طلباہ کو جب حقوق نہیں ملتے تو اس کے دو رس نتائج نکلتے ہیں یا تو وہ چوری ڈکیتی کرنے اور غلط راہ اپنانے پر مجبور ہوتے ہیں یا پھر وہ تنظیم بنا کر اس کے ذریعے سیاست میں نمو دار ہوتے ہیں یا پھر اپنے فیلڈ میں اچھے نام کماکر ملک کا نام روشن کرتے ہیں پاکستان میں طلباہ اور ریاست کا ٹکراؤ پہلی بار نہیں ہورہا بلکہ ان کی بہت لمبی اور دردناک تاریخی پس منظر ہے پاکستان میں 1949 ء میں بائیں بازو خیالات کی حامل ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ڈی ایس ایف) تنظیم وجود میں آئی۔ اس تنظیم کو مولانا بھاشانی، فیض احمد فیض، کامریڈ امام علی نازش، حسن ناصراور معراج محمد خان جیسی شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی۔
8 جنوری 1953 میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے طلباہ گروہ نے محض فیسوں کی بڑھتی ہوئی اضافے اور لائبریریز کے قیام کیلئے ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس پیڈریشن تحریک کی روح سے ریاست پاکستان سے آئینی اور بنیادی مقصد تعلیم سب کیلئے کئے گئے مظاہرے اور اس کے ردعمل سے بخوبی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ریاست کتنے حد تک آپنے رعایا, مستقبل کے معماروں کے ساتھ مخلص ہے تعلیم معاشرے کو شعور یافتہ بنانے کیلئے ہمیشہ سے بنیادی ستون کا کردار ادا کرتا آرہا ہے کسی بھی مہذب معاشرے کا دارو مدار, رہن سہن,طرز زندگی ,سکول آپ تھاٹس,چال چلن آچھے تعلیم پر ہوتی ہے مذہبی اور دنیاوی تعلیم دونوں فرد کے زندگی میں شعور,امن,احساس,ہمدردی,صبر و تعمل پیدا کرنے کیلئے ایک روشن شمع کے مانند ہوتی ہے اور سیاست اس بنیادی ضروریات کو ترتیب وار انفرادی اور اجتماعی زندگی پر عمل درآمد کرنے کا آسان سا فارمولا بتاتا ہے اس آئینی ڈیمانڈ کو بھی سیاسی رنگ دیکر بیچ چوراہے مظاہرین پر گولیاں برساہی گئی جس سے 6 طلباہ شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے اس یونین نے بعد میں بہت بڑے ہیرو مادر ملت کیلئے پیدا کیئے ہیں جنہوں نے اپنی فیلڈ میں آچھے نام کمائے جن میں ڈاکٹر سرور,ڈاکٹر خواجہ معین احمد,ڈاکٹر سید ہارون احمد,ڈاکٹی ادیب الحسن رضوی,ڈاکٹر غالب,ڈاکٹر محمد یوسف,ڈاکٹرصفدر علی,ڈاکٹر ایوب مرزا اور ڈاکٹر رحمان علی ہاشمی شامل ہیں ان سب نے اپنی بساط سے زیادہ ملک کیلئے خدمات دیں
یہ سلسلہ یہاں رکھا نہیں بلکہ آمر ایوب اور ضیاہ الحق کے دور میں طالب علموں کو بے درپے مشکلات کا سامنا کرنا پڑھا جب امر ایوب خان کے دور میں سٹوڈنٹس یونین کے پابندی کے خلاف 1958 میں ایک ملگیر تحریک چلی تو صدر ایوب کو مجبوأ مستعفی ہونا پڑا پھر امر ضیا الحق کوطلباہ یونین پر پابندی لگانی پڑی جو ابھی تک بحال نہیں ہوی ان سب واقعات و حدثات اور حالات تناظر کو دیکھتے ہوے انسانی ذہن اسی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ یونین پر پابندی اور طلباہ کا قانونی مسلۂ حل کرنے بجائے اس کو دوسرا رخ دیکر مذموم کرنا کبھی بھی خلیفہ وقت کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوسکتا.
یہی حالات آج کل بی ایم سی بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں ہے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نقیب اللہ آچکزئی نے پسماندہ بلوچستان کے ذہین طلباہ کے ساتھ تعلیمی استحصال کا بے دریغ استعمال کیا بولان میڈیکل کالج جو کہ صوبے میں واحد سرکاری ادارہ ہے جو صاحب مال نہیں ہے انہیں مفت تعلیم مہیا کرتی ہے جس سے سالانہ تقریبأ پانچ سو ڈاکٹر فارغ التحصیل ہوتے ہیں لیکن اب چونکہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا تو یونیورسٹی اپنی ادھی سے زیادہ روینیو خود بناتی ہے اس کیلئے وہ طلباہ و طالبات پر فیسیں لگاتی ہے لیکن اتنی فیس جو کہ لور کلاس فیملی کی بساط میں ہو مگر بی ایم سی کے وائس چانسلر نے فیس 25000 سے بڑھا کر 70000 تک کر دیا جو کہ مڈل کلاس فیملی کیلئے بھی مشکلات کے باعث ہے لور کلاس والوں کا تو آللہ ہی وارث ہے ادھر وفاقی اور صوبائی حکومت یونیورسٹی کو فنڈ نہیں دے رہی ہے جس سے ہزاروں طلبعلموں کا مستقبل داؤ پر لگایا گیا اسی سلسلے میں طلباہ نے پر امن احتجاج کیا مگر صوبائی حکومت کی ایما پر مظاہرین کو گرفتار کیا خواتین پر تشدد کیا گیا جو کہ سراسر ناجائز اور نا انصافی ہے جب مزاکرات کیلئے کامریڈ ماہ رنگ بلوچ کی سرفرستی میں طلباہ کابینہ گئی تو صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے مسلۂ حل کرنی کی بجائے الٹا انہیں عورت ذات سے مخاطب کر کے بلوچی روایات پامال کرنے کے طعنے دئیے تو جناب دستور پاکستان میں احتجاج کا حق پاکستان کے ہر شہری کو حاصل ہیں اس میں جینڈر کو فوقیت ہر گز نہیں دی گئی خدارا آپ مسلۂے حل کرنے کوشش کریں نہ کہ مزید بڑھانے کی آگر حل نہیں کر سکتے تو آپنی نشست سے برخاست ہوجائیں