غالباً سال 2022ء اور جون، جولائی کا مہینہ تھا، پاکستان میں سیلاب نے ہر بار کی طرح تباہی مچا دی تھی۔ میرے سسر مرحوم محمد سلیم خان یوسفزئی صاحب کی اللہ کریم مغفرت فرمائے، وہ حیات تھے۔ میں حسب معمول اپنے اہل و عیال کے ہمراہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس ان سے ملنے گیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ہنستے ہوئے میرے سامنے فیس بک کی ایک پوسٹ رکھ دی، جو طرابلس میں مقیم ایک خاتون کی طرف سے تھی۔ وہ خاتون طرابلس کی ایک بدنام زمانہ اور مشہور زمانہ پیشہ ور خاندانی چورنی ہے، جس نے لاتعداد لوگوں کو لوٹا ہے اور آج دن تک اپنے "عمل" سے باز نہیں آئی ہے۔ طرابلس میں مقیم پوری پاکستانی کمیونٹی اس خاتون کے نام اور "کام" دونوں سے بخوبی واقف ہے۔ فیس بک پوسٹ تو کافی لمبی چوڑی تھی، تاہم میں قارئین کرام کو مختصراً بتا دیتا ہوں۔
اس خاتون نے لکھا تھا کہ "پاکستان میں قدرتی آفت نے سیلاب کی صورت میں تباہی مچا دی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں آفت زدہ اور مشکلات میں گھرے سیلاب زدگان کو آپ کی عطیات اور صدقات کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ان کو ضروری خوراک، کپڑے اور ادویات پہنچائی جا سکیں۔ میری اس سلسلے میں ایک فلاحی ادارے سے بات ہوئی ہے، لہذا آپ میں سے جو کوئی بھی اس سلسلے میں اللہ کی رضا کیلئے کچھ عطیہ کرنا چاہے، وہ مجھ سے رابطہ کر کے اپنے عطیات میرے حوالے کرے، میں آپ کے عطیات اس فلاحی ادارے کے ذریعے سیلاب زدگان تک پہنچاؤں گی۔" آخر میں اس خاتون نے جو بات لکھی تھی، وہ کافی دلچسپ تھی۔ لکھا تھا، "آپ اپنے عطیات اور صدقات ان ہاتھوں میں دیں، جن ہاتھوں پر آپ کو بھروسہ ہو کہ وہ ہاتھ آپ کی امانتیں اصل ضرورت مندوں اور حقداروں تک پہنچائیں گے، لہذا آپ بے فکر ہو کر اپنے عطیات اور صدقات مجھے دیں۔" مجھے یاد ہے، میرے سسر مرحوم نے ہنستے ہوئے مجھے کہا، "میاں، یہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ دراصل یہی تو وہ "ہاتھ" ہیں، جن میں ہم سب کو اپنے عطیات اور صدقات دینے چاہیئیں۔"
قارئین کرام، میرا آج کا موضوع وہ خاتون نہیں ہے، تاہم اس خاتون کا تذکرہ میں نے کیوں کیا، یہ میں آگے چل کر آپ کے گوش گزار کرتا ہوں۔ فالحال میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ پچھلے دنوں فیس بک پر میری نظر سے پشاور کے ایک مشہور زمانہ نوسرباز اور خاندانی چور کی تصاویر گزریں، جسے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اس کا کیا "بیک گراؤنڈ" ہے، یہ کون تھا، کیا کرتا تھا، اس کی کیا حیثیت تھی اور یہ پیسہ کہاں سے لایا ہے۔ میں پردہ رکھتے ہوئے اس کا فرضی نام لکھ رہا ہوں۔ وہ خاندانی چور بمعہ اپنے اہل و عیال عمرہ کر کے واپس آیا تھا اور ایک بہت بڑے شادی ہال میں سینکڑوں لوگوں کو عشائیے پر مدعو کر کے اس پروگرام کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اس نے لکھا تھا، "اَلْحَاج ملک حسین عمرے سے واپسی کے موقع پر اپنے عزیز و اقارب کے ہمراہ۔"
یہ پہلی بار نہیں ہے اور یہ پہلا خاندانی چور نہیں ہے، جسے میں نے دیکھا ہے۔ نہ ہی میں دنیا کا وہ واحد شخص ہوں، جس کو یہ "تجربہ" ہوا ہے۔ بلاشبہ آپ سب قارئین کرام کی نظر سے بھی اس طرح کے واقعات اکثر و بیشتر گزرتے ہوں گے۔ آپ کے خاندان میں، محلے میں، گاؤں میں، شہر میں ایسے لاتعداد خاندانی چور ہوں گے، جو دوسروں کا مال، سونا وغیرہ چوری کر کے، دوسروں کے گھر ڈاکے ڈال کر ساتھ میں بزور اسلحہ ان کی خواتین کی عزتیں پامال کر کے، دوسروں کی املاک اور جائیدادیں ضبط کر کے، دوسروں کے لاکھوں، کروڑوں روپے دھوکے سے ہڑپ کر کے، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کر کے، جعلی ادویات بیچ کر، سود خوری کر کے اور اسی طرح کے دیگر بہت سے بڑے بڑے جرائم کھلے عام کرنے کے بعد اس حرام کے پیسے سے سفید کپڑے پہن کر، سر پر سفید ٹوپی رکھ کر، لمبی داڑھی رکھ کر، اپنے نام کے ساتھ "اَلْحَاج" لگا کر بیغیرتوں کی طرف منہ اٹھا کر ہر سال حج کرنے اور سال میں دو مرتبہ عمرہ کرنے پہنچ جاتے ہیں۔
سب سے پہلے تو میں ان حرام خور "اَلْحَاج" صاحبان سے پوچھتا ہوں کہ تم یہ بتاؤ، یہ بیت اللہ شریف ہے یا تمہاری خالہ جی کا گھر ہے ؟ اللہ رب العزت کی عبادت، اس کے مبارک دین، اس کے عظیم انبیاء کرام عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ کی مبارک سنتوں کو تم نے مذاق سمجھا ہوا ہے ؟ تمہارے دماغ میں بھوسا بھرا ہوا ہے ؟ یہ حرام کے پیسے سے کون سے حج اور عمرے ہوتے ہیں ؟ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم کس قدر بڑے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہو اور اللہ رب العزت کی کتنی بڑی ناراضگی اور عذاب کو دعوت دے رہے ہو ؟ اور دوم، تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم نے عبادت کی ہے ؟ تمہاری دعائیں اللہ نے سنی ہوں گی ؟ اس رب نے تمہاری بخشش کر دی ہو گی ؟ یہ سوجی کا حلوہ ہے کہ تم منہ میں رکھو گے اور ایک جھٹکے میں نگل لو گے ؟ یہ سب کچھ اتنا آسان ہے ؟ تم اللہ کے کسی نیک اور صاحب کشف بندے سے ذرا پوچھ کر دیکھو، وہ تمہیں بتائے گا کہ جب تم حرام کے پیسے سے حج یا عمرہ کر کے واپس آتے ہو تو دوزخ کے فرشتوں کی تھوک سے تمہارے چہرے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور شکل پر واضح لعنت اور پھٹکار برس رہی ہوتی ہے۔ میں وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ جب تم نے حرام کے پیسے سے بیت اللہ شریف جا کر غلاف کعبہ کو پکڑا ہو گا اور اللہ تبارک تعالیٰ کو مخاطب کیا ہو گا، تو یقیناً اس رب العالمین نے دوزخ کے فرشتوں سے کہا ہو گا، "جاؤ ان کی گندی شکلوں پر تھوک کر آؤ اور ان کی عبادات اور دعائیں ان کے منہ پر مار دو۔"
میں اتنے یقین کے ساتھ یہ اسلیئے کہہ رہا ہوں کیونکہ اس حوالے سے میرے پیارے سردار دو جہاں، امام ألانبياء، شافع محشر، نبی رحمت، حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی مبارک احادیث موجود ہیں۔ تمہارے خون میں چونکہ حرام شامل ہے، لہذا تم پر کسی بھی قسم کی اچھی بات کا اثر تو نہیں ہو گا، تاہم میں چونکہ پیدائشی "رائیونڈ" والا ہوں اور اپنی عادت سے مجبور ہوں، لہذا اپنا فرض اور ذمہ داری نبھاتے ہوئے تمہیں آگاہ کر دوں کہ میرے پیارے نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے حرام کی کمائی یا حرام ذرائع سے حاصل شدہ مال کے ذریعے کیئے جانے والے حج یا عبادت کے ردّ یا عدمِ قبولیت کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے۔ إمام الطبراني رَحْمَة ٱللّٰه کی مشہور احادیث مبارکہ کی کتاب "المعجم الأوسط" میں اس حدیث کا بیان موجود ہے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِيَ ٱللَّٰهُ تعالیٰ عَنْهُ سے روایت ہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے ارشاد فرمایا، "جب کوئی حاجی حلال کمائی سے حاصل کردہ زادِ راہ (سفر کے خرچ) کے ساتھ حج کیلئے نکلتا ہے، اور اپنی سواری پر سوار ہونے کیلئے رکاب میں پاؤں رکھتا ہے، اور پکارتا (تلبية پڑھتا) ہے، "اے اللہ، میں تیری پکار پر حاضر ہوں"، تو آسمان سے ایک پکارنے والا اسے جواب دیتا ہے، "تیری پکار قبول کر لی گئی، تو کتنا خوش قسمت ہے، تیرا زادِ راہ حلال ہے، تیری سواری حلال ہے، تیرا حج قبول ہو گیا اور یہ تیرے گناہوں کو مٹا دے گا"، لیکن اگر وہ حاجی حرام ذرائع سے حاصل کردہ زادِ راہ (سفر کے خرچ) کے ساتھ حج کیلئے نکلتا ہے، اور اپنی سواری پر سوار ہونے کیلئے رکاب میں پاؤں رکھتا ہے، اور پکارتا (تلبية پڑھتا) ہے، "اے اللہ، میں تیری پکار پر حاضر ہوں"، تو آسمان سے ایک پکارنے والا اسے جواب دیتا ہے، "تیری پکار قبول نہیں کی گئی، تو کتنا بدنصیب ہے، تیرا زادِ راہ حرام ہے، تیری سواری حرام ہے، تیرا حج قبول نہیں ہوا اور یہ تیرے گناہوں کو نہیں مٹائے گا۔"
دوسری حدیث "صحیح مسلم" میں مروی ہے، جس میں نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ نے ارشاد فرمایا، "بلاشبہ اللہ پاکیزہ ہے اور وہ صرف اسی چیز کو قبول کرتا ہے، جو پاکیزہ ہو اور یقیناً اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے، جس کا حکم اس نے رسولوں کو دیا تھا۔" پھر وضاحت دیتے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس کا مفہوم ہے کہ "ایک ایسا شخص جو طویل سفر کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے اور جسم گرد آلود ہوتا ہے اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکارتا ہے، "اے میرے رب، اے میرے رب"، حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہوتی ہے، تو ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے ؟"
موضوع کی طرف آتے ہیں۔ حرام کے پیسے سے حج یا عمرہ کر کے جب تم "اَلْحَاج" صاحبان واپس آتے ہو، تو آتے ہی دوسرا بڑا عظیم گناہ یعنی "ریا کاری" شروع کر دیتے ہو۔ کسی اچھے اور بڑے شادی ہال میں اپنے حرام کے پیسے سے دعوت کے نام پر لوگوں کی جھوٹی "واہ، واہ" سمیٹنے کیلئے ان کو اکٹھا کرتے ہو، تاکہ پوری دنیا کو دکھا سکو کہ جناب، ہمارے پاس تو بہت زیادہ پیسہ ہے اور ہم تو بہت زیادہ امیر لوگ ہیں۔ ان لوگوں میں آدھے سے زیادہ تو تمہارے محلے کے وہ خوشامدی ہوتے ہیں، جن کی نظریں ہمہ وقت "مفت خوری" کے چکر میں تم جیسے حرام خور "اَلْحَاج" صاحبان کی طرف رہتی ہیں کہ بس "اَلْحَاج" صاحب کی ایک "نظر کرم" ہو جائے، تو تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی لیکن ہمارے "اجڑے چمن" میں "بہار" آ جائے۔ ان بھوکے ننگے خوشامدیوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہاری طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں فیض احمد فیضؔ کا یہ شعر پڑھ رہے ہوں،
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے۔
چلے بھی آؤ، کہ "گلشن" کا "کاروبار" چلے۔
پاکستان میں ویسے بھی کام، کاج تو ہے نہیں اور "وزن اٹھانا" تو ازل سے ہی پاکستان میں سب سے آسان "ذریعہ معاش" ہے، لہذا تمہارے مفت خور خوشامدیوں کی "لاٹری" نکل آتی ہے۔ ان کا دل تو نہیں کر رہا ہوتا لیکن جھوٹ بولنا چونکہ ان کی "مجبوری" ہوتی ہے، لہذا اونچی آواز میں تمہیں "حاجی صاحب، حاجی صاحب" کہہ کر بلانا شروع کر دیتے ہیں اور تمہارا سینہ بھی دس گز چوڑا ہو جاتا ہے، گویا تم واقعی میں بیت اللہ شریف کا حج کر کے آئے ہو۔ جواب میں تم بھی زور و شور سے دکھاوا کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے پیسہ لٹا رہے ہوتے ہو۔ ویسے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے، کون سا تمہارے باپ کا پیسہ ہے ؟ دھوکہ، فراڈ اور فریب کر کے غریب لوگوں سے لوٹا ہوا حرام کا پیسہ ہے، کل پھر کسی اور غریب کو "بکری" بنا کر "ذبح" کر دینا، تمہارا تو ویسے بھی یہ "روزگار" ہے اور "شرم"، "حیاء"، "غیرت" نامی چیزیں تو تمہیں چھو کر بھی نہیں گزریں۔
علاوہ ازیں، میں نے تم "اَلْحَاج" صاحبان کی اکثریت دعوت تبلیغ کے مبارک کام سے جڑی ہوئی دیکھی ہے۔ تم بیغیرتوں نے تو اپنی حرام خوری کے چکر میں انبیاء کرام عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ کے اس مبارک کام کو بھی نہیں بخشا اور أستغفر الله اسے بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میں خود الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ دعوت تبلیغ سے پیدائشی وابستہ ہوں، مجھ سے بہتر کس کو معلوم ہو گا کہ تم "اَلْحَاج" صاحبان دعوت تبلیغ کے مبارک کام کی آڑ میں کیا کیا کرتے ہو اور معاشرے کیلئے تمہارے مزید کیا کیا "کارنامے" اور "خدمات" ہیں، انشاء اللہ اس کالم کے اگلے حصے میں قارئین کرام کے گوش گزار کروں گا۔
وقار احمد خان۔