تین اگست دوہزارپچیس
نوبیل انعام یافتہ ماہر معیشت پال ساموئلسن نے کہا تھا کہ ”صرف تجارت نہیں بلکہ معیشتوں کو حکمت عملیاں کامیاب یا ناکام بناتی ہیں۔“ اُور اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تجارتی و معاشی پالیسیاں کسی بھی ملک کے ساتھ مثالی نہیں بالخصوص جبکہ بھارت‘ ایران‘ چین اُور افغانستان ہمسایہ ممالک ہیں اُور افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستیں بشمول روس کی منڈیوں تک پہنچ تاریخ کا حصہ رہا ہے اُور اسی سلسلے میں پشاور سے تعلق رکھنے والے سیٹھی خاندان کی یاد آتی ہے جو ایک وقت میں سنٹرل ایشیائی ریاستوں سے تجارت میں پیش پیش تھے اُور اُن کی رہائش گاہیں آج بھی سنٹرل ایشیائی فن تعمیر و نوادرات سے سجی ملتی ہیں۔ اِسی طرح پشاور سے تعلق رکھنے والے معروف آڑھتی خاندان ”امیر نذیر خان کمپنی“ بھی افغانستان اُور افغانستان کے راستے اشیائے خوردونوش کی راہداری تجارت کرتے تھے لیکن یہ سب باتیں اب خواب لگتی ہیں۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان کا مفاد دس ہزار کلومیٹر دور کسی منڈی سے زیادہ علاقائی طور پر موجود تجارتی امکانات پر ہونا چاہئے۔
پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 1950ء کی دہائی سے دونوں ممالک نے معاشی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قریبی روابط استوار کئے جن میں وقت کے ساتھ اُتار چڑھاؤ آتا رہا اُور یہ تعلقات زیادہ تر غیر متوازن رہے ہیں۔ ہر ملک کی طرح امریکہ اپنے مفادات کو زیادہ عزیز رکھتا ہے اُور سیاسی حکمرانوں کی تبدیلی کے ساتھ اُس کی خارجہ و تجارتی پالیسی بھی تبدیل ہو جاتی ہے جیسا کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر دوسری مرتبہ فیصلہ ساز ہونے کے بعد دیکھا جا رہا ہے اُور گویا عالمی منڈیاں امریکہ تجارتی پالیسیوں سے متاثر ہو رہی ہیں یقینا یہ وقت دنیا کے لئے بھی سوچنے کا ہے کہ وہ قرب و جوار (علاقائی تجارتی مفادات) کو زیادہ اہمیت دیں۔
امریکہ آج بھی پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل، زرعی اجناس اور آلاتِ جراحی کی برآمدات کے لحاظ سے یہی پاکستان کے لئے بڑی منڈی ہے لیکن پاکستان نے امریکہ کی منڈی سے جو فائدے اُٹھانے تھے، وہ اکثر پالیسوں کی غیر تسلسل، صنعتی کمزوریوں، اور اندرونی چیلنجز کی نذر ہو گئے۔ حالیہ پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان کو امریکی منڈی میں 19 فیصد ٹیرف پر رسائی حاصل ہو گئی ہے، جو بھارت کے 25 فیصد، اور بنگلہ دیش، سری لنکا، ویت نام کے 20 فیصد ٹیرف سے کم ہے۔ یہ سطحی طور پر خوش آئند نظر آتا ہے لیکن معاشی ماہرین کے مطابق یہ فائدہ اصل میں تب ہی مؤثر ہو سکتا ہے جب اندرونی پیداواری لاگت کم ہو۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق ”پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا مقابلہ انہی ممالک سے ہے جنہیں ہم ٹیرف میں پیچھے چھوڑنے پر خوش ہیں لیکن یہاں سوال صرف ٹیرف کا نہیں بلکہ ماحول کا ہے۔ پاکستان میں صنعتکار بجلی، گیس، ٹیکسز اور یہاں تک کہ پانی بھی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں صنعت کو پانی ٹینکرز کے ذریعے مہنگے نرخوں پر فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں رعایتی ٹیرف کی قدر باقی نہیں رہتی۔“ یہ محض انفراسٹرکچر کی بات نہیں بلکہ پالیسیوں کا بحران اُور بداعتمادی بھی گہری ہے۔
پاکستان میں دو دہائیوں سے برآمدات سے متعلق کوئی نمایاں غیرملکی سرمایہ کاری (فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ) نہیں آئی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک) سے جن فوائد کی توقع تھی وہ بھی حاصل نہیں ہو رہیں۔ چین کی وہ کمپنیاں جنہوں نے سی پیک کے آغاز پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے دلچسپی دکھائی تھی، اب ویت نام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں منتقل ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر ”ہانڈا انڈسٹریز“ نے حال ہی میں بنگلہ دیش میں 250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان خطے کی سرمایہ کاری کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔
پاکستان میں ٹیکسٹائل صنعتکاروں کی نمائندہ تنظیم ”ایپٹما“ کے چیئرمین کامران ارشد کا یہ بیان آن دی ریکارڈ ہے کہ ”امریکہ کے ساتھ تجارت میں پاکستان کو کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے احسان کرتے ہوئے جو ایک یا دو فیصد ٹیرف کی رعایت دی گئی ہے وہ اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب آپ کے ملک میں توانائی کے نرخ، ٹیکس اور شرح سود علاقائی مقابلے سے کئی گنا زیادہ ہوں۔ اُن کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے نے برآمدی شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس کی کھپت میں مسلسل کمی آ رہی ہے یعنی اگر پہلے ایک ہزار ملین مکعب فٹ گیس استعمال ہوتی تھی تو یہ کم ہو کر ساڑھے تین سو رہ گئی ہے۔“ اُور یہ محض اعداد و شمار بھی نہیں بلکہ تلخ زمینی حقائق کی عکاسی ہیں کہ …… پاکستانی صنعتکار آج بھی ’زندہ رہنے‘ کی جنگ لڑ رہے ہیں اُور صنعتی شعبہ خاطرخواہ ترقی کی نہیں۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ زراعت کو ترجیح دی جاتی۔ زرعی معیشت پر توجہ دی جاتی۔ غذائی خودکفالت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر کے نوجوان آبادی کو زرعی شعبے سے منسلک کیا جاتا اُور پھر یہی غذائی مصنوعات کی برآمدات ہوتیں تو سیاحت کی طرح زرعی شعبے نے کئی ممالک کی معاشی قسمت بدل کر رکھ دی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے جو شرح سود مقرر کر رکھی ہے اگر اسے کم کر کے چھ فیصد پر لایا جائے تو اس سے صنعتوں اُور مقامی کاروبار کو بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔ کاروبار کو قرض لینے اور وسعت دینے میں آسانی ممکن ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو امریکہ سے مزید ٹیرف میں نرمی کے لئے مذاکرات کرنے چاہیئں لیکن ان تمام تجاویز کا فائدہ تب ہی ممکن ہے جب ہم داخلی سیاسی استحکام ہوگا۔ جب ملک کو درپیش اندرونی چیلنجز اُور بے چینی اِس یقین سے بدل جائے گی کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پانچ اگست دوہزار پچیس کے روز ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے جس سے معیشت کا پہیہ کہیں سست تو کہیں رک جائے گا اُور یہ قطعی طور پر پاکستان کے حالات کے لئے موافق نہیں۔
سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ہم صرف رعایتی ٹیرف پر انحصار کر کے عالمی مارکیٹ میں باقی رہ سکتے ہیں؟
بھارت پر پچیس فیصد ٹیرف کے باوجود‘ اُس کی برآمدی قوت کم نہیں ہوئی بلکہ برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کیونکہ بھارت کی پیداواری لاگت پاکستان کے مقابلے کم اُور حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ وہاں تجارتی و سیاسی پالیسوں میں تسلسل دکھائی دیتا ہے اور حکومت صنعتی شعبے کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔
پاکستان کے فیصلہ سازوں بشمول مقتدرہ کو مان لینا چاہئے کہ کسی ملک سے ہر وقت اُور صرف رعایتیں مانگ مانگ کر یا شرح سود کم کر کے بھی کچھ خاص یا کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوگا۔ جب تک کہ اندرون ملک امن و امان، بنیادی سہولیات کی فراہمی‘ نوجوانوں کے روزگار کے مواقع اور ان سے متعلق پالیسیوں کا تسلسل یقینی نہیں بنایا جاتا اُور جب تک یہ کرنے کے کام نہیں کئے جاتے پاکستان کسی بھی دوسرے ملک یا عالمی منڈی میں اپنی ایسی جگہ نہیں بنا سکے گی کہ ہماری برآمدات میں پائیدار طریقے سے اُور وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جائے۔
امریکی منڈی میں ٹیرف کی رعایت‘ یقینا بے معنی نہیں بلکہ ایک موقع ضرور ہے لیکن یہ صرف تب فائدہ دے گا جب پاکستان میں صنعتی پیداوار کی لاگت کم ہو۔ معاشی نظام میں سدھار آئے اور پالیسیوں کو کاروبار دوست بنایا جائے بصورت دیگر امریکہ کی جانب سے ملنے والی رعایت بھی دیگر سہولتوں کی طرح محض وقتی اعداد و شمار کا کھیل بن کر رہ جائے گی۔
پاک امریکہ تجارت: مواقع اُور مشکلات.....