جس طرح کے رویے اسی طرح کا معاشرہ پنپتا ہے معاشرہ انسانی رویہ کا عکاس ہوتا ہے اس کے اقدار وہاں کے رہنے والوں کی اخلاقی عروج یا پستی کو ظاہر کرتا ہے اس کے اندر ہونے والے واقعات ہر اس انسان پر اثر ڈالتا ہے جو اپنے آپ کو اس معاشرے کا حصہ سمجھتا ہو ،
پچھلے کچھ دنوں سے جو واقعات رو نما ہو رہے ہیں ان واقعات نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کو جھجوڑ کہ رکھ دیا سمجھ نہیں آرہا بندہ اس پہ کیا لکھے معاشرے کی اس تنزلی پہ روئے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے لفظ کم پڑ جاتے ہیں ۔
کراچی میں نمرہ بچی کے ساتھ جو بربریت رچاءی گئی اس کے اگلے دن ہی گجر پورہ میں جو اذیت ناک اور وحشتناک رویہ ہماری ایک بہن کے ساتھ رونما ہوا اس کی مزمت کرنے کے لیے کم ازکم میرے پاس کوئی الفاظ نہیں اس مظلوم بہن کو یہ یقین دلانے کے لئے کہ ہمیں کتنی تکلیف پہنچی ہے ہر حساس اور انسانیت کا تھوڑا بھی احساس رکھنے والا انسان اپ کے کرب کو محسوس کر سکتا ہے کیونکہ ہم سب اسی سوسائٹی میں رہ رہے ہیں بدقسمتی سے جہاں عورت کو ہی پوائنٹ آؤٹ کیا جاتا ہے کہ عورت دوسروں کے مزاج کے مطابق کیوں نہیں جی رہی یہ اس معاشرے کا المیہ ہے ۔ ہم کتنے دن شاک میں رہیں کیسے مذمت کرے کوئی لفظ نہیں مل سکے جس سے کچھ دل کو ڈھارس پہنچے یا اس تکلیف کا کچھ ازالہ ہو سکے اسی طرح اس سفاک ذہنیت کے بارے میں بھی سارے لفظ کم پڑ رہے ہیں اس کی مذمت کس نام سے کی جائے سارے قابل مذمت نام اس بربریت کے سامنے ہیج ہیں ،
یہ ملک جس اخلاقی زوال اور پستی کی طرح رواں دواں ہے نجانے اس کا انجام کیا ہوگا ،میں کہیں پڑھ رہی عورتوں اور بچوں کے ساتھ سفاکی کی جو رپورٹیڈ کیسز تھے انسان کا دماغ ماءوف ہو جاتا ہے یہ بربریت اور تو ہیں کی وہ کیسز ہیں جو سامنے آرہے ہیں اور کتنے ہونگے جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے ،
اس ٹاپک پہ لکھتے ہوئے بھی انسان کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں پھر یہ بات بھی محسوس ہوتی ہے کہ معاشرے کے اس ناسوز سوچ کے بارے میں لکھنا ہی قلم کی جنگ ہے یہ لکھنے والے پر قرض بھی ہوتا ہے اور یہی قلم کا حق بھی ہے اور اس جنگ کو ہم سب نے مل۔کر لڑنی ہے اور ظلم برائی کے خلاف آواز اٹھانا ہر ضمیر کی آواز ہونی چاہیے ،
معاشرے کے یہ جو دو پہیے ہیں عورت اور مرد اس دونوں نے مل کر ہی اس معاشرے کو ان ناسور شیطانی رویوں سے پاک کرنا ہے ، اس بات کو کہتے ہوئے ہمیں کوئی ہچکچانا نہیں چاہئیے کہ اس معاشرے میں بہرحال گجر پورہ جیسے مینٹالٹی کی بہت سی قسمیں ہیں ۔لیکن یہ جو قسم ہے یہ تو حیوانیت کی اخری پہنچ ہے
لیکن عورت کے استحصال اور اس کو قبول نہ کرنے کی یہ مائنڈ سیٹ ہر جگہ تو نہیں لیکن کافی جگہ پائے جاتے ہیں اور اس کا وکٹم ہر وہ عورت بنتی ہے جو شعور رکھتی ہے جو اپنی ڈگنٹی پر کمپروماءز نہیں کرتی جو غلط اور صحیح میں فرق جانتی ہے ، یہ سب وہ خواتین ہیں جو محض ڈگری ہولڈر نہیں صحیح پڑھی لکھی ہوتی ہیں ۔تہذیب یافتہ گھرانوں کی ہوتی ہیں ۔کہ جب ان کا پالا ایسے مائنڈ سیٹ سے پڑتا ہے جب وہ کام کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہیں تو ان کو اپنے لائن پہ لانے کی کیسے کوشش کی جاتی ہے کیسے تنگ کیا جاتا ہے اور کسطرح ڈسکریمینیشن سے ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ہر اس عورت کی کہانی ہے جس نے اپنی خدداری کا بھرم رکھا ہے اپنی اصولوں کے ساتھ جینا جانتی ہے تو اس مائنڈ سیٹ کو یہ بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ بھئی ہر عورت تمہاری بکواس باتوں پہ بتیسی نکال کر تمہیں شے نہیں دے سکتی تمہیں انٹرٹین نہیں کر سکتی، تفریح مہیا نہیں سکتی نہ ہی تمہاری خباثت بھری ذہنیت کو نظرانداز کر سکتی ہے اور نہ ہی تمہارے ماحول میں ڈھل سکتی ہے اس لئے اس بات کو سمجیھے،
کیونکہ مسئلہ ہمیشہ شعور والے انسان کے ساتھ ہوتا ہے بھیڑ بکریوں کی ریڑھی جس طرف کرو گے اس نے ادھر ہی جانا ہے ، پھر مسئلہ کیسا،
اور یہ مائنڈ سیٹ پھر ایسے واقعات کے مذمت میں بھی سب سے آگے ہوتی ہے جیسا کہ زینب بچی کی نماز جنازہ میں وہ سفاک شیطانی طاقت بھی موجود تھا مطلب یہ اتنے ڈھیٹ اور قابل نفرت ہوتے ہیں ۔
ایک اچھا بدلاءو یہ ایا ہے کہ اب ایسی باتیں چھپ نہیں رہی اوپر آرہی ہے کیونکہ ظلم جب دب جاتا ہے تو وہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے اور یہی کچھ ہو رہا ہے اس معاشرے کے ساتھ بھی ،
اس کے ساتھ ساتھ اس معاشرے میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو عورت کی عزت دینا جانتے ہیں وہ مرد حضرات بھی ہیں جو بہت سپورٹ کرتے ہیں جن کے اخلاقی اقدار جن کی فیملی ویلیوز ان کی رویوں سے پتہ چلتا ہے جو عورتوں کے حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں لکھ رہے ہیں کیپیٹل سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں ،
اور اس بربریت کی سزا بھی چوراہے پہ پھانسی ہی ہونی چاہیے اسلام کے کیپٹل پنشمنٹس کو سختی سے لاگو ہونے چاہئے تاکہ کوئی اس طرح سوچے تو اس کی روح کانپے،
اور جو اس بارے میں ابہام رکھ رہے ہیں انکا ایجنڈا بھی لوگ دیکھ رہے ہیں سمجھ رہے ہیں اپکے جینوا کنوکشن کے ارٹیکلز شام، فلسطین ،کشمیر کے نہکتے انسانوں پہ لاگو نہیں ہو سکتے تو ہمارے اوپر اپنے کارندوں کے ذریعے زبردستی تو مسلط کرنے کی کوشش مت کرو تمہاری ہمدردی اگر اس شیطانی طاقت پر امڈ کہ ا رہی ہے تو سوچنے کی ضرورت ہے اپنی تربیت پر کہ کہاں کھڑے ہو،
ان ارٹیکلز کی اصلیت اور اہمیت ہمیں بہت اچھی طرح پتہ ہے اس ملک کی میجارٹی کی جو رائے ہے اس ملک کے وزیراعظم نے اس پر اپنی مہر ثابت کر دی ہے ، بات ختم
ہمارا مذہب ہمیں سیکھاتا ہے کہ کن پہ ہم نے ترس کھانا ہے اور کن پر آواز اٹھانی ہے ہمارے مذہب میں کان کے بدلے کان ناک کے بدلے کا نظریہ ہے اور غلط کے خلاف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حکم ہے یہ ساٹھ کے قریب ممالک ایسے ہمیں نہیں ملے،
جہاں کٹر اسلامی قوانیں لاگو ہیں وہاں ان واقعات کی ریشو بہت کم ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں جیسے سعودیہ اور ایران،
ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم میں جو سقم موجود ہیں ضرور ان کو مظبوط کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے کیسز کو روزانہ کی بنیاد پر ڈیل کر کے فوری انصاف دینے کی ضرورت ہے جو شاید انے والے قانون سازی میں شامل بھی ہو ، اس کے ساتھ ہی ذہن سازی اور اس مائنڈ سیٹ کو ہر لیول پر ایکسپوز کرنے کی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ،اس میں اچھے مرد اور اچھی عورتیں مل کر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور ہماری پولیس جس نے دہشت گردی اور ماضی قریب میں کووڈ کے دنوں میں بخوبی اپنا کردار نبھایا تھا لیکن افسوس اپنے بہنوں کی حفاظت میں انہوں نے بہت کوتاہی دیکھائی ہے ایسی جگہوں پہ ناکے لگنے چاہئیے آخر ہم کیوں واقعہ ہونے کے بعد ہی جاگ جاتے ہیں سی سی پی او صاحب کی غیر زمہ درانہ اسٹیٹمنٹ ہو یا ہمارے سیاسی لیڈروں کی سیاسی جگت یہ ہمارے سسٹم کے وہ کالے نقاب ہیں جو ایسے واقعات پہ اترتے ہیں پتہ چلتا ہے کہ جو ہماری حفاظت کی کمان لے کر پھر رہے ہیں ان کو تو ڈھنگ سے بولنا بھی نہیں اتا تو ان سے سسٹم کی بہتری کا کیا توقع رکھے ۔ اس لڑائی کو اچھے انسانوں نے ہی لڑنی ہو گی بے حس معاشرے اور بے حس رویوں کے خلاف۔
520