مہمان کالم - سیاسی بحران کا نتیجہ؟ سیاسی بحران کا نتیجہ؟

سب سے پہلے یہ دیکھناضروری ہے کہ ملک میں موجودہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ کیا ہے؟بحران کس نے اور کیوں پیدا کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟دوسرا یہ دیکھنا،سوچنا اور فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ملکی معاشی، دفاعی اور امن وامان کی صورتحال سیاسی عدم استحکام کی متحمل ہے اور پھر یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ اس بحران کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے۔ کاش کوئی ان وجوہات اور حالات کو سمجھے،جس کی امید بہت کم ہے۔

اس میں پوشیدہ کچھ بھی نہیں ہے کہ ایک ’’سیاسی جماعت‘‘ نے ملک کو معاشی اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا ہے، جو ہر حال میں اپنے خلاف قائم مقدمات سے جان چھڑا نااور مسند اقتدار پر ایک بارپھر براجمان ہوناچاہتی ہے۔ اور اس کے لئے ملک وقوم کوئی بھی قیمت ادا کرے اس جماعت کو کوئی پروا نہیں ۔ یہ جماعت پہلے کیسے اقتدار حاصل کرسکی تھی یہ ایک الگ بحث ہے تاہم اس وقت جن لوگوں نے اس کاساتھ دیا تھا وہ بھی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن اب بھی شاید کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو اس صورتحال کو مزید آگے بڑھانے کے لئے کوشاں اور مدد گار ہیں۔ نہ کسی کو ملک کی فکر ہے نہ قوم کی۔ ہر کوئی اپنا سوچ رہا ہے۔ اس جماعت کے بعض قائدین خود اقرار کرچکے ہیں اور اب تک کررہے ہیں کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا۔ لیکن کوئی بھی ان بیانات پر توجہ دیتا ہے نہ ان بیانات پر کوئی نوٹس لے کر قانونی کارروائی کرنے والا ہے۔ حالانکہ یہ بیانات خود چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ہوسکتا ہے کہ اس کالم کی اشاعت تک عدلیہ کی طرف سے کوئی فیصلہ آجائے۔

ملک کا اصل مسئلہ معاشی صورتحال ہے جس سے ہر کوئی متاثر اور پریشان ہے۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کا ناسور ایک بار پھرتازہ ہورہا ہے۔ فوج اور پولیس خاص نشانہ ہیں۔ فوج کے افسران اور جوانوں کے ساتھ ساتھ پولیس کے افسران اور اہلکار بھی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔پاک فوج اور متعلقہ ادارے دہشت گردوں کے تعاقب میں ہیںتاکہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ لیکن بعض عاقبت نااندیش اور ریاست کے دشمن فوج کی اعلیٰ ترین قیادت کے خلاف مذموم مہم چلانے میں مصروف ہیں،جو نہایت گھنائونا فعل ہے۔ اور اس کا علاج اب بہت ضروری ہے۔

یہ بھی ریاست کے لیے کینسر کی شکل ہےجس کا علاج کسی سردرد کی گولی سےنہیں ہوسکتا اس کےلئے آپریشن ضروری ہے ورنہ یہ ریاست کے لئے اتنا ہی خطرناک ہے جتنی خطرناک دہشت گردی ہے۔ ان اہم نکات پر توجہ دینے کے بجائے بعض اداروں اور ایک مخصوص جماعت کی توجہ ایک بے مقصد الیکشن پر مرکوز ہے۔ اگرچہ یہ الیکشن ملک کے لئے بے مقصد بلکہ نقصان دہ ہوگا لیکن اس گردان کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ اس کو ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بامقصد اور فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ شنید ہے کہ بہت جلد ایسے لوگوں کو نکیل ڈالی جائے گی جو اداروں کو کمزور کرنے اور ملک میں فساد پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آج کل ایک پروپیگنڈہ یہ بھی جاری ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ تجارت کا آغاز کردیا ہے اور کچھ اشیا اسرائیل کی مارکیٹ میں پہنچ چکی ہیں جو پاکستان سے برآمد کی گئی ہیں۔ اس جھوٹ کے موجد کو یہ تک معلوم نہیں کہ کسی بھی ملک سے تجارت کےلئے ضروری ہے کہ اس ملک کو ایک قانونی اور خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ نہ تو پاکستان اسرائیل کو قانونی اور خود مختار ریاست تسلیم کرتا ہے نہ اس بارے میں کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ پھر اسرائیل کے ساتھ تجارت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔یہ ایک یہودی ہے جس کانام میشل خلد(فیصل خالد) ہے جو پاکستان میں رہتا ہے۔ اس کو اسرائیلی پاسپورٹ خصوصی طور پرجاری کیا گیاتھا۔ اور پاکستان کی طرف سے اسرائیل کے لئے جاری کیا گیا یہ واحد پاسپورٹ ہے۔ سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے۔ اس نے عرب ملک سے پاکستان سے کھانے پینے کی بعض اشیا لے کر اسرائیل بھیجیں۔اس حرکت کا مقصد بھی بہت واضح اور ایک منصوبے کا حصہ تھا، جواب عیاں ہوگیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ہرکام میں کوئی مصلحت اور خیر کا پہلو ہوتا ہے۔ قران کریم میں فرمایا گیا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ بدنیتی سے ملک میں عدم استحکام پھیلانے والوں کا انجام تو اچھا ہوہی نہیں سکتا لیکن اس فساد اور عدم استحکام کا اختتام ملک کی بہتری پرہوگا۔ قوم کو اس فرسودہ اور غیر منصفانہ نظام اور ریاست کو کمزور اور ملک کو بحران سے دوچار کرنے والوں سے ہمیشہ کے لئے نجات ملے گی۔ بس تیز ترک گامزن منزل مادورنیست۔

بشکریہ روزنامہ آج