ماہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھائیں 438

ماہ ذوالحجہ سے فائدہ اٹھائیں

    اسلامی سال میں اللہ رب العزت نے چار مہینے حرمت والے بنائے ہیں، جن میں بالخصوص لڑائی جھگڑا کرنا، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا یا کسی کو بلاوجہ تنگ کرناوغیرہ سب ممنوع قرار دیا ہے۔ ان حرمت والے مہینوں میںدور جاہلیت میں عرب والے جنگ کرنے سے باز رہتے ، اپنی تلواروں کو نیام میں ڈال لیتے، لوٹ مار سے رک جاتے ، دشمنوں کے خوف سے آزاد ہو جاتے اور اپنے گھروں میں آرام کی نیندسوتے۔وہ حرمت والے مہینے یہ ہیںرجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم الحرام ہیں ۔ماہ ذوالحجہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے اور یہ اسلامی سال کاآخری مہینہ ہے۔ ذوالحجہ کامعنی ہے حج والامہینہ،اس مہینے میں حاجی لوگ دنیا بھر سے رخت سفرباندھ کرخانہ کعبہ سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں اور اس مہینے کی 8ذوالحجہ سے 13ذوالحجہ تک حاجی لوگ حج کے ارکان ومناسک اداکرتے ہیں،اسی لےے اسے ذوالحجہ کہاجاتاہے۔


    ماہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی قرآن اور احادیث مبارکہ میں بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے اس کا اندازہ رب العزت کے پاک کلام قرآن مجیدکی اس آیت مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی راتوں کی قسم سورہ الفجر میںاٹھائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔“ مفسرین نے اس سے ذوالحجہ کی دس راتوں کومراد لیاہے ۔سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس ] فرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ” جتنا کوئی نےک عمل اللہ تعالیٰ کوان دس دنوں (ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں) مےں پسند ہے،اتنا کسی دن مےں پسند نہیں۔“ آپ سے پوچھا گےا: اے اللہ کے رسول!جہادفی سبیل اللہ بھی نہیں؟آپ نے جواب دےا: ”ہاں ،جہادفی سبیل اللہ سے بھی نہیں،مگرجو کوئی شخص اللہ کی راہ مےں اس طرح نکلا کہ اپنے جان ومال کے ساتھ شہید ہی ہوجائے ۔“ حضرت عبداللہ بن عمر ] سے رواےت ہے،نبیﷺ نے فرماےا:اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی عمل اتنا عظمت اور محبوب نہیں،جتنا ان دس دنوں مےں کےاجائے۔لہذا ان ایام مےں کثرت سے تہلیل،تکبیراورتمحیدکرنی چاہیے۔


    مگر افسوس! کہ عوام الناس ان فضیلت والے دن اور برکتوں والی راتوں سے بے خبر اور غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدرسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہعنھم ان ایام کو بڑاہی غنیمت جانتے ،عبادات اور تکبیرات کا خصوصی طور پر اہتمام کرتے ۔ چناچہ حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہرےرہ ] کا ےہ عمل تھا کہ وہ ان دس اےام مےںبازاروں کی طرف چلے جاتے اور بلند آوازسے تکبیر ات پڑھتے اورانھےںتکبیرات پڑھتے دےکھ کر دوسرے لوگ بھی تکبیرات پڑھنا شروع کر دےتے ۔ہمیں بھی اس ماہ جہاں نےکی کے دوسرے اعمال زےادہ ذوق وشوق اور زےادہ اہتمام سے کرنے چاہیے وہاں تکبیرات کا بھی خوب اہتمام کرنا چاہیے۔


    اس مہینے کی 9 ذوالحجہ کو ےوم عرفہ کہاجاتاہے۔اس دن حاجی لوگ میدان عرفات مےں وقوف کر تے ہیں،ےعنی صبح سے لے کر سورج غروب ہونے تک وہاں ٹھہرے رہتے ہیںاوراپنے خالق حقیقی اللہ تعالیٰ سے خوب گڑگڑا کر دعائےں کرتے ہیں۔یہ دن اور لمحات ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میدان عرفات مےںموجود حاجےوں کو دیکھ کر فرشتوں کو مخاطب کر کے ان کے سامنے فخر کرتے ہیں ۔ اسی بنا پر اس دن اللہ تعالیٰ جتنے زےادہ لوگوںکو معاف کر کے جہنم کی آگ سے آزاد فرماتے ہیں اتنا کسی اور دن نہیںمعاف کرتے ۔ اسی طرح اس مہینے کی 10تاریخ کومسلمانوں کا عظیم تہوار اور جدالانبیاسیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرتے ہوئے عید الاضحی ہوتی ہے ،جوکہ مسلمانوں کامذہبی تہوارہے ۔ اس دن دنیا بھر کے مسلمان کھلے مےدانوںمیں مل جل کر باجماعت نماز عید الاضحی ادا کرتے ہیںاوراللہ کو راضی کرنے کی خاطر اور تقوی کے حصول کے لیے جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں۔


    یاد رہے ماہ ذوالحجہ جو کہ رواں دواں ہے ان بابرکت دنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے نےک اعمال صدقہ وخےرات،ذکر و اذکار،روزوںاور تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرناچاہیے اگر کوئی صاحب استطاعت ہوتو وہ بےت اللہ شریف کا حج کرے۔ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ سے 13ذوالحجہ کی شام تک تکبیرےں پڑھنا۔ ےوم عرفہ ،ےعنی9ذوالحجہ کا نفلی روزہ رکھنا۔10ذوالحجہ کو عیدالاضحی کی نماز باہر کھلے مےدان مےںاداکرنا اورپھرقربانی کرنا۔عیدکے دن غسل کرکے نئے ےادھلے ہوئے کپڑے پہننا اور خوشبواستعمال کرنا،نمازعیدکے لےے گھر سے کچھ کھائے پیئے بغےر تکبیرات پڑھتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جانا اور عورتوںکوبھی عیدگاہ مےں لے کر جانا،نمازعیدالاضحی طلوع شمس کے بعد جلدی ادا کرنا،عیدگاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرناوغیرہ یہ سب اعمال بجا لانااہل ایمان کے لیے ضروری ہے اور یہی ایک حقیقی مسلمان کا شیوہ ہونا چاہیے کہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے سے آگے بڑھیں ۔
 

بشکریہ اردو کالمز