کراچی شہر اور اسکے مسائل  3

کراچی شہر اور اسکے مسائل 


کراچی کبھی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ اب بھی ہے، بس فرق اتنا ہے کہ پہلے روشنی سڑکوں پر ہوتی تھی، اب بجلی کے بلوں میں نظر آتی ہے! پہلے شہر کی پہچان سمندر، ساحل، صنعت، تجارت اور زندگی سے بھرپور سڑکیں تھیں، اب اس کی پہچان ٹریفک جام، ابلتے گٹر، کچرے کے پہاڑ، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور ایسے وعدے ہیں جن کی عمر سیاست دانوں کی تقریروں سے بھی زیادہ طویل ہو چکی ہے۔


کراچی وہ شہر ہے جہاں انسان صبح گھر سے نکلتے وقت دفتر پہنچنے کا ارادہ کرتا ہے، مگر راستے میں حالات اسے فلسفی بنا دیتے ہیں۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ زندگی آخر ہے کیا؟ منزل کسے کہتے ہیں؟ اور اگر انسان کا مقدر ہی گڑھوں میں گرنا ہے تو پھر سڑک بنانے پر ٹیکس کیوں دیا جائے؟


یہاں زندگی گزارنے کے لیے صرف پیسہ نہیں، صبر، حوصلہ، مضبوط اعصاب، اچھے جوتے، اضافی وقت اور کبھی کبھار ایک عدد رسی بھی درکار ہوتی ہے، تاکہ بارش کے بعد گٹر میں گرنے والے موٹر سائیکل سوار کو نکالا جا سکے۔


کراچی اب محض ایک شہر نہیں رہا، یہ ایک زندہ تجربہ گاہ ہے جہاں عوام پر روزانہ نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تجربہ کرنے والوں کو سرکاری تنخواہ ملتی ہے اور تجربے کا نتیجہ بھگتنے والوں کو بجلی کا بل!


1۔ کراچی کی سڑکیں: گڑھوں کا عالمی ورثہ


کراچی کی سڑکوں پر سفر کرنے والا شخص چند دن میں گاڑی چلانا ہی نہیں، گاڑی کے سسپنشن، ٹائروں، شاکس اور اپنی قسمت کے بارے میں بھی ڈاکٹریٹ کر سکتا ہے۔


یہاں سڑکیں اس انداز میں ٹوٹی ہوئی ہیں کہ بعض مقامات پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل سڑک کہاں ہے اور گڑھا کہاں ختم ہوتا ہے۔


ایک زمانے میں سڑکوں پر اسپیڈ بریکر بنائے جاتے تھے تاکہ گاڑی کی رفتار کم ہو۔ کراچی نے اس معاملے میں ترقی کرتے ہوئے پورا نظام ہی بدل دیا ہے۔ اب اسپیڈ بریکر کی ضرورت نہیں، کیونکہ سڑک خود ہی ایسی ہے کہ گاڑی کی رفتار، ڈرائیور کی خوشی اور مسافر کی ہڈیاں، تینوں خود بخود قابو میں آ جاتے ہیں۔


یہاں گاڑی چلانا ڈرائیونگ نہیں، ایک مکمل جسمانی ورزش ہے۔ آگے گڑھا، پیچھے رکشہ، دائیں موٹر سائیکل، بائیں بس، اوپر سے ہارن اور نیچے سے سڑک کی طرف سے ایک غیر متوقع دھچکا! انسان سوچتا ہے کہ گاڑی چلا رہا ہوں یا کسی خفیہ فوجی تربیتی مرکز میں داخل ہو گیا ہوں؟


کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ متعلقہ ادارے سڑک کی مرمت کے بجائے کم از کم وہاں ایک بورڈ ہی لگا دیں:


’’خبردار! آگے سڑک موجود ہونے کی ضمانت نہیں۔ سفر اپنے رسک پر کریں۔‘‘


اور اگر گڑھے بھرنے کا بجٹ دستیاب نہ ہو تو ان مقامات کو سیاحتی مقام قرار دے دیا جائے۔ ٹکٹ لگا کر لوگ آئیں گے، گڑھوں کی تصویریں بنائیں گے، اور شہر کو آمدنی بھی حاصل ہو جائے گی۔


کراچی کی سڑکوں پر سفر کے بعد اگر کوئی شخص سیدھا چلتا ہوا گھر پہنچ جائے تو اسے صرف خوش قسمت نہ سمجھیں، اسے قومی اثاثہ قرار دے کر تمغۂ استقامت دینا چاہیے۔


2۔ کچرا: شہر کا مستقل شہری، انتظامیہ کا مہمان


کراچی میں کچرے کا مسئلہ ایسا ہے جیسے کسی خاندان میں ایک ایسا رشتہ دار آ جائے جو آنے کے بعد جانے کا نام ہی نہ لے۔


گھر کا کچرا باہر نکالتے ہیں تو باہر پہلے ہی کچرا موجود ہوتا ہے۔ آپ اپنا کچرا وہاں رکھتے ہیں تو وہ کسی اجتماعی تقریب میں شرکت کرتا محسوس ہوتا ہے۔ چند دن بعد اس ڈھیر میں مزید کچرا شامل ہو جاتا ہے، پھر ہوا اس کی تشہیر کرتی ہے، مکھیاں اس کی میزبانی کرتی ہیں اور بدبو پورے محلے میں دعوتِ عام دے دیتی ہے۔


یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچرے نے شہر میں اپنی الگ بلدیاتی حکومت قائم کر لی ہو، جس کا نہ کوئی انتخاب ہوتا ہے، نہ بجٹ کی تفصیل سامنے آتی ہے اور نہ ہی کسی کو صفائی کے لیے جواب دینا پڑتا ہے۔


محلے کا ایک شخص کہتا ہے، ’’بھائی، یہاں سے کچرا اٹھوا دو۔‘‘


دوسرا کہتا ہے، ’’یہ ہمارے محکمے کا کام نہیں۔‘‘


تیسرا کہتا ہے، ’’درخواست جمع کرا دیں۔‘‘


چوتھا کہتا ہے، ’’درخواست متعلقہ دفتر میں دیں۔‘‘


پانچواں کہتا ہے، ’’متعلقہ دفتر کا دائرۂ اختیار کہیں اور ہے۔‘‘


اور چھٹے کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ بتا سکے کہ دفتر آخر ہے کہاں!


اس سارے عمل کے دوران کچرا اپنی جگہ ڈٹا رہتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کراچی میں اس کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے ایک کمیٹی بنے گی، کمیٹی کا اجلاس ہوگا، اجلاس ملتوی ہوگا، پھر نئی تاریخ مقرر ہوگی۔ تب تک کچرا اتنا بڑھ چکا ہوگا کہ کمیٹی کے ارکان کو اجلاس کے لیے دوسری جگہ تلاش کرنا پڑے گی۔


کبھی کبھی کراچی کے کچرے کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اگر اسے باقاعدہ ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا جائے تو شاید وہ بھی شہر کے انتظامی معاملات میں اپنا نمائندہ منتخب کر لے۔


کم از کم وہ اپنے وعدے تو پورے کرتا ہے: جہاں پڑتا ہے، وہیں رہتا ہے!


3۔ گٹر اور نکاسیٔ آب: شہر کے نیچے ایک متوازی دنیا


کراچی کے گٹر بھی عجیب مزاج رکھتے ہیں۔ عام دنوں میں وہ خاموش رہتے ہیں، لیکن بارش ہوتے ہی اپنی موجودگی کا اعلان پورے شہر میں کر دیتے ہیں۔


پانی سڑک پر جمع ہوتا ہے، گٹر ابلنے لگتے ہیں، موٹر سائیکلیں بند ہو جاتی ہیں اور گاڑیاں آہستہ آہستہ تیرنے کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔


دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں بارش کے بعد لوگ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کراچی میں بارش کے بعد لوگ اپنے بچوں، گاڑیوں، گھروں اور جوتوں کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں۔


یہاں بارش کی خبر سن کر کسان خوش ہوتا ہوگا، شاعر رومانوی شعر کہتا ہوگا، مگر کراچی کا شہری سب سے پہلے یہ پوچھتا ہے:


’’پانی کہاں کھڑا ہوگا؟‘‘


پھر وہ دوسرا سوال کرتا ہے:


’’گھر سے نکلنا ضروری ہے بھی یا نہیں؟‘‘


اور اگر دفتر جانا مجبوری ہو تو تیسرا سوال سامنے آتا ہے:


’’واپسی پر گھر موجود بھی ہوگا یا سڑک ہی ہماری نئی رہائش گاہ بن چکی ہوگی؟‘‘


شہر میں نکاسیٔ آب کا ایسا مؤثر نظام ہونا چاہیے کہ بارش کا پانی جلد از جلد نکل جائے۔ لیکن اگر پانی ہی پانی ہو اور نظام کہیں نظر نہ آئے تو شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں: آخر منصوبہ بندی کس موسم کے لیے کی گئی تھی؟


4۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ: اندھیروں میں روشن مستقبل


کراچی میں بجلی کی بندش نے عوام کو ایک ایسی مہارت سکھا دی ہے جو دنیا کے کسی بڑے ادارے میں نہیں پڑھائی جاتی: اندھیرے میں زندگی گزارنے کی عملی تربیت۔


یہاں بجلی آنے کا وقت معلوم ہو جائے تو اسے محض شیڈول نہیں، ایک اہم قومی خبر سمجھا جاتا ہے۔


بجلی جائے تو پنکھا بند، اے سی بند، انٹرنیٹ بند، موبائل کی بیٹری کم اور گھر والوں کا مزاج خراب۔ کچھ دیر بعد گھر کا ہر فرد بجلی کے محکمے پر ایسی نظر ڈالتا ہے جیسے بجلی اسی کی جیب میں رکھی ہو اور وہ جان بوجھ کر نکال نہیں رہا۔


پھر بل آتا ہے۔


شہری حیران ہو کر بل دیکھتا ہے اور کہتا ہے:


’’بھائی، یہ بل بجلی کا ہے یا اس روشنی کا جو میں نے خواب میں دیکھی تھی؟‘‘


اگر بجلی کا استعمال کم ہوا ہے تو بل کم کیوں نہیں؟ اگر بل زیادہ ہے تو بجلی زیادہ کیوں نہیں؟ اور اگر دونوں سوالوں کا جواب صارف ہی نے تلاش کرنا ہے تو پھر محکمہ آخر کس چیز کی تنخواہ لیتا ہے؟


کراچی کا شہری اب اندھیرے سے اتنا مانوس ہو چکا ہے کہ اچانک بجلی آ جائے تو پہلے پنکھا دیکھتا ہے، پھر بلب، پھر میٹر، اور آخر میں احتیاطاً پڑوسی سے تصدیق کرتا ہے کہ کہیں یہ اس کے گھر کی بجلی تو نہیں!


مزاح اپنی جگہ، مگر گرمی، عمر رسیدہ افراد، بچوں، مریضوں اور روزانہ محنت کرنے والوں کے لیے طویل لوڈشیڈنگ حقیقی اذیت ہے۔ عوام کو صرف بجلی کا بل نہیں، بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی بھی چاہیے۔


5۔ پانی: نل میں ہوا، ٹینکر میں امید


کراچی میں پانی کی اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب نل کھولنے پر پانی کے بجائے خاموشی برآمد ہو۔


گھر میں نل موجود ہے، پائپ موجود ہے، ٹونٹی بھی پوری شان سے نصب ہے، مگر پانی کا کہیں اتا پتا نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پانی نے شہر چھوڑنے سے پہلے باقاعدہ استعفیٰ دیا ہو۔


گھر کا سربراہ صبح اٹھ کر نل کھولتا ہے۔ چند لمحے انتظار کرتا ہے۔ پھر ٹونٹی بند کر دیتا ہے۔ دوبارہ کھولتا ہے۔ شاید پانی شرما رہا ہو!


آخرکار گھر والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں:


’’پانی آیا؟‘‘


جواب ملتا ہے:


’’نہیں، لیکن امید ہے جلد آ جائے گا۔‘‘


کراچی میں امید بھی ایک اہم گھریلو ضرورت بن چکی ہے۔


پانی نہ آئے تو ٹینکر یاد آتا ہے۔ ٹینکر کا ذکر ہو تو خرچ یاد آتا ہے۔ خرچ کا خیال آئے تو تنخواہ یاد آتی ہے۔ تنخواہ یاد آئے تو بجلی کا بل سامنے آ جاتا ہے۔ یوں پانی کی تلاش انسان کو پورے ملکی معاشی نظام کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔


شہری کو پینے، کھانا پکانے، صفائی اور نہانے کے لیے پانی چاہیے۔ یہ کوئی شاہانہ مطالبہ نہیں، بنیادی ضرورت ہے۔


مگر جب بنیادی ضرورت بھی اضافی منصوبہ بندی، اضافی خرچ اور اضافی ذہنی دباؤ کے ساتھ پوری ہو تو انسان پوچھتا ہے کہ شہری ہونے کا فائدہ آخر کیا ہے؟


6۔ گیس کی بندش: ناشتے میں صبر، رات کے کھانے میں انتظار


کراچی کے شہری کی صبح کا آغاز کبھی چائے کی خوشبو سے ہوتا تھا۔ اب بعض گھروں میں صبح کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے:


’’چولہا جل رہا ہے؟‘‘


اگر جواب نفی میں ہو تو ناشتہ بنانے سے پہلے ایک گھریلو اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔


کوئی کہتا ہے، ’’سلنڈر لے آؤ۔‘‘


دوسرا کہتا ہے، ’’سلنڈر کے پیسے کہاں سے آئیں گے؟‘‘


تیسرا مشورہ دیتا ہے، ’’باہر سے ناشتہ لے آتے ہیں۔‘‘


چوتھا یاد دلاتا ہے کہ مہینے کا بجٹ پہلے ہی بجلی، پانی اور گھر کے دوسرے اخراجات نے اغوا کر رکھا ہے۔


پھر گھر میں بسکٹوں اور چائے کے متبادل منصوبے پر غور شروع ہوتا ہے۔


یہ وہ شہر ہے جہاں صنعتی سرگرمیاں بھی ہیں، کاروبار بھی ہے، ہنر مند افراد بھی ہیں، مگر ایک عام گھرانے کو کبھی کبھار کھانا پکانے کے لیے بھی غیر معمولی انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔


طنز کی انتہا دیکھیے کہ اگر گیس آ جائے تو گھر میں خوشی کی ایسی لہر دوڑتی ہے جیسے کسی نے بیرونِ ملک سے ویزا بھجوا دیا ہو۔


اور اگر گیس مسلسل آتی رہے تو شاید بعض شہری پہلے دن اسے فنی خرابی سمجھ کر شکایت درج کرا دیں!


7۔ ناقص منصوبہ بندی: پہلے کھودو، پھر سوچو


کراچی میں ترقیاتی کاموں کی کہانی بعض اوقات ایک دلچسپ ڈرامے جیسی محسوس ہوتی ہے۔


پہلے سڑک بنائی جاتی ہے۔ شہری خوش ہو جاتے ہیں کہ آخرکار راستہ ہموار ہوگیا۔ چند ہی دن بعد معلوم ہوتا ہے کہ اب اسی سڑک کے نیچے پانی کی لائن بدلنی ہے، پھر گیس کی لائن دیکھنی ہے، پھر کسی اور محکمے کو اپنا کام یاد آ جاتا ہے۔


نتیجہ یہ کہ نئی سڑک دوبارہ کھود دی جاتی ہے۔


شہری حیران ہو کر پوچھتا ہے:


’’بھائی، جب سب کام کرنے تھے تو پہلے ایک منصوبہ کیوں نہیں بنا لیا؟‘‘


جواب آتا ہے:


’’یہ مختلف محکموں کا معاملہ ہے۔‘‘


یعنی شہر ایک ہے، سڑک ایک ہے، عوام ایک ہیں، مگر منصوبہ بندی کے لیے سب کے نقشے الگ الگ ہیں!


ایسا لگتا ہے کہ مختلف محکمے آپس میں مقابلہ کر رہے ہوں کہ کون ایک ہی سڑک کو زیادہ مرتبہ کھود سکتا ہے۔


اگر کوئی عالمی مقابلہ منعقد ہو جس کا عنوان ہو ’’ایک سڑک، دس مرتبہ کھدائی‘‘ تو کراچی کے بعض علاقوں کو تیاری کے بغیر میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔


ترقیاتی کام ضرور ہونے چاہئیں، مگر ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ شہری کو ہر مہینے ایک نئی رکاوٹ، ایک نیا موڑ اور ایک نیا راستہ دریافت کرنا پڑے۔


منصوبہ بندی وہ ہوتی ہے جس میں پہلے سوچا جائے، پھر کام ہو۔ اگر پہلے کام اور بعد میں سوچنے کا رواج ہو تو اسے منصوبہ بندی نہیں، سرکاری سطح پر اجتماعی حیرت کہا جانا چاہیے۔


8۔ میئر کراچی اور اختیارات کی سیاست: ذمہ داری کس کی، اختیار کس کے پاس؟


کراچی کے انتظامی مسائل پر گفتگو ہو تو میئر کا ذکر لازماً آتا ہے۔ شہری پوچھتے ہیں کہ سڑکیں کون بنائے گا، کچرا کون اٹھائے گا، گٹر کون صاف کرے گا اور پانی کی فراہمی کون بہتر بنائے گا؟


پھر مختلف اداروں، محکموں اور حکومتوں کے اختیارات کی تفصیل سامنے آتی ہے۔


ایک ادارہ کہتا ہے، ’’یہ ہمارا کام نہیں۔‘‘


دوسرا کہتا ہے، ’’اختیارات ہمارے پاس نہیں۔‘‘


تیسرا کہتا ہے، ’’فنڈز نہیں ملے۔‘‘


چوتھا کہتا ہے، ’’منصوبہ زیرِ غور ہے۔‘‘


اور شہری سوچتا ہے کہ اگر ہر مسئلے کا ذمہ دار کوئی دوسرا ہے تو پھر اس شہر کا ذمہ دار آخر ہے کون؟


میئر سے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہر کی صفائی، سڑکوں، بلدیاتی خدمات اور شہری مسائل پر واضح مؤقف اختیار کریں، متعلقہ اداروں سے جواب طلب کریں اور عوام کو باقاعدہ بتائیں کہ کون سا کام کب مکمل ہوگا۔


شہریوں کو کسی شخصیت سے ذاتی دشمنی نہیں چاہیے؛ انہیں اپنے مسائل کا حل چاہیے۔


اگر کسی شہری کو یہ تاثر ملتا ہے کہ اس کے علاقے، زبان یا شناخت کی وجہ سے اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے تو یہ ایک سنجیدہ شکایت ہے، جس کی شفاف تحقیقات اور واضح جواب ہونا چاہیے۔


عوام کے لیے سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ انہیں ووٹ دیتے وقت شہری سمجھا جاتا ہے، لیکن جب شہری سہولتوں کا مطالبہ کریں تو کبھی اختیارات، کبھی فنڈز اور کبھی دائرۂ اختیار سامنے آ جاتا ہے۔


کراچی کا شہری اب اتنا تجربہ کار ہو چکا ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل سے پہلے اس کا پہلا سوال ہوتا ہے:


’’اچھا، اب یہ بتائیے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟‘‘


اور اگر جواب مل جائے تو اگلا سوال ہوتا ہے:


’’اور وہ ذمہ داری پوری کب کرے گا؟‘‘


9۔ مقامی اور غیر مقامی کی بحث: 


کراچی پاکستان کا ایک بڑا معاشی، صنعتی اور تجارتی مرکز ہے۔ یہاں مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف علاقوں سے آنے والے اور مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ یہی تنوع شہر کی طاقت بھی ہے اور اس کے انتظام کے لیے ایک بڑی ذمہ داری بھی۔


لیکن جب وسائل، ملازمتوں، نمائندگی اور شہری سہولتوں کے معاملے میں کسی طبقے کو یہ محسوس ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، تو بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔


کراچی کے شہریوں کی یہ شکایت کہ ان کے شہر کے وسائل، ملازمتوں یا ترقیاتی منصوبوں میں انہیں مناسب حصہ نہیں ملتا، سنجیدگی سے سنی جانی چاہیے۔ اسی طرح کسی فرد کو محض اس کے آبائی علاقے، زبان یا شناخت کی بنیاد پر شہر کے مسائل کا ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں۔


اصل سوال یہ ہے کہ فیصلہ کون کرتا ہے؟ بھرتیوں کے قواعد کیا ہیں؟ فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہیں؟ وسائل کی تقسیم کا معیار کیا ہے؟ اور کیا ان تمام معاملات کا قابلِ تصدیق ریکارڈ عوام کے سامنے موجود ہے؟


کیونکہ اگر کسی محکمے میں اقربا پروری، غیر شفاف بھرتیوں یا امتیازی سلوک کی شکایت ہے تو اس کا حل کسی پوری قوم یا زبان کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات، میرٹ اور جواب دہی ہے۔


کراچی کو کسی ایک زبان، ایک نسل یا ایک گروہ کی ملکیت سمجھنے کے بجائے اس کے تمام شہریوں کا مشترکہ گھر سمجھنا ہوگا۔


البتہ اس مشترکہ گھر میں ایک بنیادی اصول ضرور ہونا چاہیے: جو گھر کا مالک ہونے کا دعویٰ کرے، اسے کم از کم صفائی، پانی، بجلی اور مرمت کے معاملات میں اپنی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے!


شہر کے وسائل پر بحث کرتے ہوئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی کی کمائی، یہاں کے شہریوں کی ضروریات اور ان کی بنیادی سہولتوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔


کراچی کا شہری کوئی رعایت نہیں مانگ رہا۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے اپنے ہی شہر میں بنیادی سہولتوں کے لیے بار بار درخواست گزار نہ بننا پڑے۔


10۔ تعلیم: قابلیت امتحان دیتی ہے، نظام حیران رہتا ہے


کراچی کے تعلیمی نظام میں داخلوں، میرٹ، کوٹے، امتحانات اور سرکاری ملازمتوں میں مواقع کی تقسیم کے بارے میں شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔


ایک طالب علم سال بھر پڑھتا ہے، راتوں کو جاگتا ہے، والدین اپنی استطاعت کے مطابق فیس ادا کرتے ہیں، ٹیوشن کا انتظام کرتے ہیں اور بچے کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔


پھر جب داخلے یا ملازمت کا مرحلہ آتا ہے تو خاندان کی نظریں نتیجے پر لگی ہوتی ہیں۔


اگر طالب علم کامیاب ہو جائے تو خوشی، اگر ناکام ہو جائے تو دکھ۔ لیکن اگر طالب علم کو یہ شبہ ہو کہ اس کے نمبر، قابلیت یا میرٹ کے بجائے کسی اور بنیاد پر فیصلہ ہوا ہے تو دکھ کے ساتھ بے اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے۔


تعلیم کے نظام میں کسی بھی قسم کی ناانصافی کی شکایت کو ثبوت اور شفاف طریقۂ کار کے ذریعے جانچنا چاہیے۔ داخلوں اور ملازمتوں کے قواعد واضح ہوں، میرٹ کی فہرستیں قابلِ رسائی ہوں، اپیل کا مؤثر نظام ہو اور غلطی ثابت ہونے پر اصلاح بھی ہو۔


آخر طالب علم سے یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ وہ ہر سوال کا درست جواب دے، مگر ادارے سے یہ سوال نہ پوچھ سکے کہ اس کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟


کراچی کے نوجوان کو محنت کا سبق پڑھانے سے پہلے یہ یقین بھی دینا ہوگا کہ محنت کا نتیجہ منصفانہ طریقے سے پرکھا جائے گا۔


ورنہ ایک دن طالب علم بھی پوچھے گا:


’’سر، اگر میرٹ ہی سب کچھ ہے تو پھر میرٹ کی نگرانی کون کرتا ہے؟‘‘


اور اگر اس سوال کا جواب نہ ملے تو سمجھ لیجیے کہ اصل امتحان طالب علم کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔


11۔ نوکریاں: ڈگری ہاتھ میں، امید فائل میں


کراچی کا نوجوان تعلیم مکمل کرکے ملازمت کی تلاش میں نکلتا ہے۔ اس کے پاس ڈگری ہے، قابلیت ہے، کچھ تجربہ بھی ہے اور گھر والوں کی دعائیں بھی۔


وہ درخواست دیتا ہے، انٹرویو کے لیے جاتا ہے، ٹیسٹ دیتا ہے اور انتظار کرتا ہے۔


کبھی جواب آتا ہے، کبھی نہیں آتا۔ کبھی آسامیوں کا اعلان ہوتا ہے، کبھی بھرتیاں رک جاتی ہیں۔ کبھی قواعد بدلنے کی خبریں سامنے آتی ہیں، کبھی کوٹے اور میرٹ پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔


نوجوان سوچتا ہے کہ آخر اسے کرنا کیا چاہیے؟


مزید تعلیم حاصل کرے؟ تجربہ بڑھائے؟ کوئی ہنر سیکھے؟ یا اپنی ڈگری کو خوبصورت فریم میں لگوا کر دیوار پر آویزاں کر دے تاکہ کم از کم مہمان اس کی قابلیت دیکھ سکیں؟


اگر سرکاری یا نجی ملازمتوں میں اقربا پروری، سفارش یا امتیازی سلوک کی شکایات ہوں تو ان کی تحقیق ہونی چاہیے۔ کسی بھی زبان یا صوبے کے تمام افراد کو ملازمتوں پر قابض قرار دینا مسئلے کی درست تشخیص نہیں۔


اصل مطالبہ یہ ہے کہ ملازمتوں کے اشتہار واضح ہوں، اہلیت کے معیار پہلے سے معلوم ہوں، بھرتیوں کا ریکارڈ سامنے آئے اور امیدوار کو یہ معلوم ہو کہ اسے منتخب یا مسترد کیوں کیا گیا۔


میرٹ ایسا ہونا چاہیے جسے صرف تقریروں میں نہیں، نتائج میں بھی دیکھا جا سکے۔


ورنہ نوجوان کے لیے سب سے مشکل انٹرویو وہ ہوتا ہے جو وہ اپنے آپ سے کرتا ہے:


’’میں نے تعلیم کیوں حاصل کی، اگر مجھے یہ معلوم ہی نہیں کہ میرے مستقبل کا فیصلہ کس بنیاد پر ہوگا؟‘‘


12۔ ٹرانسپورٹ: سفر کم، امتحان زیادہ


کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ایک الگ داستان ہے۔ شہری کو دفتر، اسکول، کالج، بازار اور اسپتال جانا ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات سفر کی منصوبہ بندی منزل کے بجائے اس سوال سے شروع ہوتی ہے کہ وہاں پہنچنے کے لیے سواری ملے گی بھی یا نہیں۔


بس میں جگہ مل جائے تو خوش قسمتی، بیٹھنے کی جگہ مل جائے تو خصوصی اعزاز، اور اگر سفر کے دوران کھڑکی سے ہوا بھی آ جائے تو اسے قدرت کی طرف سے بونس سمجھا جاتا ہے۔


سڑکوں پر بسیں، منی بسیں، رکشے، موٹر سائیکلیں، کاریں اور ہر سمت سے آتی آوازیں! ہارنوں کا ایسا اجتماعی ساز کہ موسیقی کے کسی استاد کو سنایا جائے تو وہ بھی پوچھ بیٹھے:


’’یہ کون سا نیا راگ ہے؟‘‘


کراچی کی ٹریفک میں ہر ڈرائیور کو لگتا ہے کہ وہی سب سے زیادہ ضروری کام پر جا رہا ہے۔ اس لیے سب کو پہلے پہنچنا ہے، راستہ سب کو چاہیے اور صبر کسی کے پاس نہیں۔


اگر ایک گاڑی ذرا سا رک جائے تو پیچھے سے ہارن ایسے بجتے ہیں جیسے پورے شہر کی معیشت اسی گاڑی کے ایکسلریٹر پر منحصر ہو۔


اصل مسئلہ صرف ڈرائیوروں کے رویے کا نہیں؛ بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، محفوظ سڑکیں، پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ، واضح روٹس، ٹریفک قوانین کا یکساں نفاذ اور مناسب منصوبہ بندی بھی ضروری ہیں۔


کراچی کے شہری کو ایسا نظام چاہیے جہاں دفتر پہنچنے کے لیے اسے صبح گھر سے نکلتے وقت یہ وصیت نہ لکھنی پڑے کہ اگر واپسی میں دیر ہو جائے تو پریشان نہ ہونا!


13۔ ڈکیتیاں اور لوٹ مار:


کراچی کے شہری کے لیے امن و امان کا مسئلہ بھی روزمرہ زندگی کی بڑی پریشانی ہے۔ موبائل فون، موٹر سائیکل، نقد رقم اور دیگر قیمتی اشیا چھن جانے کی خبریں لوگوں میں خوف پیدا کرتی ہیں۔


شہری پہلے اپنی جیب دیکھتا تھا کہ پیسے موجود ہیں یا نہیں۔ اب وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ موبائل محفوظ ہے یا نہیں، موٹر سائیکل کہاں کھڑی کی ہے اور گھر واپس پہنچنے تک کتنی احتیاط کرنا ہوگی۔


ایک وقت تھا جب موبائل فون رابطے کا ذریعہ تھا۔ اب بعض شہری اسے سڑک پر نکالنے سے پہلے اردگرد اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی خفیہ مشن انجام دینے جا رہے ہوں۔


دوست پوچھتا ہے:


’’تم نے نیا فون لیا ہے؟‘‘


جواب ملتا ہے:


’’ہاں، مگر ابھی صرف گھر میں استعمال کرتا ہوں۔ باہر لے جانے کا خطرہ مول نہیں لیتا!‘‘


یہ لطیفہ ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک تلخ حقیقت ہے: شہری کو اپنی جان، مال اور عزت کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔


جرائم پر قابو پانے کے لیے مؤثر پولیسنگ، فوری کارروائی، قابلِ اعتماد شکایتی نظام، جرائم کی روک تھام اور انصاف تک رسائی ضروری ہیں۔ شہری کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ جرم کی اطلاع دینے پر کارروائی ہوگی، نہ کہ اسے محض ایک اور شکایت نمبر دے کر رخصت کر دیا جائے گا۔


کیونکہ امن و امان کوئی اضافی سہولت نہیں۔ یہ وہ بنیادی شرط ہے جس کے بغیر شہر کی معاشی ترقی اور روزمرہ زندگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔


14۔ کراچی کا شہری: ہر محکمے کا مستقل امیدوار


کراچی کے شہری کی زندگی پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہر روز کسی نہ کسی امتحان میں شریک ہوتا ہے۔


صبح پانی کا امتحان، پھر گیس کا امتحان، اس کے بعد ٹریفک کا امتحان، دفتر میں مہنگائی کا امتحان، واپسی پر لوڈشیڈنگ کا امتحان اور رات کو کچرے کی بدبو کے درمیان صبر کا امتحان۔


اگر بارش ہو جائے تو امتحان کا خصوصی پرچہ بھی آ جاتا ہے۔


اور اگر اس دوران کوئی افسر یا سیاست دان یہ کہہ دے کہ شہر میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں تو شہری کا دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے محلے کی تصاویر دکھا کر پوچھے:


’’جناب، یہ ترقی کس راستے سے گزر کر آئی تھی؟ ہمارے علاقے تک پہنچتے پہنچتے راستہ تو نہیں بھول گئی؟‘‘


کراچی کے شہری کو ہر مسئلے پر الگ الگ درخواست دینا پڑتی ہے، لیکن مسائل آپس میں مل کر رہتے ہیں۔ بجلی نہ ہو تو پانی کی موٹر نہیں چلتی۔ پانی نہ ہو تو گھر کے کام متاثر ہوتے ہیں۔ گیس نہ ہو تو کھانا مشکل ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ خراب ہو تو دفتر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ سڑکیں ٹوٹی ہوں تو کاروبار متاثر ہوتا ہے۔


یہ سب مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر ان کے حل کے لیے اکثر شہری کو مختلف دروازوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔


اگر کبھی کراچی کے شہریوں کی روزانہ کی شکایات جمع کرکے ایک کتاب بنائی جائے تو اس کا عنوان ہونا چاہیے:


’’شہر میرا، مسئلے ہزار، ذمہ دار تلاش کرنے کے لیے دفتر در دفتر‘‘۔


15۔ وعدوں کی فیکٹری: ہر مسئلے کا حل اگلے اعلان میں


کراچی میں عوام کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ فلاں منصوبہ شروع ہوگا، فلاں سڑک بنے گی، فلاں مسئلہ حل ہوگا، فلاں نظام بہتر بنایا جائے گا۔


یہ سن کر شہری خوش ہوتا ہے۔ پھر وہ انتظار کرتا ہے۔ کچھ عرصے بعد دوبارہ اعلان ہوتا ہے۔ شہری دوبارہ خوش ہوتا ہے۔ پھر انتظار شروع ہو جاتا ہے۔


یوں امید اور انتظار کا ایک مستقل چکر چلتا رہتا ہے۔


اگر وعدوں سے سڑکیں بنتیں تو کراچی کی ہر گلی پر سنگِ مرمر بچھا ہوتا۔ اگر اعلانات سے کچرا اٹھتا تو شہر میں مکھیاں بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوتیں۔ اگر پریس کانفرنسوں سے پانی آتا تو کراچی کے نلکوں سے آبشاریں بہہ رہی ہوتیں۔


مسئلہ یہ نہیں کہ اعلانات کیوں کیے جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بعد نتیجہ کہاں ہے؟


شہریوں کو منصوبوں کے نام سے زیادہ ان کی تکمیل کی تاریخ چاہیے۔ انہیں افتتاحی تقریب سے زیادہ مکمل سڑک چاہیے۔ انہیں پریس ریلیز سے زیادہ صاف گلی چاہیے۔ انہیں یقین دہانی سے زیادہ نل میں پانی چاہیے۔


ترقی کی پیمائش تقریر کے دورانیے سے نہیں، عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری سے ہونی چاہیے۔


16۔ کراچی کا مستقبل: امید باقی ہے


اتنی شکایات کے باوجود کراچی کو صرف مسائل کا شہر سمجھنا بھی درست نہیں۔ یہ محنت کشوں، تاجروں، صنعت کاروں، طلبہ، اساتذہ، فن کاروں، ڈاکٹروں، انجینئروں اور کروڑوں خواب دیکھنے والوں کا شہر ہے۔


یہاں کے لوگ محنت کرتے ہیں، کاروبار چلاتے ہیں، خاندان پالتے ہیں، ملک کی معیشت میں حصہ ڈالتے ہیں اور ہر مشکل کے باوجود زندگی آگے بڑھاتے ہیں۔


کراچی کی اصل طاقت اس کے شہری ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی مشکلات کو معمول کی بات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔


شہر کو بہتر بنانے کے لیے چند بنیادی کام ناگزیر ہیں:


    سڑکوں، گٹروں، پانی اور بجلی کے مسائل کے لیے واضح ذمہ داری اور مقررہ مدت کے ساتھ عملی منصوبے بنائے جائیں۔
    کچرے کی صفائی اور نکاسیٔ آب کے نظام کی باقاعدہ نگرانی ہو۔
    بجلی، پانی اور گیس کی فراہمی کے بارے میں متعلقہ ادارے عوام کو قابلِ اعتماد معلومات دیں۔
    ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ، اخراجات اور تکمیل کی تاریخیں عوام کے سامنے رکھی جائیں۔
    تعلیم اور ملازمتوں میں میرٹ، شفافیت اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم ہو۔
    امن و امان کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
    مختلف لسانی اور علاقائی گروہوں کے درمیان نفرت کے بجائے انصاف، مساوی شہری حقوق اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔


اور سب سے اہم بات: کراچی کے مسائل کا حل ایک دوسرے پر الزام لگانے میں نہیں، ذمہ داری قبول کرنے میں ہے۔


کیونکہ شہری کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ فائل کس میز پر رکی ہوئی ہے۔ اسے یہ جاننا ہے کہ اس کی گلی کب صاف ہوگی، اس کی سڑک کب بنے گی، اس کے گھر پانی کب آئے گا اور وہ اپنے بچوں کو محفوظ ماحول میں کب لے جا سکے گا۔


کراچی کی بدحالی پر ہنسنا آسان ہے، مگر اس بدحالی میں زندگی گزارنا آسان نہیں۔


یہ شہر ایک ایسا مریض بن چکا محسوس ہوتا ہے جس کے علاج کے لیے کئی ڈاکٹر مقرر ہیں۔ ہر ڈاکٹر اپنی اپنی تشخیص بیان کرتا ہے، ایک دوسرے کی رپورٹ پر سوال اٹھاتا ہے اور پھر مریض سے کہتا ہے:


’’آپ فکر نہ کریں، علاج جاری ہے۔‘‘


مریض پوچھتا ہے:


’’ڈاکٹر صاحب، دوا کب ملے گی؟‘‘


جواب آتا ہے:


’’آپ کی فائل متعلقہ شعبے کو بھیج دی گئی ہے۔‘‘


کراچی پھر بھی زندہ ہے۔ اس کے بازار چلتے ہیں، اس کی فیکٹریاں کام کرتی ہیں، اس کے نوجوان خواب دیکھتے ہیں اور اس کے شہری ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں۔


مگر امید کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ عوام کو صرف یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ شہر بہت اہم ہے؛ انہیں یہ بھی دکھانا ہوگا کہ اس اہم شہر کے لیے عملی طور پر کیا کیا جا رہا ہے۔


کراچی کسی ایک جماعت، ایک حکومت، ایک زبان یا ایک طبقے کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے پاکستان کی معیشت، ترقی اور مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔


اگر کراچی کی سڑکیں ٹوٹی ہیں تو اس کا نقصان صرف کراچی کو نہیں۔ اگر یہاں صنعت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات دور تک جاتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو مواقع نہیں ملتے تو ملک اپنی صلاحیت کھوتا ہے۔ اگر شہری عدم تحفظ کا شکار ہوں تو معاشرے کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔


اس لیے کراچی کے مسائل کو سیاسی تقریروں کی زینت بنانے کے بجائے عملی ترجیح بنانا ہوگا۔


اور آخر میں کراچی کے اربابِ اختیار سے صرف ایک چھوٹا سا سوال:


جناب، شہر کو پیرس بنانے کا وعدہ بعد میں کیجیے گا؛ پہلے اتنا تو کر دیجیے کہ شہری اپنے گھر سے دفتر تک پہنچتے ہوئے مریخ کی سطح پر سفر کرنے کا تجربہ نہ حاصل کریں!


پہلے کچرا اٹھوا دیجیے، پھر ترقی کا جشن منا لیجیے۔


پہلے نل میں پانی آنے دیجیے، پھر خوش حالی کے دعوے کر لیجیے۔


پہلے سڑک مکمل کروا دیجیے، پھر اس پر تختی لگا دیجیے۔


اور پہلے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیجیے، پھر ان سے صبر کی اپیل کیجیے۔


کیونکہ کراچی کے شہریوں نے صبر بھی بہت کیا، انتظار بھی بہت کیا، وعدے بھی بہت سنے اور مسائل پر ہنسنا بھی سیکھ لیا۔


اب انہیں صرف ایک چیز چاہیے:


ایسا کراچی جہاں طنز و مزاح صرف مضمون میں ہو، شہری کی روزمرہ زندگی میں نہیں۔


اور اگر یہ مطالبہ بھی بہت بڑا محسوس ہو تو پھر کم از کم اتنا کر دیجیے کہ اگلی بار بارش ہو تو شہری چھتری کے ساتھ کشتی خریدنے کے بارے میں نہ سوچیں!


کراچی زندہ باد — مگر کراچی کے شہریوں کو بھی زندہ رہنے کے قابل سہولتیں فراہم کیجیے

بشکریہ اردو کالمز