"طرابلس میں اردو زبان کے جنازے کا احوال" 1000

"طرابلس میں اردو زبان کے جنازے کا احوال"


رئیسؔ امروہوی اردو زبان کے معتبر شعراء میں سے ایک جانے جاتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید محمد مہدی تھا۔ 13 ستمبر 1914ء کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد اکتوبر 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور شہر کراچی میں سکونت اختیار کی۔ قطعہ نگاری میں ان کو خاص اور منفرد مقام حاصل تھا۔ روزنامہ جنگ میں ان کے قطعات کئی دہائیوں تک باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ 7 جولائی 1972ء کو سندھ اسمبلی میں "سندھ ٹیچنگ، پروموشن اینڈ یوز آف سندھی لینگویج بل" کثرت رائے سے منظور ہوا، جس کی رو سے سندھی زبان صوبہ سندھ کی واحد سرکاری زبان قرار پائی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور تھا اور ان ہی کی منشأ سے 3 جولائی 1972ء کو اس وقت کے سندھ کے وزیراعلٰی ممتاز علی بھٹو نے وہ متنازعہ بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اس بل کے منظور ہونے کے نتیجے میں اردو زبان بولنے والے مشتعل ہو گئے اور صوبہ بھر میں پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔ روزنامہ جنگ نے اپنے فرنٹ پیج پر بڑی سرخیوں کے ساتھ اس بل کے خلاف خبر شائع کی، جس کا عنوان تھا، "اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے"۔ دراصل یہ عنوان رئیسؔ امروہوی کی اس شہرہ آفاق نظم کا تھا، جسے انہوں نے اس متنازعہ بل کے پاس ہونے کی وجہ سے نہایت دلبرداشتگی کے عالم میں تحریر کیا تھا۔ بعد ازاں مظاہروں اور جھڑپوں میں شدت آنے کے سبب ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا کہ اردو اور سندھی دونوں صوبہ سندھ کی سرکاری زبانیں ہوں گی، تاہم اردو زبان بولنے والوں نے آج تک اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ بلاشبہ بڑی واضح ہے۔ اردو پاکستان کی سرکاری زبان ہے جبکہ سندھی ایک علاقائی زبان ہے، لہذا سندھی زبان یا پاکستان کی کسی بھی علاقائی زبان کو اردو زبان کے مساوی سرکاری زبان قرار دینے کے فیصلے کو کسی بھی صورت قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

میں پچھلے دنوں رئیسؔ امروہوی کی وہ نظم پڑھ رہا تھا۔ قارئین کرام، آپ اللہ پر یقین کریں، میری آنکھیں بھر آئیں کیونکہ میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں 5 سال مقیم رہا ہوں اور میں نے وہاں رہنے والے پاکستانی شہریوں کو اردو بولتے ہوئے سنا ہے۔ میں یہ کسی خاص قوم یا فرقے سے تعصب یا نفرت کی بناء پر نہیں کہہ رہا، صرف وہ حقیقت بیان کر رہا ہوں جس کا میں اپنی کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکا ہوں اور اپنے حیات کانوں سے سماعت کر چکا ہوں۔ اللہ کی پناہ، میں نے ایسی بھونڈی اردو اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں سنی۔ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آیا اردو زبان کی اس قدر بے حرمتی اور پامالی بھی ہو سکتی ہے ؟ آپ یقین جانیئے، آپ کو مرزا اسد اللہ خان غالبؔ، میر تقی میرؔ، الطاف حسین حالیؔ، شیخ ابراہیم ذوقؔ، ابن انشاؔء، سر سید احمد خان، محمد حسین آزاد، مولوی عبدالحق، عبدالحلیم شررؔ اور نظیر احمد دہلوی سمیت نہ جانے کتنے لاتعداد معتبر شعراء اور مصنفین کی روحیں بیک وقت تڑپتی ہوئی نظر آئیں گی۔ 

ویسے تو اردو زبان تقریباً پورے پاکستان میں ہی بولی اور سمجھی جاتی ہے، آخر ہماری قومی زبان جو ٹھہری، بہرکیف اس کو سیکھ کر اور پھر سمجھ کر بولنے کا جو لطف ہے، وہ محض وہی لوگ جانیں، جنہیں اس زبان سے پیار ہے اور اس زبان کی قدر و منزلت سے آگاہ ہیں۔ بصورت دیگر، اس زبان کا اس قدر بے رحمی سے "قتل عام" کیا جاتا ہے کہ چیخ چیخ کر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ میں تو طرابلس میں مقیم رہنے کے سبب اردو زبان کے "جنازے" میں متعدد مرتبہ "شرکت" کر چکا ہوں، آئیے آج آپ بھی چند ساعتوں کیلئے "شرکت" کی "سعادت" حاصل کیجیئے، تاہم یاد رہے کہ افسوس نہ کیجیئے گا، کیونکہ بقول رئیسؔ امروہوی،

کیوں جانِ حزیں خطرہ موہوم سے نکلے۔
کیوں نالۂ حسرت دلِ مغموم سے نکلے۔
آنسو نہ کسی دیدۂ مظلوم سے نکلے۔
کہہ دو کہ نہ شکوہ لبِ مغموم سے نکلے۔
اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔

خیر، رئیسؔ امروہوی تو مجھے گاہے بہ گاہے یاد آتے رہیں گے، آپ طرابلس میں اردو زبان کے "قتل عام" اور بعد ازاں "جنازے" کے چند چشم دیدہ واقعات سماعت فرمائیے۔ ایک مرتبہ طرابلس میں ایک دوست کے ہمراہ کسی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ شادی بیاہ میں ہوائی فائرنگ پر گفتگو ہو رہی تھی، محفل میں موجود ایک محترم فرمانے لگے، "پاکستان میں آج کل کافی "سیاپا" پڑا ہوا ہے، شادی پر فائرنگ کرو تو فوراً پولیس "لپڑ" کر لے جاتی ہے"۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ایک صاحب دوسرے صاحب کو کہہ رہے تھے، "اٹلی جانے کے چکر "وچ" جو بندے "پھڑے" گئے تھے، وہ پچھلے ہفتے ہم نے "چھڈا" لیئے ہیں"۔ قارئین کرام میں سے جن کو اردو زبان آتی ہے، میرا ان سے ایک عاجزانہ سا سوال ہے کہ بتائیے، بھلا یہ کون سی اردو ہوئی ؟ کیا آپ نے کبھی ایسی اردو سنی ہے ؟ اگر سنی ہے، تو بتائیے کہ سن کر آپ کی اندرونی کیفیت کیا ہو رہی تھی ؟

اردو کا "غمِ مرگ" سبک بھی ہے، گراں بھی۔
ہے شاملِ اربابِ عزا، "شاہ جہاں" بھی۔
مٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھی۔
یہ میت غم دہلی مرحوم سے نکلے۔
اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔

ایک صاحب کے والد بزرگوار کا پاکستان میں انتقال ہو گیا۔ میں نے تعزیت کیلئے فون کیا۔ رسمی کلمات کے بعد کہنے لگے، "بس خان صاحب، اس بات کا افسوس ہے کہ میں لیبیا میں ہوں اور چھوٹا بھائی دبئی ہوتا ہے۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ "درمیانہ" بھائی پاکستان میں تھا ورنہ بڑی مشکل ہو جاتی"۔ دراصل وہ "منجھلا" کہنے کی بجائے "درمیانہ" کہہ گئے۔ آپ ایک اور واقعہ سنیئے۔ میری اہلیہ سے ایک خاتون فرما رہی تھیں، "میرے "بڑے دیور" لیبیا آنا چاہتے ہیں لیکن ویزے کا مسئلہ ہے، اسلیئے مشکل ہو رہا ہے"۔ وہ خاتون دراصل اپنے "جیٹھ" کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔ اردو میں خاوند کے چھوٹے بھائی کو "دیور" جبکہ بڑے بھائی کو "جیٹھ" کہا جاتا ہے۔ تاہم، اب کیا ہو سکتا ہے ؟ اردو کو تو "مرحومہ" ہوئے نہ جانے کتنا زمانہ بیت چکا ہے۔

اے تاج محل، نقش بہ دیوار ہو غم سے۔
اے قلعۂ شاہی، یہ الم پوچھ نہ ہم سے۔
اے خاکِ اودھ، فائدہ کیا شرحِ ستم سے۔
تحریک یہ مصر و عرب و روم سے نکلے۔
اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔

خیر، یہ تو عام بول چال کی بات ہو رہی تھی۔ آپ نے اگر طرابلس میں مقیم پاکستانیوں کو کبھی اردو لکھتے ہوئے دیکھ لیا، تو آپ کا دل اپنے سر پر مٹی ڈالنے کو کرے گا۔ ایک صاحب نے فیس بک پر پوسٹ کی، ان کی تحریر کچھ ایسی تھی، "پاکستان میں آٹے کے "برہان" پر "کابو" پانا مشکل ہو رہا ہے اور ظالم "ہوکمران" اپنی "ایاشیوں" میں مصروف ہیں"۔ یہ بھی چھوڑیئے، پاکستانی کمیونٹی کے ایک "چودھری" کی فیس بک پوسٹ ایک مرتبہ میری نظر سے گزری، موصوف نے لکھا تھا، "تمام کمیونٹی ممبران سے گزارش ہے کہ "مکررہ" وقت پر "پونچ" جائیں تاکہ عید ملن پارٹی کو زیادہ سے زیادہ "انجائے" کیا جا سکے"۔ 

اس لاش کو چپکے سے کوئی دفن نہ کر دے۔
پہلے کوئی سر سیدِ اعظم کو خبر دے۔
وہ مردِ خدا ہم میں نئی روح تو بھر دے۔
وہ روح کہ موجود، نہ معدوم سے نکلے۔
اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔

طرابلس میں مقیم ایک اور پاکستانی نے فیس بک پر پوسٹ کی، لفظ بہ لفظ ملاحظہ فرمائیں، لکھا تھا، "آج کل یہ "حآلات" ہیں کہ ایک زرعی ملک اپنے "بندوں" کیلئے آٹا سستا کرنے کی وجوہات "ڈونڈ" رہا ہے یا پھر کوئی ایسا شخص جس کے "زمرے" میں یا کھاتے میں یہ "برھان" ڈالا جائے"۔ قارئین کرام، آپ سوچیئے کہ ایک شخص اردو لکھ رہا ہے، تاہم نہ ہی الفاظ درست استعمال کر رہا ہے اور نہ ہی اسے یہ معلوم ہے کہ کون سا لفظ کہاں استعمال کرنا ہے۔ 

ہیں مرثیہ خواں قوم میں اردو کے بہت کم۔
کہہ دو کہ انیسؔ اس کا لکھیں مرثیۂ غم۔
جنت سے دبیرؔ آ کے پڑھیں نوحۂ ماتم۔
یہ چیخ اٹھے دل سے، نہ حلقوم سے نکلے۔
اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔

مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا کہ ایک خاتون نے پاکستان ایمبیسی، طرابلس میں گمشدہ شناختی کارڈ کیلئے درخواست دی۔ میں اتفاق سے وہیں موجود تھا، محترمہ نے لکھا تھا، "جناب "صفیر صاب"، میرا شناختی کارڈ راستے میں "گمشدہ" ہو گیا ہے، میں نیا شناختی کارڈ "بنانا" چاہتی ہوں، آپ سے "گوزارش" ہے کہ مجھے نیا شناختی کارڈ "جاری کرنے کی اجازت" دی جائے"۔ بعد ازاں، میں نے ان کیلئے انگریزی میں درخواست لکھی، شاید وہ میرا یہ کالم پڑھ رہی ہوں گی۔ 

اردو کے جنازے کی یہ سج دھج ہو نرالی۔
صف بستہ ہوں مرحومہ کے سب وارث و والی۔
آزادؔ و نذیرؔ و شررؔ و شبلیؔ و حالیؔ۔
فریاد یہ سب کے دلِ مغموم سے نکلے۔
اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔  

قارئین کرام، اردو زبان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کی ابتداء بارہویں صدی عیسوی میں دہلی سے ہوئی۔ اردو کا پرانا نام "ریختہ" تھا۔ لفظ "اردو" کے لفظی معنی "لشکر" کے ہیں، کیونکہ یہ عربی، فارسی اور ترکی زبان کے بہت سے الفاظ کا مجموعہ ہے۔ اردو زبان کو ہندی زبان سے کافی مماثلت ہے اور دونوں کے بولنے کا لہجہ تقریباً ایک جیسا ہے، تاہم الفاظ کافی حد تک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اردو زبان میں ادب اور شاعری کی باقاعدہ ابتداء چودھویں اور پندرھویں صدی میں ہوئی۔ بعد ازاں اس زبان کی "صرف و نحو" یعنی گرائمر میں ترقی ہوتی گئی اور ساتھ ساتھ اس زبان کے مختلف اصناف ادب ایجاد ہونا شروع ہوئے، مثلاً غزل، نظم، رباعی، قطعہ، مثنوی، نوحہ، قصیدہ، مرثیہ، افسانہ، نثر، ناول، ڈرامہ، سرگزشت، خودنوشت، روداد وغیرہ، جو عام طور پر ہمیں درسی کتب میں پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔ اردو زبان نے بہت سے نامور شعراء اور مصنفین کو جنم دیا، جن کی بدولت اردو ادب ایک درخشاں ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ اردو ادب کو پروان چڑھانے میں جن شعراء نے اہم کردار ادا کیا، ان میں مرزا اسد اللہ خان غالبؔ، میر تقی میرؔ، الطاف حسین حالیؔ، شیخ ابراہیم ذوقؔ، نواب مرزا خان داغؔ دہلوی، مِرزا مُحمّد رفِیع سوداؔ، علامہ محمد اقبالؔ، ولیؔ اورنگ آبادی، میر انیسؔ، مرزا دبیرؔ، نظیرؔ اکبر آبادی، اکبرؔ الہ آبادی، کیفؔ بھوپالی، مجروحؔ سلطان پوری، مومن خان مومنؔ، امیؔر مینائی، خواجہ میر دردؔ، مرزا ہادی رسواؔ، جوشؔ ملیح آبادی، ساحرؔ لدھیانوی، بخش ناسخؔ، غلام ہمدانی مصحفیؔ، قتیلؔ شفائی، ابن انشاؔء، فیض احمد فیضؔ، عبدالرحیم نشترؔ، میاں داد خان سیاحؔ، نواب مصطفٰی خان شیفتہؔ، جگرؔ مراد آبادی، شکیب جلالیؔ، ساقیؔ امروہوی، ساغرؔ صدیقی، محسنؔ نقوی، منیرؔ نیازی، احمد فرازؔ، پروینؔ شاکر اور جون ایلیاؔ قابل ذکر ہیں۔ دوسری جانب مصنفین میں محمد حسین آزاد، مولوی عبدالحق، عبدالحلیم شررؔ، نظیر احمد دہلوی، احمد ندیم قاسمی، عصمت چغتائی، مرزا فرحت اللہ بیگ، منشی پریم چند، اشفاق احمد، سعادت حسن منٹو، بانو قدسیہ، نسیم حجازی، قدرت اللہ شہاب، آتش درانی، فرحت اشتیاق، غلام عباس، ابوالخیر کشفیؔ، ڈپٹی نذیرؔ احمد، ابوالکلام آزاد، جگن ناتھ آزاد، مرزا ادیبؔ، جمیل الدین عالیؔ، میکاش اکبر آبادی، علی اکبر ناطق، اور پطرس بخاری ایسے نام ہیں، جنہوں نے اردو ادب کو چار چاند لگائے۔ 

اردو زبان کی قدر و منزلت کا اندازہ اس امر سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد قائداعظم محمد علی جناح نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔ 21 مارچ، 1948ء کو قائداعظم نے ایک جلسے سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ "اردو پاکستان کی واحد قومی زبان ہو گی اور اس کے علاوہ کوئی اور زبان پاکستان کی قومی زبان نہیں کہلائے گی"۔ قائداعظم اردو زبان کو فروغ دینے کے خواہاں تھے اور اس زبان کو پاکستان میں اتحاد کی علامت سمجھتے تھے کیونکہ اردو ہی وہ زبان تھی، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو آپس میں متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہی اتحاد بعد ازاں قیام پاکستان کا سبب بنا۔ ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ہمارا قومی فرض بنتا ہے کہ اردو زبان کو عزت بخشیں، نہ کہ اس کی تحقیر و توہین کریں۔ طرابلس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے کہنا چاہوں گا کہ آپ اردو معلیٰ بیشک مت بولیں، آپ سلیس یعنی آسان اور سادہ اردو میں گفتگو کر لیا کریں۔ بس اتنا خیال رہے کہ آپ جو اردو کے تلفظ ادا کرتے ہیں، وہ درست ہوں۔ براہ کرم، اردو کی ٹانگیں نہ توڑیں، بس اتنی سی گزارش ہے اور یہی میرا اس کالم کو لکھنے کا مقصد ہے۔ 

علاوہ ازیں، طرابلس میں مقیم اردو زبان بولنے والے بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ اپنے آس پاس کسی کو غلط اردو بولتے ہوئے سن لیں، تو براہ کرم اصلاح فرما دیا کریں۔ اس میں کوئی شرم یا عار محسوس نہ کریں، یہ آپ کی ذمہ داری ہے، کیونکہ آپ ہی اس زبان کے اصل پاسداران ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر اردو زبان کا "جنازہ" خود ہی پڑھ لیں، طرابلس میں مقیم ان رنگ برنگی جاہلوں سے نہ پڑھوایا کریں۔ اگر ہو سکے تو "جنازہ" پڑھتے وقت رئیسؔ امروہوی کی یہ تمنا بھی پوری کر دیجئے گا۔

سایہ ہو جب اردو کے جنازے پہ ولیؔ کا۔
ہوں میرؔ تقی ساتھ، تو ہمراہ ہوں سوداؔ۔
دفنائیں اسے مصحفیؔ و ناسخؔ و انشاؔ۔
فریاد دلِ غالبِؔ مرحوم سے نکلے۔
اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔


 

بشکریہ اردو کالمز