ہیں ۔بجائے یہ سمجھنے کے کہ وار غلط جگہ کیا گیا تھا ہم وار کی تیکنیک پہ بحثیں چھیڑ دیتے ہیں ۔ قارئین ! یاد رکھنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جب کسی گروہ کے ساتھ ایسے رویے اور فکری تضاد درپیش آجائے تو اس کا حتمی طور پہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس گروہ کو بنیاد سے فکری تربیت کی ضرورت ہے ۔ 

جب کسی ماحول میں  یا جگہ   ایسی صورتحال درپیش ہو تو پھر وہاں رائج تربیت کے طریقوں اور تعلیم کے نظام کو پرکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔  دلچسپ مقام یہ ہے کہ  یہ سانپ والی مثال  بطور قوم ہم پر مکمل  صادق آتی ہے ۔ ہمارے سیاسی طریقے ہوں یا اخلاقی رویے ہر طرف سے ہم ایک ہی جگہ کھڑے ہیں جہاں صرف معیاری تربیت و تعلیم ہی کسی حتمی حل کا معاملہ کرسکتی ہے ۔   باقی صرف' گزارا کرو ' پروگرام ہیں ۔ وقت نبھاؤ ، اپنی سی کرو اور چل دو ؛ یہی سب کا وطیرہ ہے ۔ سنجیدگی سے، سچے دل سے ، مقصد بنا کر ،   علمی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے بغیر بھلا کیونکر کہیں کوئی بہتری آسکتی ہے ۔

بلکل ایسے ہی جب ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے انکی سیاسی تربیت کیے بغیر ہم کیسے حقیقی اور حتمی جمہوری نظام رائج کرسکیں گے؟ یہی وہ سوال ہے جوکہ پچھلے کئی دنوں  سے میرے ذہن میں اک ابال سا اٹھائے بیٹھا ہے ۔ جب سے مولانا نے دھرنے اور پھر دھرنے سے آزادی مارچ اور اب دوبارہ آزادی مارچ سے دھرنے کا اعلان کیا ہے میں اس سوال کے ہاتھوں یرغمال بنا بیٹھا ہوں ۔ لاکھ تاویلیں بن چکا ہوں ، ہزاروں دلیلیں چن چکا ہوں مگر سوال قائم ہے لیکن جواب غائب ہے ۔ ایسے میں ملک کا مستقبل دیکھتا ہوں تو کسی ہارر مووی کا سین نظر آتا ہے ۔اور  پھر دبکا ہوا دل لیے دوبارہ سے لمحہ موجود میں لوٹ آتا ہوں ۔ 

مولانا سے سوال بھی یہی ہے کہ کیا کسی سیاسی جماعت سے حکومت چھین کر سول سپریمیس اپنی حقیقی شکل میں قائم ہوجائے گی ؟ کیا سیاسی آزادیوں کے حصول کا یہی راستہ ہے؟ کیا اس ملک کا مستقبل اس ملک کا نوجوان اپنی سیاسی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل بنا دیا گیا ہے؟ کیا وہ اس قابل ہوچکا ہے دھرنے کی کامیابی کے نتائج میں پیدا ہونے والے حالات کو منظم طریقے سے ، اپنی سیاسی سودھ بودھ کے استعمال سے کنٹرول کرسکے۔ یہ بھی خاطر میں رکھنا چاہیے کہ عمران خان بہرحال نوجوانوں کے لیے ایک توانا آواز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ 

اور اس میں بھی کوئی تردد نہیں کہ یہ کوئی حتمی جمہوری جنگ نہیں ہے ، یہ بہرحال لمبا عرصہ چلنے والا ایک عمل ہے اور اس عمل کے دوران مولانا کو عمران خان کی ضرورت بھی اسی شدومد کے ساتھ پیش آسکتی ہے جس طرح زرداری اور نواز شریف کی مدد ہے کہ سیاست میں کوئی بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتا ۔ سیاست میں کوئی حتمی دشمن اور حتمی دوست نہیں ہوتا ؛ یہاں بس ایک ہی چیز حتمی دوست کہلا سکتی ہے اور وہ ہے آپکا سیاسی نظریہ بس۔ تو پھر مولانا عمران خان بننے پہ کیوں مصر ہیں؟

مولانا کو بہرحال یحییٰ خان کا جانا ، بھٹو کا آنا اور پھر بھٹو کا بھی جانا ذہن میں رکھنا چاہیے ۔ معروضی حالات کی موزوعیت اپنی جگہ لیکن تاریخی حقائق کو ذہن میں رکھنا اپنی جگہ ہے ۔ان تمام حقائق کی موجودگی میں جمہوری نظام تب ہی رائج ہوسکتا ہے جب آپ ان نوجوان کی سیاسی تربیت کریں گے ۔  یہ ذہن میں رکھئے کہ  کسی بھی مسئلہ کی پیدائش کا معاملہ سمجھے بغیر اسکے حتمی حل کی جانب بڑھنا ممکن نہیں ہوتا  اور جب آپ پیدائش کے معاملے کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھتے ہیں تو ضروری چیزوں کی اہمیت بے معنی ہوجاتی ہے ۔ اور یوں معاملہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے ۔ اسی لیے ہر بار کہا ہے اور اب بھی کہوں گا کہ جمہوریت کی جدوجہد تب ہی شروع ہوگی جب نوجوانوں کی سیاسی تربیت ہوگی ۔

جمہوریت مضبوط سیاسی جماعتوں کے وجود سے پھلتی پھولتی ہے ۔ جب تک بڑی سیاسی جماعتیں اپنی تنظیم سازی نہیں کریں گی تب تک سب معدوم  ہی  رہے  گا  ۔ سیاسی ورکرز سیاسی جماعتوں کی کوکھ سے ہی تو پیدا ہوتے ہیں یہ کیا کسی خاص ماحول سے نکلتے ہیں؟ اسی لیے اگر کوئی سیاسی جماعت ملک میں جمہوریت کو پلتا پھولتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ  اپنی تنظیم سازی کرے ۔ پارٹی کی باگ دوڑ جب سیاسی ورکرز کے ہاتھ آئے گی تو ہی نوجوان کی سیاسی تربیت کا اہتمام کیا جاسکے گا ۔ اور تب ہی جماعت مضبوط ہوگی اور جمہوریت پٹری پہ چڑھے گی ۔ 

اگر دھرنوں سے جمہوریت پٹری پہ چڑھنی ہوتی تو چڑھ نا چکی ہوتی ۔ اگر واقعی ہی مولانا جمہوریت کو پٹری پہ چڑھانے آئے ہیں تو پھر انھیں تمام اپوزیشن کی جماعتوں کو اس بات پہ راضی کرنا چاہیے کہ وہ اپنی پارٹیوں  کی تنظیم سازی کریں کیونکہ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں منظم سیاسی سیٹ اپ کے بغیر جمہوریت پروان نہیں چڑھتی۔

اصل اور حقیقی جمہوری جدوجہد مضبوط سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے ہی ممکن ہوئی ہے ۔ کہیں بھی ، کبھی بھی سیاسی آزادیاں تب ہی کارآمد ہوئیں ہے جب نوجوان نسل نے احسن طریقے سے کنٹریبیوٹ کیا ہے ۔ اس وقت شدت سے جس چیز کی ضرورت ہے وہ نوجوانوں کی تربیت ہے ۔ 

آپ دیکھ لیں دنیا میں کہیں بھی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے تو منظم سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کے نتیجے میں ۔ منظم ہوئے بغیر تو کوئی کھیل نہیں کھیلا جاسکتا تو جمہوریت کیسے مضبوط کرو گے ؟    تنظیم کے بغیر کوئی بھی سیاسی جماعت لوگوں کا جتھا بن جاتی ہے کہ تنظیم کے بغیر ہجوم ، ہجوم ہی کہلاتا ہے ۔ ہمارا مسئلہ  یہ ہے کہ اس وقت بدقسمتی سے ہم سیاسی جتھوں کی ہمنوائی میں ہیں۔ان ساٹھ فیصد کو ہمراہ بنائے بغیر دیوانے کے خواب کا سا منظر ہے۔ سیاسی جماعتوں کی بڑی ذمہ داری قوم کی سیاسی نشوونما کرنا ہوتی ہے ۔ آنے والی نسل کی سیاسی آبیاری کرنا ہوتی ہے ۔آنے والی نسل کو سیاست کے  زیر و زبر سے واقفیت دلوانا ہی سیاسی ورکر کی اصل ذمہ داری ہوتی ہے ۔

مولانا سینئیر سیاستدان ہیں یقینا وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہوں گے اور سیاسی جتھوں کو درست راستے پہ ڈالنے کی اپنی  سی کوشش کریں گے ۔  ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی منظرنامے پہ ہماری جو حالت ہے یہ ملک عدم استحکام کا روادار بھی نہیں ہوسکتا ۔ 

 

بشکریہ اردو کالمز