کائنات کا وہ خوش قسمت ترین بچہ ۔۔ جسے نبی کریمﷺ نے بطور دادا پروان چڑھایا۔۔۔ 760

کائنات کا وہ خوش قسمت ترین بچہ ۔۔ جسے نبی کریمﷺ نے بطور دادا پروان چڑھایا۔۔۔

(لوگو) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں ،لیکن اللہ تعالٰی کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں ،اور اللہ تعالٰی ہرچیز کو (خوب) جانتا ہےـ ( الاحزاب 40) اس آیت مبارکہ کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریمﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ،تو صلبی دادا ہونا ناممکن ہے۔۔ نبی کریم ﷺ کو اپنے متعلقین میں حضرت حسنینؓ سے زیادہ کسی سے محبت نہ تھی، لیکن یہ خوش قسمت وہ بچہ ہے، جو اس محبت میں بھی شریک و سہیم تھے،آقا ﷺ ایک زانو پر انہیں بٹھاتے اور ایک پر امام حسنؓ کو اور دونوں کو ملاکر فرماتے کہ خدایا میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں اس لیے تو بھی رحم فرما دوسری روایت میں ہے کہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اس لیے تو بھی محبت فرما۔۔ اس بچے کا تعارف کرانے سے قبل ان کے والدین کا تعارف اس لئے ضروری ہے کہ ان کے والدین کو اللہ کریم نے نبی کریمﷺ کو عطا کی گئی شریعت کے کچھ اہم ستون بنانے میں استعمال فرمایا۔۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ سب وحی غیر متلو کا ہی حصہ تھے۔ اس جلیل القدر بچے کی والدہ کا نام ام ایمن ہے۔ آپ کا نام ”برکۃ ”ہے ۔آپ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باندی تھیں۔ جو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو آپ کے والد ماجد کی میراث میں سے ملی تھیں۔انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بچپن میں بہت زیادہ خدمت کی ہے ۔ یہی آپ کو کھانا کھلایا کرتی تھیں ، کپڑے پہنایا کرتی تھیں، کپڑے دھویا کرتی تھیں۔۔ یہی ام ایمن ہیں جنہوں نے حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے وقت نبی کریمﷺکے انسوں سے بھرے چہرے کو پیار کیا انہیں گلے سے لگایا اور ان کی والدہ ماجدہ کی تن تنہا تدفین فرمائی۔۔ اور نوجوان ام ایمن ننھے 5 سالہ آقاﷺ کو گود میں اٹھا کر تن تنہا مکہ آئیں۔۔ اور پھر آقاﷺ کو کبھی بھی خود سے جدا نہیں کیا۔۔ اس مبارک بچے جسے آقا کریمﷺ نے دادا بن کر پالا ان کے والد وہ خوش قسمت ترین انسان ہیں ۔۔ جن کا ذکر نام کے ساتھ قرآن مجید میں آیا ہے۔۔اور جہالت کے دو خود ساختہ اصولوں کو توڑنے میں اللہ کریم نے انہیں استعمال فرمایا ۔۔یعنی منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح۔۔ ترجمہ : حالانکہ اللہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید اس سے حاجت پوری کر چکا تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہو جب کہ وہ ان سے حاجت پوری کرلیں، اور اللہ کا حکم ہوکر رہنے والا ہے۔( سورہ الاحزاب 37) ہم سب جانتے ہیں کہ نبی کریمﷺ حضرت زید بن حارثہ کو الاعلان عرب معاشرے کی روایات کے مطابق اپنا بیٹا بنا چکے تھے۔۔آپ کو بچپن میں اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔ کئی ہاتھوں سے بکتے ہوئے آپ کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے خرید لیا اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی نذر کر دیا حضرت خدیجہ نے اس غلام کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نذر کر دیا یہ درحقیقت ایک آزاد عیسائی خاندان کے لڑکے تھے۔آپ کے والد حارث اور چچا کعبہ آپ کو لینے مکہ آئے تو زید نے اپنے والدین کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ یہ دیکھ کر آپ کے والد خفا ہوئے اور کہا کہ تم آزادی کی زندگی کو غلامی پر ترجیع دیتے ہو زید نے کہا کہ میں نے آقاﷺمیں وہ بات دیکھی کہ ان کے لیے میں باپ تو کیا کائنات چھوڑ سکتا ہوں۔ یہ سن کر اقا کریمﷺ کی رحمت مبارکہ جوش میں آگئی اور بہت خوش ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زید کو لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور اعلان فرما دیا کہ لوگوں سن لو میں زید کو آج سے آزاد کر کے اپنا منہ بولا بیٹا بناتا ہوں.اس کے بعد زید بن حارث کی بجائے زید بن محمد کہا جانے لگا۔۔ اور آپ کریمﷺکی محبت اور شفقت حضرت زید سے اس قدر زیادہ تھی کہ حضرت زید نے صحابۂ کرام میں حِبُّ النَّبِی یعنی ”نبی کے محبوب“ کا لقب پایا،۔۔ حضرت ام ایمنؓ آنحضرت ﷺ کی آیا اور کنیز تھیں، آپ ﷺ ان کو نہایت محبوب رکھتے تھے،اور اماں کہہ کر مخاطب فرماتے تھے، ایک روز آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص وفوریاس ( بڑی عمر) کسی جنتی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس کو ام ایمن ؓ سے نکاح کرنا چاہیے، حضرت زیدؓ نے جو رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، ان سے نکاح کر لیا۔۔ یہ ایک اور تاریخ کا عجیب واقعہ ہے۔۔ کہ آقاﷺنے اپنی منہ بولی ماں کا رشتہ خود اپنے منہ بولے بیٹے سے فرمایا ۔۔ اور اس وقت تک ام ایمن سن یاس ( یعنی کافی بوڑھی) ہو چکی تھیں ۔۔ اور حضرت زید نوجوان لیکن نبی کی محبت میں انہوں نے یہ شادی کر لی۔۔ اور اس شادی کے نتیجے میں وہ خوش قسمت ترین بچہ اس کائنات میں پیدا ہوا جو بغیر کسی شک کے یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی گود اس کے لئے دادا کی گود تھی۔ آپ کی کنیت ابو محمد اور لقب الحب بن الحب(محبوب بن محبوب) تھا۔ ہجرت سے سات سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے اور آپ کا نام مبارک اسامہ بن زید ہے۔۔ جس طرح آقاﷺنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پرورش پیدائش سے جوانی تک بالکل ایک بیٹے کی طرح فرمائی لیکن یہ بات تاریخ دانوں سے ہمیشہ پوشیدہ رہی کہ آقاﷺنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بالکل ایک باپ کی طرح پالا ،انہیں نہلاتے ،شیر خوارگی میں انہیں کجھور اپنے منہ مبارک میں نرم کر کے کھلاتے اور انہیں اپنے سینے پر لیٹا کر سلا دیتے۔۔ اسی طرح آپ کریمﷺ نے حضرت اسامہ بن زید کی پرورش فرمائی۔۔ کیونکہ آقا کریم کی دو محبوب ترین ہستیوں کی حضرت اسامہ اولاد تھے، اسامہ بن زیدؓ کی بارگاہ نبوت میں پذیرائی اور ان کی محبوبیت ان کا مخصوص طغرائے امتیاز تھا، جو بلا استثنا کسی صحابی کو حاصل نہ تھا۔ آنحضرت ﷺ نے بارہا اپنی زبان مبارک سے اس کا اظہار فرمایا ہے، اور اسامہؓ کے ساتھ آپ کا طرز عمل بھی اس کا شاہد ہے۔۔ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ یہاں حضرت اسامہ کا موازنہ اہل بیت ،حضرت علی یا حسنین کریمین سے کیا جا رہا ہے۔۔ بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ نبی کریمﷺکے لئے ام ایمن ،حضرت زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید بھی اہل بیت کی طرح تھے۔۔ اور اس کا اظہار آپ کریمﷺ نے کئی مقامات پر فرمایا۔۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اسامہؓ مجھ کو سب لوگوں میں محبوب تر ہے۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ اس کا باپ مجھ کو سب سے زیادہ محبوب تھا، اب یہ سب سے عزیز ہے۔ ایک مرتبہ اسامہؓ چو کھٹ پر گرپڑے اورپیشانی پر زخم آگیا، آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اس کا خون صاف کردو، آپ کو کراہت معلوم ہوئی تو خود اُٹھ کر صاف کرکے لعاب دہن لگایا۔ کبھی کبھی وفور محبت میں مزاح بھی فرماتے تھے،ایک مرتبہ اسامہؓ کا شانہ نبویﷺ میں بیٹھے تھے، حضرت عائشہ بھی تشریف فرما تھیں، آپ اسامہؓ کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ اگر یہ بیٹی ہوتی تو میں ان کو خوب زیور پہناتا اور بناؤ سنگار کرتا، تاکہ ان کا چرچا ہوتا اور ہر جگہ سے پیام آتے۔ بارگاہِ نبوت میں اسامہؓ کے رسوخ کا اس سے اندازہ ہوگا کہ جب کوئی ایسی سفارش آنحضرت ﷺ سے کرنی ہوتی جس میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا جھکتیں تو وہ اسامہؓ کے سپرد کی جاتی، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی لوگوں نے کہا اس کے بارے میں کون شخص آنحضرت ﷺ سے سفارش پر آمادہ ہوتا ہے، اسامہؓ کے علاوہ کسی کی ہمت نہ پڑی، انہوں نے جاکر آپ سے گفتگو کی؛ لیکن حدود اللہ کا معاملہ تھا، اس لیے آنحضرت ﷺ نے نہ سنی؛بلکہ آپ کو ناگوار ہوا اور فرمایا اگر بنی اسرائیل میں کوئی شریف آدمی چوری کرتا تھاتو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور اگر معمولی آدمی اس کا مرتکب ہوتا تھا تو اس کے ہاتھ کاٹتے تھے،خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔ اسامہؓ آنحضرت ﷺ کے محرم راز اور معتمد علیہ تھے اوران کی حیثیت اہل بیت میں ممبر خاندان کی تھی، حضرت عمرؓ نے اپنےزمانۂ خلافت میں ہمیشہ ان کا خیال رکھا؛ چنانچہ جب آپ نے تمام صحابہؓ کے وظائف مقرر کیے تو اپنے صاحبزادہ عبداللہ کا ڈھائی ہزار اوراسامہؓ کا تین ہزار مقرر کیا، عبداللہ نے عرض کیا اس تفریق کا کیا سبب ہے،جب کہ میں تمام غزوات میں اسامہؓ کے دوش بدوش رہا اورآپ ان کے والد زید سے کبھی پیچھے نہ رہے، فرمایہ یہ سچ ہے، لیکن آنحضرت ﷺ ان کو تم سے اوران کے والد کو تمہارے باپ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ جس طرح نبی کریمﷺ کو حضرت علی کی صلاحیتوں پر کوئی شک و شبہ نہیں تھا کہ ان کی تربیت آغوش رسول میں ہوئی تھی اسی طرح ابھی حضرت اسامہ کی عمر 18 یا 20 سال تھی اور یہ نبی کریمﷺکے ظاہری حیات کے آخری چند روز تھے۔۔ چنانچہ صفر 11ھ میں آنحضرت ﷺ نے ایک سریہ کی تیاری کا حکم دیا اور اسامہؓ بن زید کو بلا کر اس کے متعلق ضروری ہدایات فرمائیں، یہ سریہ دراصل جنگ موتہ میں شہید ہونے والے اکابر صحابہ حضرت زید بن حارثہ ، حضرت جعفر طیارؓ اورحضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے انتقام کے لئے تیار کیا گیا۔۔ لیکن ابھی یہ سریہ روانہ نہ ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو بیماری کی علامات شروع ہوگئیں، مگر آپ پر حضرت زیدؓ اور جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اتنا اثر تھا، کہ اس کی روانگی ملتوی نہ فرمائی اور اسی بیماری کی حالت میں اپنے دست مبارک سے علم مرحمت فرمایا اور سریہ روانہ ہوگیا، پہلی منزل مقام جرف میں کی، اس سریہ میں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ ، ابوعبیدہ بن جراح، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور قتادہ بن نعمان رضوان اللہ علیہم جیسے کبار صحابہ سب اسامہؓ کی ماتحتی میں تھے، بعض لوگوں کو یہ ناگوار ہوا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑکے کو مہاجرین اولین پر امیر بنایا ہے،آپ کو اس کی خبر ہوئی تو اس سے بہت تکلیف پہنچی اور اسی بیماری کی حالت میں سر میں پٹی باندھے ہوئے نکلے اور منبر پر چڑھ کر ایک مختصر تقریر فرمائی کہ اسامہ بن زید کو امیر بنانے میں بعض لوگوں نے جونکتہ چینیاں کی ہیں، اس کی اطلاع مجھ کو ملی، اسامہ بن زید کی امارت پر یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، تم لوگ اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کرچکے ہو، خدا کی قسم وہ افسری کا سزاوار تھا اور اس کے بعد اس کا لڑکا افسری کا سزاوار ہے، وہ مجھ کو بہت محبوب تھا، اوریہ بھی ہر حسن ظن کے لائق ہے اس لیے تم لوگ اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آیا کرو کہ وہ تمہارے بہتر لوگوں میں ہے، اس تقریر کے بعد آپ کا شانہ اقدس میں تشریف لے گئے۔ چونکہ آنحضرت ﷺ آخری وقت تک برابر اسامہؓ کو روانگی کی تاکید فرماتے رہے تھے، اس لیے حضرت ابوبکرؓ نے مسندِ خلافت پر قدم رکھتے ہی اسامہ ؓ کو روانگی کا حکم دیا، کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق کو حصرت اسماہ کی کم عمری سے زیادہ آقا کریمﷺ کی پرورش اور تربیت پر یقین تھا ۔۔ اور حضرت ابو بکر صدیق یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ نبی کریمﷺکے نظڑ انتخاب رشتہداری کی بنیاد پر نہیں ہوتا تھا ۔۔ بلکہ صلاحیتوں اور قرب الہیہ میں قربت اعلی پر ہوتا تھا۔۔ لہذا جب حضرت ابوبکرؓ نے اسامہؓ کو روانگی کا حکم دیا تو انصار کی جماعت نے آپ کے پاس حضرت عمرؓ کو بھیجا کہ اسامہؓ کے بجائے کسی سن اور معمر شخص کو امارت کا عہدہ دیا جائے، یہ پیام سن کرآپ بہت برہم ہوئے اورفرمایا، ابن خطاب !جس شخص کو رسول اللہ ﷺ نے امیر بنایا ہے تم مجھ سے اس کے معزول کرنے کی خواہش کرتے ہو !اور بلاکسی قسم کی تبدیلی کے بعینہ وہی فوج روانہ کی اور تھوڑی دور خود پیادہ پارخصت کرنے کے لیے گئے،اسامہؓ نے عرض کیا یا خلیفہ رسول اللہ!آپ سوار ہو کر چلیں ،ورنہ ہم لوگ سواریوں سے اتر پڑیں گے، فرمایا نہ مجھ کو سوار ہونے کی ضرورت ہے، نہ تم کو اترنے کی، میرے پیروں کو اللہ کی راہ میں غبار آلود ہونے دو، صرف سرگوشی میں التجاء کے طور پر حضرت اسامہ سے ارشاد فرمایا کہ امور خلافت میں اگر وہ چاہیں تو حضرت عمر کو ان کے پاس رہنے دیں۔۔ جس کو حضرت اسامہ نے سر تسلیم خم کر کے منظور کیا۔۔ غرض حضرت ابوبکرؓ نے اس شان سے جیش اسامہؓ کو رخصت کیا، اور اسامہؓ نے منزل مقصود پر پہنچ کر دشمنوں سے نہایت کامیاب مقابلہ کیا اور اپنےوالد بزرگوار کے قاتل کو واصل جہنم کیا اور حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں فتح کا مژدہ بھیجا۔۔ حضرت اسامہ نے حضرت امیر معاویہؓ کے آخر زمانہ امارت 54ھ میں مدینہ میں وفات پائی، اس وقت ساٹھ سال کی عمر تھی۔۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

بشکریہ اردو کالمز