مہمان کالم - سنی سنائی کا زمانہ سنی سنائی کا زمانہ

بچپن سے ایک حدیث ہم سنتے آرہے ہیں ’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بلا تحقیق آگے پھیلا دے‘‘۔ سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کی ایجاد کے بعد دنیا کا ہر شخص سنی سنائی آگے پھیلانے میں مصروف ہے۔ فرض کریں، مجھے صحت سے متعلق ایک پیغام ایک ایسے شخص کی طرف سے ملا جو ڈاکٹر نہیں اور نہ ہی میں ڈاکٹر ہوں۔ اس کے باوجود میں یہ پیغام دس لوگوں کو بھیج دیتا ہوں کہ بظاہر مجھے وہ سچ لگ رہا ہے۔ اب جنہیں مجھ سے پیغام ملے گا، وہ ایک کالم نگار کی سند کے ساتھ یہ پیغام آگے بھیجیں گے؛ حالانکہ سامنے کی بات یہ ہے کہ کالم نگار صاحب تو ڈاکٹر ہیں ہی نہیں۔

یوں ایک صریح جھوٹ پھیلتا چلا جاتاہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ سازشی تھیوریز میں پیش کیا گیا جھوٹ ان باتوں پر مبنی ہوتاہے، جو جھوٹی ہونے کے باوجود ہمارے دلی جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ میں خود ایک سازشی تھیوری بنا کر آ پ کو پیش کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ جیسے ہی زمین پہ موجود افراد کی تعداد پندرہ ارب سے تجاوز کرے گی ، زمین کا کرسٹ اس بے پناہ بوجھ تلے دب کر ٹوٹنا شروع ہو جائے گا۔ اس میں،میںکوئی جھوٹا مذہبی حوالہ گھڑ کے نتھی کر دیتا ہوں۔ بارہ مصالحے پورے ہو جائیں گے۔ فارورڈ ایز رسیوڈ والے پیغامات میں دراصل ایک خواہش بھی درج ہوتی ہے کہ سننے والا بھی فی سبیل اللہ اسے آگے بڑھاتا جائے۔ میں پانچویں جماعت میں تھا ، جب پہلی بار فارورڈ ایز رسیوڈ کے جھوٹ سے واسطہ پڑا۔ ہمارے سکول میں یہ بات پھیلی کہ جو پولیو کی ٹیمیں قطرے پلانے گھر گھر جاتی ہیں، وہ دراصل آبادی کم کرنے کی ایک حکومتی سازش پر عمل کر رہی ہیں۔ آج سکول کے وہ سب بچے صاحبِ اولاد ہیں۔ کرونا سے متعلق سازشی تھیوریز بھی عام ہو چکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ جوانی میں دل کے دوروں سے مر رہے ہیں، وہ کرونا ویکسین کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سچ ہے تو جو لوگ کرونا ویکسین پینے کے باوجود دل کے دورے سے نہیں مر رہے، وہ کیوں نہیں مر رہے؟ تھوڑی سی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جو جوانی میں دل کے دوروں سے مر رہے ہیں، ان کے جینز میں پیدائشی طور پر یہی درج تھا۔

چاند پہ انسانی قدم ایسی ہی ایک مثال ہے۔ ایک دوست نے مجھے یہ کہا : ''Vinyle radion layer''سے انسان کبھی باہر نہیں نکل سکتا۔ Vinyleشعاعیں کرّئہ ارض کے گرد پھیلی ہوئی ہیں۔ انسانی جسم ان سے نکل کر دوبارہ داخل نہیں ہو سکتا۔ 1969ء میں یہ شعاعیں دریافت بھی نہیں ہوئی تھیں۔ جب Vinyleشعاعیں دریافت ہوئیں تو پھر امریکیوں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ان شعاعوں کو کیسے عبور کیا۔ اس پر امریکیوں نے جواب دیا کہ ہم تو نیل آمرسٹرانگ والے مشن کا سارا ڈیٹا ہی کھو چکے ہیں۔

مسئلہ صرف اتناہے کہ وینائل شعاع کی یہ اصطلاح کسی عالی دماغ نے گھڑی ہے۔ کوئی شعاع اس قابل نہیں ہوتی کہ انسانی جسم کو گزرنے سے روک دے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تابکار شعاع سے کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ کبھی پیش نہیں آیا کہ امریکیوں نے کہا ہو کہ وہ اس مشن کا ڈیٹا کھو چکے ہیں۔ ایسا کوئی واقعہ پیش آتا تو ہمیشہ کیلئے ریکارڈ ہو جاتا۔ اوسط ذہانت کا ہر شخص سازشی تھیوریز گھڑ کے پھیلا سکتا ہے۔

ایک دفعہ ایک پیغام ملا ’’ ساڑھے تین منٹ‘‘... ہر ایک شخص کوان ساڑھے تین منٹ میں احتیاط کرنی چاہئے، جب وہ نیند سے ایک دم اٹھ کر پیشاب کرنے جائے۔ بہت سے صحت مند لوگ بھی رات میں مردہ پائے گئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بھلا چنگا تھا، یہ اچانک کیسے مر گیا۔ ایسی اموات کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اچانک بستر سے اٹھ کھڑے ہونے پر خون دماغ تک نہیں پہنچ پاتا۔ ساڑھے تین منٹ کی کوشش ایک بہترین طریقہ ہے۔ 1۔نیند سے بیدار ہونے پر آدھا منٹ بستر پر لیٹے رہئے۔ اگلا آدھا منٹ بیڈ پر بیٹھے رہیں۔ اگلے اڑھائی منٹ بستر سے پائوں لٹکا کر بیٹھے رہیں۔ یہ ہو گئے ساڑھے تین منٹ۔ اب آپ اچانک اٹھنے سے ہونے والی موت سے محفوظ ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اچانک کھڑے ہونے سے اگر کسی کو موت آتی تو دنیا میں ایک بھی انسان اور جانور آج زندہ نہ ہوتا۔ تخلیق کرنے والے نے کوئی بغیر سوچے سمجھے زندہ چیزیں ڈیزائن نہیں کیں۔ دل کے مریض کیلئے تواتنی احتیاط تو سمجھ میں آتی ہے، عام شخص کیلئےہرگز نہیں۔ ایک شخص جو ڈاکٹر نہیں، وہ کیسے لوگوں کو ان احتیاطوں پر لگا سکتا ہے۔ جوانی میں مرنے والے دو لوگوں کو میں جانتا ہوں کہ وہ دیسی شراب پینے کے عادی تھے، غالباً جو مہلک ثابت ہوئی۔ اسی طرح نو گیارہ سے متعلق بے پناہ سازشی تھیوریز گھڑی گئیں۔ کچھ لوگ تو آج بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ نو گیارہ کو کوئی جہاز کسی عمارت سے ٹکرایا ہی نہیں۔

اسی طرح کا تصور ''illuminati''کا ہے۔ یہ ایک خفیہ تنظیم تھی، ایک جرمن جوہان ایڈم نے اٹھارویں صدی میں اس کی بنیاد رکھی تھی۔ آج پاکستان میں بہت سے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان سمیت ساری دنیا کا نظام دراصل illuminatisکے ہاتھ میں ہے۔ حالانکہ دنیا کو کب کوئی کنٹرول کر سکا ہے۔ دنیا کو تو ہٹلر نہیں کنٹرول کر سکا۔ امریکہ ایڈورڈ سنوڈن کو خوفناک انکشافات سے نہیں رو ک سکا۔ اسرائیل 7اکتوبر کو نہیں روک سکا۔ یہ ایک بچگانہ خیال ہے کہ کوئی خفیہ تنظیم دنیا کو کنٹرول کر رہی ہے۔ بہرحال صحیح معنوں میں یہ سنی سنائی کا زمانہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ آج