یہ 8 اکتوبر ہے، کبھی 8 اکتوبر 2005ء بھی تھا، ہفتے کا دن اور صبح آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت، رمضان کا مہینہ اور دوسرا روزہ میں پہلی مرتبہ زلزلے کے جھٹکوں سے اٹھا اور انتہائی بے چینی سے باہر نکلا، کیا دیکھا کہ اسلام آباد ایف ٹین مرکز سے مٹی کا دھواں اٹھ رہا ہے، او دیکھا نہ تاؤ، دوڑ پڑا وہاں ایک قیامت بپا تھی چیخ و پکار، پلازہ زمین بوس، ہر طرف خوف کا عالم جو کچھ ہو سکتا تھا کیا لیکن اگلے ہی لمحے گھر سے فون آگیا کہ یہاں تباہی مچ گئی ہے، ماں رو رہی تھی کہ چھوٹا بھائی مظفرآباد ہے، تشویش اور دل کی دھڑکن تیز زبان پہ ذکر مگر شدید فکر کوئی سمجھ نہ آئے کیا کیا جائے؟ ایسے میں بھائی کی کال آ گئی کہ میں ٹھیک ہوں لیکن مظفرآباد میں کچھ نہیں بچا، تھوڑا سا سہارا ہوا میرے لئے وہ "روحانی" کال تھی، کیونکہ تھوڑی دیر بعد مظفرآباد کا کوئی نمبر نہیں مل رہا تھا میں آج تک حیران ہوں وہ کال زلزلے کے بعد کیسے آگئی، بس دفتر پہنچے پیدل اور خبریں تباہی کی آنا شروع ہو گئیں،میڈیا ذرا نیا نیا میدان میں تھا اور زلزلے نے ان کو بھی شہرت دے دی، خیر کسی طرح آفٹر شاکس اور قیامت خیز مناظر کو برداشت کیا اور پیر کے دن اپنے گاؤں اور راولاکوٹ کے راستے باغ اور مظفرآباد کا رخ کیا، سفر کے روح رواں سید عابد گیلانی صاحب ڈائریکٹر کاروان فاؤنڈیشن تھے ۔
آنکھوں دیکھا حال بیان سے باہر ہے مجھے پہلی مرتبہ راولاکوٹ سے باغ تک خواتین کو سڑکوں پر کھڑے مانگتے دیکھا جس کا قلق آج تک نہیں جاتا، کہتے ہیں اس طرح کی انگڑائی زمین کی ہو، آسمان کی، کسی کو طاقت ملے یا عہدہ، اس میں اکثر چہرے بے نقاب ہوتے ہیں، ایک حمیت کا نقاب اتر گیا تھا، دوسرا بڑا افسوس اور دکھ یہ تھا کہ ایک وقت تھا کسی کا گھر گر جائے یا کوئی مصیبت بچنے والے مدد کو دوڑ پڑتے تھے یہاں راولاکوٹ کے بعض علاقوں کو چھوڑ کر بچنے والے مدد کو نہیں لیکن بھیک کے لیے ضرور پہنچے، زیادہ تر مظفرآباد تک یہی حال تھا، بالاکوٹ سے مظفرآباد، سری نگر اور باغ سمیت راولاکوٹ کے کچھ حصوں تک قیامت تھی جس کے اثرات میرے دل و دماغ سے نہیں نکل سکے، کم از کم 75 ہزار لوگ جان کی بازی ہار گئے جن میں سے 25 ہزار سے زائد صرف سکول کالج کے بچے اور یونیورسٹی کے طلباء وطالبات تھیں، جوان لاشیں اور دفنانے والا کوئی نہیں، چار چار بندے بھی جنازہ پڑھنے والے دیکھے، ایک انسانی تاریخ کا سنگین سانحہ تھا، جہاں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، کئی ہزار معذور اور اپنوں سے بچھڑ گئے، بچوں کو کئی مافیاز نے سمگل بھی کیا، یہ جو رشتے، علاقے کا فیبرک اور جڑے ہوئے بندھن ہوتے ہیں عظیم ہوتے ہیں جس سے عزت، تکریم اور زندگی بچی رہتی ہے، آج لوگ توڑنا چاہتے ہیں، قبائل پہ فخر، علاقے پہ، علم و عمل پہ، یہ بڑے بڑے دفاتر ہیں جن کا تکبر تباہی لاتا ہے، صرف اجتماعیت اور تقدس ہی معاشرے کو ترقی دیتی ہے، 2005ء میڈیا، موبائل کا بھی کسی حد تک نیا زمانہ تھا کم از کم لوگ موبائل وہ بھی نوکیا کا ہی رکھتے تھے مگر 2005ء کے زلزلے نے پوری قوم اور بیرون ملک لوگوں کو جوڑ دیا تھا ہمارے کچھ دوستوں نے مظفرآباد، باغ میں بہت کام کیا، نو مسلم رہنما عبدلواحد پیٹرسن، سید عابد گیلانی، نوید بیگ اور سینکڑوں شامل تھے کئی بستیاں آباد کیں، حکومت نے بھی نقد رقم اور گھروں کے لیے ڈونیشن دی البتہ ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ لائن میں لگے تھے ، یہ امر بڑا کرب ناک تھا لیکن کراچی سے کشمیر تک سب لوگ "مددگار اور بھائی بھائی"تھے دکھ اور کرب ماں کا، کہیں باپ کا، کہیں معصوم کلیوں کا مٹی تلے دبے زندہ آوازوں کا، تعفن زدہ نعشوں کا، ایک مجرم وہ بھی تھے جنہوں نے نہایت خستہ حال سکول تعمیر کیے جہاں 25 سے 30 ہزار بچے آسانی سے لقمہ اجل بن گئے ان ٹھیکیداروں اور ذمہ داروں سے کب حساب لیا جائے گا، اس وقت کے کشمیر کے حکمران تیسرے دن اسلام آباد سے کشمیر گئے یہی اندازہ کر لیں اگرچیکہ ہر امیر و غریب متاثر تھا لیکن حکمرانوں کی ذمہ داری ذات نہیں لوگ ہوتے ہیں یہ سوال آج تک میں کرتا رہتا ہوں؟؟؟
بہرحال حکومت پاکستان نے ایرا کا ادارہ بنایا، کشمیر میں سیرا بنا، دنیا بھر کی سماجی تنظیمیں آئیں، مسلم ممالک کے لوگ آئے، ہوسپٹل، سکول، مساجد اور ڈسپنسریز بنیں مگر سینکڑوں سکول آج بھی خستہ حالی اور منظور شدہ گرانٹ کے منتظر رہے، میڈل مین یا کسی اور نے گرانٹس ہی ہضم کر لیں، کیا کیا جائے، کئی حیران کن واقعات بھی معرض وجود میں آئے مظفرآباد کی ایک خاتون نقشہ بی بی 62 دن بعد ملبے تلے سے زندہ نکلی ہم نے خود ہوسپٹل میں اسے دیکھا آج معلوم نہیں وہ حیات ہیں کہ نہیں لیکن ایک معجزہ تو ہے، ہمارے کئی لوگ ہم سے بچھڑ گئے، کئی اقدار کو بھی نقصان پہنچا لیکن اتنی جانیں ضائع ہو گئیں،جن کے گھر میں آج بھی سوگ ہے، کئی مائیں بچوں کے لیے روتے روتے مر گئیں، کئی کے آنسو سوکھ گئے، گریہ یعقوب اور صبر ایوب بھی جاری ہے ۔ مگر پیچھے مڑ کے دیکھیں آج کی نسل کو وہ تاریخ پڑھنے کو دیں، سوال امداد کا نہیں اقدار اور روایات کا ہے؟ اخوت و بھائی چارے کا ہے؟ کسی کے پاس جواب ہے، ؟ سردار سکندر حیات خان نے بعد ازاں کہا تھا میں قبرستان کا وزیر اعظم ہوں، کیا آج یہ شہر خاموشاں اسی طرح نہیں ہے؟ جہاں ایک بیزار کن معاشرت ہے؟ خود غرضی، لالچ، بے پروائی اور بے حمیتی یہی تو اصل غلامی ہوتی ہے، آج 2026ء ہے، 21 سال قبل فطرت نے انگڑائی لے کر انتقام لیا تھا، آج پھر ہم ماحول کی تباہی، اخوت کا شیرازہ بکھرنے میں کوئی کردار نہیں، انسانیت کا راستہ محدوم ہے، تو آواز خود دے رہے ہیں قصور وار کون ہو گا؟ حکمران اور عوام 2005ء کو یاد کریں تو معلوم ہو کیا ہوا تھا، کیا ہو گا؟کیا بالا کوٹ بن گیا یا جو بن گیا تھا اس کو ہم نے بچا دیا خوبصورت بننے والی عمارات بھی تباہی کا نقشہ پیش کر رہی ہیں، ٹوٹی پائپ تک نہیں چھوڑا لوگوں نے،
خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جس کو اپنی حالت آپ بدلنے کا خیال نہ ہو، میرا سوال ہے ہم آفات زمینی و سماوی ہوں یا اقدار و کردار کی کیسے نکلیں گے؟؟
38