شب عید الفطر یعنی شب مغفرت بڑی عظمت و فضیلت والی رات ہے جو اللہ پاک نے ہمیںخصوصی تحفہ دیا ہے اس رات کی ہم مسلمانوں کو بے حد قدر کرنی چائیے شب عید الفطر کو لیلتہ'الجائزہ اور چاند رات بھی کہا جاتا ہے اس مقدس رات کے قیمتی لمحات کو غیر ضروری اور گناہ کے کاموں میں گزارنے کے بجائے توبہ استغفار، ذکر، اذکار،نوافل، اللہ پاک سے جنت کی طلب اور جہنم سے آزادی کی دعائوں اور عبادات میں گزارنے چائیے ہم مسلمان اس رات کو شب بیداری کرکے کوئی خاص عبادات کا اہتمام نہیں کرتے جو کہ ہماری عبادات و انعام سے محرومی اوربڑی غفلت ہے ہم اس رات کو لانگ ڈرائیو،ہوٹلوں میں کھانے پینے ،بازاروں میں خریداری کرنے، ناچ گانے،شراب و شباب کی محفل میں گزار دیتے ہیںیہاں تک ہم گناہ میں اتنے مشغول رہتے ہیں کہ نماز فجر اور نماز عید تک ہمیںنصیب نہیںہوتی یہ رات رحمتوں برکتوں بخشش مغفرت و فضیلت والی رات ہے اس رات کواللہ تعالی تمام راتوں سے زیادہ سخی اور فیاض ہو کر اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے مگر یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ ہم اس رات کی برکات سے محروم رہتے ہیںحدیث شریف کی روشنی میں اس رات کو عبادت کرنے والوں کے لئے بڑی سعادتیں برکتیںاجرو ثواب ہے مزدور سارا دن مزدوری کرتا ہے شام کو اسے معاوضہ ملتا ہے اگر مزدور سارا دن مزدوری کرے اور شام کو معاوضہ کے وقت کسی اور کام میں مشغول ہوجائے تو اس کی مزدوری ضائع ہو جاتی ہے اسی ہی طرح رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں ہم پورے روزے رکھیں دن رات عبادات میں گزاریں اور شب عید الفطر کو ہم اللہ پاک سے اپنا انعام یعنی عبادات کا ثواب بخشش دوزخ سے آزادی جنت کا پروانہ نہ لیں تو ہمارے پورے رمضان کی عبادات ضائع ہوجائیں گیںشب عید الفطر میں فرشتے بھی جشن مناتے ہیں اللہ تعالی ان پر تجلی فرما کر دریافت فرماتا ہے اس مزدور کی اجرت کیا ہے جس نے اپنی مزدوری پوری کرلی تو فرشتے عرض کرتے ہیں اسے پوری جزا اور اجرت ملنی چائیے اس پر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اے فرشتو تم گواہ رہومیں نے امت محمد ۖ کے روزے داروں کو اجرت دے دی ہے یعنی اللہ پاک بخشش دیتے ہیںحضرت محمد ۖ کی امت ہونے کی وجہ سے اللہ پاک کی ذات نے ہم مسلمانوں کو پانچ چیزوں کا تحفہ دیا ہے جو کہ پہلے کسی امت کو نہیں دیا ہم روزے داروں کے منہ سے آنے والی بدبو اللہ پاک کے نزدیک خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے ہم روزے دار کے لئے مچھلیاں بھی افطار تک دعا کرتی ہیں جنت روزانہ ہم روزے داروں کے لئے سجائی جاتی ہے سرکش شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں رمضان کی آخری رات کو روزے داروں کی مغفرت کر دی جاتی ہے حدیث شریف میں حضور اکرم ۖ نے فرمایا جو شخص پانچ راتوں کو عبادت کے لئے جاگے گا اسکے واسطے جنت واجب ہو جائے گی وہ پانچ راتیں یہ ہیں نمبر١۔لیلتہ الترویہ8ذی الحجہ کی رات ،نمبر۔2لیلتہ العرفہ 9ذی الحجہ کی رات نمبر۔3لیلتہ النحر 10ذی الحجہ یعنی عید الضحی کی رات نمبر ۔4لیلتہ الجائزہ یعنی عید الفطر کی رات نمبر۔5شب برات پندرہویں شعبان کی رات یہی وجہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام ،تابعین، تبع تابعیناور ہمارے اسلاف ان راتوں خاص کر شب عید الفطر( لیلتہ الجائزہ)کی قدر کرتے ہمیں بھی آج کی رات کو خصوصی عبادات کا اہتمام کرنا چائیے ہم نے جو روزے رکھے رمضان المبارک کی عبادات کی ان کا صلہ اللہ پاک ہمیں دیں ہم موجودہ عالمی وباء کرئونا وائرس سے پوری انسانیت کی نجات کے لئے اللہ پاک سے دعا مانگیں کشمیر فلسطین کی معصوم عوام کی آزادی کی دعا مانگیں اللہ پاک سے اپنے ملک کی سالمیت کی دعا مانگیں آج کی چاند رات ہمارے لئے شب مغفرت کی رات ہو ۔آمین
384