پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کے فیصلے کافی عرصے سے کیے جا رہے ہیں، لیکن اگست 2025 میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی مہاجر حیثیت ختم کر دی گئی، جس کے بعد انہیں وطن واپس جانے کا حکم دیا گیا۔ تاہم، پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے 10 جولائی 2026 تک پاکستان چھوڑنے کی آخری مہلت دی تھی۔ اس کے ساتھ واضح کیا گیا تھا کہ مقررہ مدت گزرنے پر قانونی کارروائی اور جبری بے دخلی عمل میں لائی جائے گی۔
پشاور کے مشہور بورڈ بازار، یعنی منی کابل، میں ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ مہلت ختم ہونے سے پہلے پولیس نے پشاور کے مختلف علاقوں میں اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جن کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ کچھ لوگ پولیس کے خوف سے بھاگ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بزرگ افراد بھی پولیس کو دیکھ کر بھاگنے لگتے ہیں۔ گرفتار افراد کو پہلے تھانوں اور پھر حراستی مراکز میں منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ حراستی مراکز، جنہیں ڈی پورٹیشن سینٹرز بھی کہا جاتا ہے، ناصر باغ میں قائم کیے گئے ہیں، جہاں ماضی میں ملک کا سب سے بڑا افغان مہاجر کیمپ موجود تھا۔ یہ کیمپ 27 دسمبر 1979 کو افغانستان میں سابق سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ ناصر باغ اور کچا گڑھی مہاجر کیمپ ماضی میں عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز رہے، جن میں سابق امریکی صدور رونالڈ ریگن، جمی کارٹر، جارج بش، برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اب یہ علاقے رہائشی آبادیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
پشاور پولیس کے ایک افسر نے تصدیق کی کہ صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گرفتار افراد میں دکاندار، ریڑھی بان اور روزمرہ کاروبار سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ کئی مقامات پر خواتین اور بچے بھی اپنے گرفتار اہلِ خانہ کے ساتھ موجود تھے، تاہم خواتین کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ طورخم بارڈر تک جائیں، جہاں سے انہیں افغانستان بھیجا جائے گا۔
یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی نے کہا ہے کہ ادارہ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کی جبری واپسی کے فیصلے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی گزشتہ 45 برس سے مہاجرین کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پناہ گزین کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔
انہوں نے خاص طور پر خواتین، بچیوں، اقلیتی برادری، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، فنکاروں اور خواجہ سرا افراد کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ ایسے افراد کو جبری واپسی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور افغان شہریوں کی واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار انداز میں یقینی بنائی جائے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک تقریباً 25 لاکھ 60 ہزار افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان میں اب بھی تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار رجسٹرڈ اے سی سی کارڈ ہولڈرز اور کچھ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار ایسے افغان بھی پاکستان میں آئے تھے جو اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان سے فرار ہوئے تھے۔
پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کا گھر، کاروبار اور زندگی اچھی گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نہ ان کا کاروبار ہے، نہ رہائش، اور نہ ہی زندگی کی بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ لیکن اب چونکہ انہیں یہاں سے واپس بھیجا جا رہا ہے، اس لیے وہ افغانستان جا کر قانونی طریقے سے دوبارہ پاکستان آنے کی کوشش کریں گے۔
طورخم بارڈر پر ایک دکاندار نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ سال سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ ان کی دکان بارڈر کے قریب ہے، اس لیے بارڈر کی بندش کے باعث ان کا کاروبار تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ صبح سے شام تک وہ فارغ بیٹھے رہتے تھے اور گھر کا خرچ ان کے دوسرے بھائی پورا کرتے تھے، جو دوسرے علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ تاہم، حکومتِ پاکستان کی جانب سے کارروائیاں شروع ہونے کے بعد یہاں لوگوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ان کے کاروبار میں کچھ بہتری آئی ہے۔
طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے افغان شہریوں کے لیے طورخم، چمن اور دیگر سرحدی راستوں پر ٹرانسپورٹ، نقد امداد اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح یو این ایچ سی آر بھی پی او آر کارڈ رکھنے والوں کو محدود مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ بڑی تعداد میں واپس جانے والے افراد کو رہائش، روزگار، بنیادی سہولیات اور تعلیم جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جبکہ خاص طور پر لڑکیاں تعلیمی مواقع نہ ہونے کی شکایت کر رہی ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے سربراہ فیلیپو گرانڈی اور یو این ڈی پی کے اعلیٰ حکام نے کابل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طالبان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔
طالبان کے نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی نے کہا کہ افغانستان کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد شدید مشکلات سے دوچار ہے اور ہمسایہ ممالک سے افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی بین الاقوامی قوانین اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ واپس آنے والے افغانوں کی مناسب بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ دوبارہ ہجرت پر مجبور نہ ہوں۔
اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان موجودہ انسانی بحران سے اس وقت تک نہیں نکل سکتا جب تک خواتین کو تعلیم، روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں مکمل شرکت کا حق حاصل نہ ہو۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک پاکستان اور ایران سے 54 لاکھ سے زائد افغان شہری واپس جا چکے ہیں یا بے دخل کیے گئے ہیں، جن میں صرف 2025 کے دوران 29 لاکھ افراد شامل تھے۔
اس وقت افغانستان میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد انسانی امداد کے منتظر ہیں، جبکہ 40 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے امدادی سرگرمیوں کے لیے 1.71 ارب ڈالر کی اپیل کی ہے، تاہم اب تک مطلوبہ رقم کا صرف 16 فیصد ہی دستیاب ہو سکا ہے۔
ادھر پاکستان اور طالبان فورسز کے درمیان سرحدی کشیدگی، تجارت اور آمدورفت کی معطلی نے بھی افغانستان کی معاشی اور انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔