اسکردو سے گلگت کا سفر 6

اسکردو سے گلگت کا سفر

 

 

سفر انسان کے خیالات کو سنوارتا ہے، انسان کو سکون فراہم کرتا ہے اور ذہنی بیزاری کو دور کر دیتا ہے۔ خاص طور پر وہ سفر جس میں ہم سفر کوئی ہمارا ہم خیال ہو، تو سفر کی خوبصورتی اور لطف دوبالا ہو جاتا ہے مجھے گزشتہ دنوں ایک بار پھر اسکردو سے گلگت سفر کرنے کا موقع ملا ہم اسکردو سے غالباً شام چار بجے روانہ ہوئے اور روندو ڈمبوداس میں شام چھ بجے کے قریب پہنچ گئے۔ وہاں فارسٹ ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔ ہمارے ہم سفروں میں روندو کے آر ایف او جناب حاجی محمد حسین مہدی آبادی بھی شامل تھے حاجی محمد حسین مہدی آبادی ایک عظیم اور انتہائی زیرک انسان ہیں۔ انہیں ہر علاقے کے مسائل حالات اور معاملات سے بخوبی آگاہی حاصل ہے۔ ان کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے ہر علاقے کے حوالے سے نہایت مفید معلومات فراہم کیں۔ حاجی صاحب اس سے قبل بھی علاقے روندو میں کافی عرصہ ڈیوٹی انجام دے چکے ہیں، اس لیے علاقے کے بچے بچے تک انہیں جانتے ہیں اور وہ بھی روندو کے حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اگلے دن ہم ڈی سی روندو جناب غلام علی صاحب کے دفتر ان سے ملاقات کے لیے چلے گئے۔ وہاں ڈی سی صاحب نے کھانے کی دعوت دی جسے ہم نے بخوشی قبول کیا۔ یوں ڈی سی غلام علی صاحب سے ملنے کا موقع بھی ملا میں کبھی کبھار ان سے ملاقات کے لیے جاتا رہتا ہوں۔ اس بار بھی ڈی سی ہاؤس کی انتظامیہ نے خوب مہمان نوازی کی ڈی سی غلام علی صاحب بھی علم و ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھنے والی شخصیت ہیں۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوتی ہے، وہ کسی نہ کسی شاعر، ادیب، صاحبِ کتاب اور شمالی علاقوں سے شائع ہونے والی کتابوں پر خوب صورت تبصرہ کرتے ہیں، جس سے محفل کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے اگلے دن ہمارا سفر شہرِ گلگت کی جانب شروع ہوا اور ہم گلگت پہنچ گئے۔ وہاں پہنچنے کے بعد ارضِ شمال کے معروف شاعر مرحوم جمشید خان دکھی صاحب کی یاد آئی۔ لیکن کیا کرے، ان سے ملاقات کا ارمان لیے پھرتا رہا، مگر اب ملاقات ممکن نہیں معلوم ہوا کہ حال ہی میں ان کی شاعری کی دو کتابیں مارکیٹ میں آئی ہیں ان دونوں کتابوں کو حاصل کرنے کا بڑا شوق تھا۔ یہ سوچ کر ان کے فرزندانِ زیشان دکھی اور فیضان دکھی کو فون ملایا، لیکن بدقسمتی سے دونوں صاحبزادوں کے نمبرز بند ملے۔ ان سے بات نہ ہو سکنے کی وجہ سے جمشید خان دکھی صاحب کی دونوں کتابوں سے محروم واپس لوٹنا پڑا ان شاء اللہ پھر کبھی گلگت جاکر ان دونوں کتابوں کو حاصل کروں گا اور اپنی اس تشنگی کو ضرور بجھاؤں گا اگلے دن اسکردو واپس آنے کے لیے بس اڈے کی طرف پیدل جا رہا تھا کہ اچانک اسکردو کے ڈی ایف او جناب زاہد اللہ صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ اسکردو جانے کے لیے نکلا ہوں۔ انہوں نے اپنے کزن، خپلو کے ڈی ایف او جناب خورشید عالم صاحب کو فون کرکے کہا کہ مجھے بھی ساتھ لے چلیں اتنے میں خورشید عالم صاحب بھی آگئے۔ ان کے ساتھ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ڈاکٹر جناب پرویز اقبال صاحب بھی موجود تھے۔ یوں ہم تینوں اسکردو کے لیے ہم سفر بن گئے ڈاکٹر پرویز اقبال صاحب بھی بڑے پیارے اور خوش مزاج انسان ہیں۔ انہوں نے ملک کے مختلف مسائل اور اہم ایشوز پر خوب صورت تبصرے اور تجزیے پیش کیے۔ ان کے خوب صورت خیالات سننے کو ملے اور سفر کا لطف دوبالا ہوگیا ساتھ میں جناب ڈی ایف او خورشید عالم صاحب بھی بڑے فنکار اور پیارے انسان نکلے۔ ان کے خوب صورت خیالات اور دلچسپ گفتگو نے ذہن کو تازہ کر دیا یوں یہ سفر میرے لیے ایک یادگار، خوب صورت اور خوش گوار سفر ثابت ہوا۔ اس سفر میں راستوں کے خوب صورت مناظر کے ساتھ ساتھ ایسے باکمال اور ہم خیال لوگوں کی رفاقت بھی نصیب ہوئی جنہوں نے سفر کی تھکن محسوس ہی نہیں ہونے دی اگر آپ بھی سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو کوشش کریں کہ ایسے خوب صورت اور ہم خیال لوگوں کے ساتھ سفر کریں، تاکہ راستے کی مسافت بھی خوش گوار یادوں میں بدل جائے اور سفر میں تھکن محسوس نہ ہو۔

اگلے مضمون میں پھر ملاقات ہوگی۔ اسی کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

خدا حافظ!!!!!

بشکریہ اردو کالمز