ہر طرف رونقیں تھیں۔ بچے اسکول سے واپسی پر خوش تھے۔ کالج کی لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف گھروں کو جاتی بسوں کی جانب لپک رہیں تھی۔ ٹھیلے والا گاہک زیادہ ہونے کی وجہ سے من ہی من خوش ہو رہا تھا اور رب تعالیٰ کا شکریہ ادا کر رہا تھا کہ آج پیسے بچا کر گھر گوشت لے جاؤں گا بچوں سے وعدہ کر رکھا تھا کہ جس دن گاہکی اچھی ہوئی ضرور لاؤں گا۔ دفتر میں کام کرنے والے تھکن سے چور ہوئے کنٹینوں کا رخ کر رہے تھے۔ گو کہ ہر طرف ریل پیل تھی کون جانتا تھا کہ کل کا سورج ایک عجیب قیامت ڈھائے گا۔ان دنوں چین ایک وبا کی لپیٹ میں تھا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مرنے والوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ مگر ہمیں کیا، زندگی کا پہیہ چل رہا تھا۔ کام دھندہ سیٹ تھا۔
لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ رشوت کا دور دور تھا۔ بے ایمانی عروج پر تھی۔ شور کرتی گاڑیاں اور ان کا دھواں زندگی کی رونقوں کا پتہ دے رہا تھا۔ ٹی وی چینلز پر روز ایک عجیب منافقانہ شور تھا کہ چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے یا نہیں۔ روز بروز اسی ایک بے بنیاد اور بنا نتیجے کے بحث چالیس چالیس منٹ چلنے کے بعد تھم جاتی۔ عجیب تماشا تھا۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ کل کو اگر وائرس کسی طرح ہمارے ملک میں آ گیا تو ہمارا رسپانس کیا ہو گا۔ نہ اس پر بحث ہوئی نہ کوئی حکومتی اقدام سامنے آیا۔ اگرچے بعد میں یہی ظاہر کیا گیا کہ ہم تیار تھے۔ مگر آہستہ آہستہ لوگوں میں خوف بڑھنے لگا۔ ایک دن خبر آئی کہ کل سے لاک ڈاؤن کیا جائے گا سبھی لوگ گھروں میں رہیں، غیر ضروری طور پر کوئی فرد گھر سے باہر نہ جائے۔
اگلے دن سب کچھ بند تھا خوف نے لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا۔ ٹھیلے والا، اسکول والے بچے، دفتر والا بابو عرض سبھی گھروں کے ہو کر رہ گئے۔ وقت گزرتا رہا جیب میں پڑے پیسے ختم ہونے لگے۔ لوگوں کو اپنے ہی گھروں کی دیواروں سے وحشت ہونے لگی۔ جی گھبرانے لگا۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ رونقیں، وہ مستیاں، وہ چہل قدمی سب کچھ کیسے بدل گیا کوئی اس بات کو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وقت کے پہیے پچھلے کئی برسوں سے چل چل کر گھس چکے تھے، زنگ آلود ہو چکے تھے تبھی تو وقت دھیرے دھیرے گزرنے لگا۔ دن لمبے ہوتے گئے، بھوک بڑھنے لگی۔ لوگوں نے خود کو قید سے رہا کرناچاہا پر وقت کے پہیے نے سست روی کے باوجود کسی کو اپنے حصار سے باہر پاؤں نہ دھرنے دیا۔ مغربی ممالک میں تباہی کی خبروں نے ذہنی مریض بنا دیا۔ لوگ اپنوں کو کاٹنے لگے، نفرتیں بھرنے لگیں۔ دوریاں مستقل پنجے گاڑ چکی تھیں۔ سب کچھ رسمی سا لگنے لگا۔ احساس ہوا کہ ہم دھوکے میں تھے۔ یہ گاڑی، یہ بنک بیلنس، یہ شان و شوکت سب کچھ بے معنی تھا جس کے لیے ساری عمر محنت کرتے رہے، جس کے لیے معاشرے میں اتراتے رہے۔ غریب رشتے داروں سے منہ موڑتے رہے۔ امیر اپنا پیسہ بچانے کے چکر میں گھر میں مر مر کے جینے لگا۔
غریب بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مجبور ہونے لگا۔ مڈل کلاس طبقہ ہاتھ دھو دھو کر دن کاٹنے لگا۔ چند لوگوں کے دلوں میں نیکی کا جذبہ پیدا ہوا تو انہوں نے غریبوں اور بھوک سے لاچار لوگوں کو کھانے کے نام پر راشن ایک سیلفی کے عوض دینا شروع کر دیا۔ اسی اثناء میں وہ لوگ بھی گھروں سے نکلے جنہیں خدا کے سوا کسی سے کوئی صلہ نہیں چاہیے تھا، بغیر بتائے نجانے کتنوں کے بجھتے چولہے جلائے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ حکومتیں وبا کے نام پر سیاست کرنے لگیں۔ فنڈ جمع ہونے لگا، فورسز تشکیل دی جانے لگیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں سے خوف چھٹنے لگا۔ ایک مدت کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی ہونے لگی۔
لوگ گھروں سے نکلنے لگے۔ بازار میں رونقیں لگنے لگیں۔ ویکسین کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ تیزی سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی خبروں میں اضافہ ہونے لگا۔ جو خوف لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا وہ دن بدن کم ہونے لگا۔ حکومتیں فنڈ اکٹھا کرنے اور امدادی پیکج سمیٹنے میں کامیاب رہیں۔ باقی ماندہ لوگ تیزی سے صحتیاب ہونے لگے۔ لوگوں میں پھر سے زندگی کی رمق نظر آنے لگی۔ بازاروں اور ٹھیلوں کے آس پاس رش لگنے لگا۔ فضا میں آلودگی بڑھنے لگی۔ زمین کے آرام کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ تازہ ہواؤں نے واپسی کا رخ کر لیا تھا۔ شور و غل اور گرد و غبار لوٹ آیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے مایوس چہرے پر ہنسی لوٹ آئی تھی۔ وقت کے پہیے رواں ہو چکے تھے۔ وقت تیزی سے گزرنے لگا۔
عرصہ ہو گیا تھا سب کچھ ایسے تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ مہنگائی بڑھ گئی تھی۔ انسانوں کے رویے بھی بدل گئے تھے۔ دفتر والے بابو دن رات کے کاموں سے تنگ آ کر لاک ڈاؤن کا وقت یاد کر کے موجودہ وقت کو کوسنے لگے۔ بچے جو اسکول جانے کے لیے بے تاب تھے۔ اب اسکول کھلنے پر غمزدہ ہونے لگے۔ ایک غریب تھا جو تب بھی دو وقت کی روٹی کے مل جانے پر خدا کا شکر بجا لا رہا تھا اور آج بھی دو وقت کی روٹی مل جانے پر خدا کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے۔ گو کہ ہر چیز اپنے گزرے برے وقت کو آج کے وقت سے بہتر سمجھنے لگی۔ یہی دستور ہے گزرہ ہوا وقت ہمیشہ آنے والے وقت سے بہتر ہوتا ہے۔ ہر لحاظ سے بہتر ہوتا ہے۔ مگر گزرہ وقت واپس نہیں آ سکتا لہٰذا جو مل جائے اس پر شکر ادا کرنا چاہیے اور خیر کی دعا کرنی چاہیے۔