امریکی صدر جوبائیڈن کو بہت جلد پتہ چل گیا کہ اسرائیل عالمی حمایت کھو رہا ہے۔ یہ پتہ چلنے میں انہیں صرف دو مہینے لگے۔ کچھ اور دن کی بات ہے، وہ یہ بھی جان لیں گے کہ محروم ہو نہیں رہا، محروم ہو چکا ہے۔ ایک بیان میں جوبائیڈن نے کہا کہ اب اسرائیل کو بدلنا ہو گا۔ یعنی 20 ہزار نہتے شہری ہلاک کرنے کے بعد بندہ مار مہم کی رفتار بڑھانا ہو گی۔ بائیڈن کا یہ تو تازہ بیان ہے، ان کا ایک اور کلپ بھی وائرل ہے، کب کا ہے، پتہ نہیں۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ ماننے میں کوئی باک نہیں کہ میں صہیونی ہوں۔
عیسائی اور صہیونی؟ کچھ لوگوں کو یہ بات شاید سمجھ میں نہ آئے لیکن بالخصوص پروٹسٹنٹ ابو نجلیکل مسیحی تمام صہیونی ہی ہیں، اپنے عقیدہ کی روسے۔ ان کا اعتقاد ہے کہ حضرت مسیح کی آمد ثانی معبد سلیمانی کی دوبارہ تعمیر سے مشروط ہے۔ یہ معبد نہ بنا تو وہ نہیں آئیں گے۔ قیامت تک نہ بنا تو قیامت تک نہیں آئیں گے چنانچہ ہیکل کی تعمیر کیلئے وہ اصلی صہیونیوں سے زیادہ بے تاب ہیں، یوں ان سے بڑھ کر صہیونی ہیں۔
یہ معبد وہیں بننا ہے جہاں مسجد اقصیٰ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو ہیکل بنایا تھا، مسلمانوں کے نزدیک وہ مسجد تھا۔ پیغمبر مسجدیں ہی بنایا کرتے ہیں۔ اسی لئے قرآن پاک نے اس جگہ کو دور کی مسجد (مسجد الاقصیٰ) کہا۔ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے۔ جب معراج ہوئی، مسجد موجود نہیں تھی لیکن جگہ موجود تھی، مسجد مسمار ہو جائے تو اس کی جگہ پھر بھی مسجد ہی کہلاتی ہے۔ روایت کے مطابق آنحضرت نے اسی جگہ جماعتِ انبیا کی نماز کی امامت کی اور یوں امام الانبیا کہلائے۔ واقعہ معراج کے بعد بھی یہ جگہ خالی رہی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور حکومت میں فلسطین کو مشرف بہ اسلام کیا تو اس خالی جگہ پر مسجد تعمیر کر دی۔ اور اس کا نام ہی دور کی مسجد رکھ دیا یعنی جو نام قرآن پاک نے دیا تھا، وہی!
قرآنی نام دراصل نام نہیں تھا، دور واقع مسجد کی طرف اشارہ تھا لیکن اب یہ اشارہ نام بن چکا ہے۔ بائیڈن صہیونی سہی لیکن مسجد تو بن چکی، جس ہیکل کے بننے کا انتظار وہ کر رہے ہیں، وہ تو بنتا نظر نہیں آتا۔ مبصر نہ خود یہودی مبصرین مستقبل قریب و بعید کے درمیانی عرصے میں ریاست اسرائیل کے انہدام کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
______
اسرائیل نے کہا، فرینڈلی فائر کے دوران 20 یہودی فوجی مارے گئے۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے اپاچی ہیلی کاپٹر نے کیا کیا۔ ایک جگہ یہودی فوجی کسی مکان میں تلاشی آپریشن کیلئے گھسے۔ انہیں کچھ فاصلے پر ایک مشکوک فلسطینی نظر آیا جو اوٹ میں تھا، گولی کا نشانہ نہیں بن سکتا تھا۔ شبہ ہوا کہ اس کے اور ساتھی بھی پاس ہیں۔ ان فوجیوں نے کمانڈ آفس کو پیغام بھیجا کہ اپاچی ہیلی کاپٹر روانہ کرو اور مشکوک مقام کی نشاندہی کی۔ ہیلی کاپٹر فوراً پہنچا اور میزائل چلا دیا لیکن وہ مشکوک مقام کے بجائے اس مکاں پر گرا اور سارے کے سارے فوجی مارے گئے، نشانہ خطا ہوا یا چلایا ہی غلط تھا ، پتہ نہیں۔ 20 سے زیادہ فوجی تو اسی ایک مقام پر مرے۔ یہ واقعہ منگل کا ہے، یعنی آج کے حساب سے پرسوں کا اور پرسوں کا دن اسرائیلی فوج پر بہت بھاری تھا۔ حماس نے اس روز 20 حملے کئے، غزہ شہر سے لے کر خان یونس تک اور ہر حملے کی تفصیل بتاتی ہے کہ کسی حملے میں دس مرے، کسی میں بارہ اور کسی میں پانچ، کل ملا کر 30 اسرائیلی فوجی اسی پرسوں کے دن مارے گئے، اپاچی ہیلی کاپٹر نے جو مارے ، وہ الگ ہیں ، گویا منگل کا دن اسرائیل کیلئے بھاری ترین رہا۔ اس سے پہلے تک ایک بھاری دن آیا تھا جب 75 فوجی ایک ہی روز مارے گئے۔ اسرائیل یہ سارے واقعات چھپا رہا ہے اور اپنی اس گنتی پر قائم ہے کہ اس کے تو ساری جنگ میں ڈیڑھ سو فوجی مرے لیکن حماس ہر واقعے کی تفصیل بھی بتا رہا ہے اور وڈیو بھی جاری کرتا ہے۔ عالمی میڈیا حما س کی دی خبریں نہیں نشر کرتا کیونکہ حماس دہشت گرد تنظیم ہے۔ وہ صرف پرامن اسرائیلی حکومت کے بیانات ہی چلاتا ہے۔
بحیرہ احمر (قلزم) کا معاملہ سنگین ہونے لگا ہے۔ اسرائیل کو ایندھن پہنچانے والا ایک نارویجن جہاز حوثیوں نے ڈبو دیا۔ امریکہ نے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا ہے جو بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں کی حفاظت کرے گی۔ خیر سے اس ٹاسک فورس میں دو مسلمان عرب ملک بھی شامل ہوں گے، صہیون کے دو عرب محافظ حوثیوں نے کہا ہے، صرف اسرائیلی جہاز ہی ان کے نشانے پر نہیں ہوں گے، ان کی حفاظت کرنے والے جہازوں پر بھی میزائل چلائیں گے۔ امریکہ اب کیا کرے گا، شمالی یمن کو بھی عراق بنا دے گا کیا؟
______
سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال بعد انصاف مل گیا۔ بے معنی، لایعنی۔ سازشی اور جھوٹے دونوں مقدمات سے وہ بری ہو گئے۔ پراجیکٹ عمران کی لانچنگ کیلئے بنائے گئے ان مقدمات میں نواز شریف بری تو اسی دن ہو گئے تھے جب سزا سنانے سے چند دن پہلے ثاقب نثار کی ہیروں پر مشتمل جے آئی ٹی کے کوہ نور ہیرے واجد ضیا نے عدالت میں صاف بتا دیا تھا کہ ثبوت وبوت ہمارے پاس کوئی نہیں، بس آپ سیدھے سبھا سزا سنا دو۔
بہرحال سزا سنانے کا عمل سیدھے سبھا نہیں تھا۔ فیلے اس وقت کے ایک کرنل صاحب کے ہاں سے ہو کر ثاقب نثار، پھر نگراں جج تک آتے تھے اور نگراں جج نیچے ارسال کرتے تھے جو سنا دئیے جاتے تھے۔ باجوہ نے سال گزشتہ یہ اعتراف کیا کہ یہ فیصلے انہوں نے دو وکیلوں سے لکھوائے تھے۔ پتہ نہیں ، ان دونوں وکیلوں کو ستارہ امتیاز کیوں نہیں ملا۔ ان مقدمات میں سزا سے پہلے کرنل صاحب پانچ رکنی بنچ کے ذریعے نواز شریف کو تاحیات نااہل کرا چکے تھے۔ کرنل صاحب بڑی لیاقت رکھتے تھے، افسوس تمغہ لیاقت سے محروم ہی رہے۔
پنامہ بنچ کو ’’اعزازات ‘‘ دینے کے لیے صدر محترم سے گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ کوئی ریفرنس ارسال فرمائیں۔
نواز شریف کو انصاف وصول کرتے کرتے بہت قیمت دینا پڑی۔ حکومت ختم ہوئی، جیل میں رہے، جلاوطنی کاٹی، بیوی کی وفات کے وقت جیل میں تھے، آخری بار فون کرنے کی اجازت مانگی لیکن انصاف خان نہیں مانے۔ ٹی وی چینلز پر 3 ہزار گھنٹے کی نشریات میں انہیں چور ڈاکو کہا گیا۔ چور ڈاکو کتنی بار کہا گیا شائد 2 ملین سے بھی زیادہ۔ انصاف مل گیا، ازالہ نہیں مل سکے گا۔
اور پاکستان کو انصاف کب ملے گا۔ پراجیکٹ عمران نے اس کی چولیں ہلا دیں۔ کھرب ھا کھرب روپے کی معاشی تباہی، بھوک ، ننگ ، افلاس، جرائم میں اضافہ، گھروں کے گھر، آبادیوں کی آبادیاں تباہ ہو گئیں، سماجی انارکی پھیل گئی، کرپشن میں اتنا اضافہ ہو گیا کہ صدیوں کا سفر ساڑھے تین سال میں طے ہو گیا، اوپر سے ’’رحونیاتی‘‘ عذاب نے غلط کاری کی ہے، حرام کام کئے ہیں، اربوں کی کرپشن وصول کی ہے، ہیروں کے ہار ہتھیائے ہیں، سونے کی گھڑیاں بیچی ہیں، بچے اغوا کئے ہیں تو کیا ہوا، ذاتی معاملہ ہے، ذاتی معاملے میں مداخلت کرنے والوں کو شرم کرنی چاہیے۔ پاکستان اس عرصے میں الٹی چھری سے ذبح ہوا…اسے انصاف ملے گا؟۔ بالقین نہیں!
اسرائیل کا انہدام