وزیرِ اعلیٰ کا رقص عوام کی حالتِ زار 2

وزیرِ اعلیٰ کا رقص عوام کی حالتِ زار

 

    رقص کوئی جرم نہیں شادی خوشی کا موقع ہوتی ہے خوشی منانا انسانی فطرت ہے ایک عام آدمی شادی میں خوشی سے جھومے رقص کرے گائے یا دوستوں کے ساتھ خوشیاں بانٹے تو اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے مگر سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عام آدمی اور ایک بڑے منصب پر بیٹھے شخص کے طرزِ عمل میں فرق باقی نہ رہے چند روز قبل گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی ایک شادی کی تقریب میں رقص کی ویڈیو سامنے آئی جہاں موصوف گلگت بلتستان کے محروم لوگوں کی حالت سے بے خبر ہوکر خوب ناچ رہے ہیں  ویڈیو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے اسے خوشی کا ایک معمولی لمحہ سمجھا ہوگا مگر میرے لیے یہ محض رقص کی ویڈیو نہیں تھی اس کے پیچھے گلگت بلتستان کی وہ پوری تصویر کھڑی تھی جس میں ایک طرف اقتدار کے ایوانوں میں خوشیاں ہیں اور دوسری طرف عوام بجلی، روزگار، مہنگائی، صحت، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے مسائل میں گھری ہوئی ہے یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ وزیرِ اعلیٰ نے رقص کیوں کیا؟

اصل سوال یہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کو اپنے منصب کا احساس کب ہوگا منصب انسان سے اس کی ذاتی خوشیاں نہیں چھینتا لیکن منصب انسان سے اس کے رویے میں ایک اضافی ذمہ داری ضرور مانگتا ہے ایک وزیرِ اعلیٰ صرف ایک فرد نہیں رہتا وہ پورے خطے کی علامت بن جاتا ہے اس کے معمولی سے معمولی عمل کو بھی عوام اپنے حکمران کے مزاج ترجیحات اور احساسِ ذمہ داری سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور گلگت بلتستان کوئی عام صوبہ بھی نہیں کہ جس کے مسائل معمولی نوعیت کے ہوں یہ ایک ایسا خطہ ہے جس کے آئینی مستقبل پر دہائیوں سے سوالات موجود ہیں یہاں کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا مگر آج بھی ان کے سامنے سیاسی و آئینی شناخت کا مسئلہ موجود ہے ایسے خطے کا وزیرِ اعلیٰ جب کسی شادی میں خوشی مناتا ہے تو شاید اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اسی وقت اس کے خطے کا ایک نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہے ایک مریض دوا کے لیے پریشان ہے ایک طالب علم بنیادی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہے اور ایک خاندان بجلی کے طویل تعطل میں زندگی گزار رہا ہے

یہی تضاد اصل تکلیف ہے۔

گلگت بلتستان دریاؤں ندی نالوں اور پانی کے بے پناہ وسائل کا خطہ ہے مگر بجلی کی قلت ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے کئی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ معمولِ زندگی کو متاثر کرتی ہے انفراسٹرکچر کے مسائل اپنی جگہ، صحت کے شعبے کی مشکلات اپنی جگہ روزگار کی کمی اپنی جگہ اور مہنگائی نے عام آدمی کی کمر اپنی جگہ توڑ رکھی ہے ایسے میں عوام اپنے وزیرِ اعلیٰ سے رقص نہیں راستہ مانگتے ہیں توجہ مانگتی ہے انہیں موسیقی کی محفل میں وزیرِ اعلیٰ نہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے دن رات کام کرنے والا حکمران چاہیے انہیں ایسا شخص چاہیے جو رات کو سونے سے پہلے یہ سوچے کہ آج میں نے اپنے علاقے کے لیے کیا کیا؟

کتنے نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہوا؟

کتنے علاقوں تک سڑک پہنچی؟

کتنے ہسپتالوں میں ادویات پہنچیں؟

کتنے سکولوں کے مسائل حل ہوئے؟

بجلی کا بحران کم کرنے کے لیے کیا منصوبہ بنایا گیا؟

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گلگت بلتستان کو اس آئینی بے یقینی سے نکالنے کے لیے حکومت نے کیا عملی قدم اٹھایا؟

 

حکومتیں تقریبات سے نہیں ترجیحات سے پہچانی جاتی ہیں وزیرِ اعلیٰ کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنی محفلوں میں شریک ہوئے کس تقریب میں کتنے لوگوں سے ملے یا کس موقع پر کتنی داد حاصل کی اصل کامیابی یہ ہے کہ جب پانچ سال بعد وہ اقتدار سے باہر نکلیں تو عوام کہیں کیا اس شخص نے ہمارے لیے کچھ کیا تھا بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست کا ایک عجیب مزاج بن چکا ہے اقتدار ملتے ہی بہت سے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اقتدار دراصل امتحان ہے انعام نہیں کرسی انسان کو بڑا نہیں بناتی کردار اور کارکردگی اسے بڑا بناتے ہیں وزیرِ اعلیٰ صاحب کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام ہر چیز دیکھ رہی ہے آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ہر انسان کے ہاتھ میں موبائل ہھ  ایک تصویر ایک ویڈیو اور ایک لمحہ پورے سیاسی تاثر کو بدل سکتا ہے اس لیے حکمران کو اپنی نجی زندگی میں بھی یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کا عوامی منصب اس سے کیا تقاضا کرتا ہے۔

اگر ایک عام شہری رقص کرے تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو لیکن جب یہی منظر ایک ایسے خطے کے وزیرِ اعلیٰ کا ہو جہاں عوام بنیادی سہولتوں کے لیے احتجاج کر رہی ہو بجلی کے بحران سے دوچار ہو روزگار کے لیے پریشان ہو اور حکومت سے بہتر گورننس کا مطالبہ کر رہی ہو تو سوال ضرور اٹھے گا یہ سوال رقص پر نہیں ترجیحات پر ہےاور پھر ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔

سیاسی منصب مستقل نہیں ہوتا آج وزیرِ اعلیٰ ہیں کل نہیں ہوں گے آج پروٹوکول ہے کل شاید کوئی پہچاننے والا بھی نہ ہو آج سرکاری گاڑی ہے کل وہی راستہ عام گاڑی میں طے کرنا ہوگا آج لوگ سلام کر رہے ہیں کل تاریخ سوال کرے گی تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے وہ یہ نہیں پوچھتی کہ وزیرِ اعلیٰ نے کتنی تقریبات میں شرکت کی تھی وہ پوچھتی ہے

جب عوام بجلی مانگ رہی تھی تو حکومت نے کیا کیا؟

جب نوجوان روزگار مانگ رہے تھے تو حکومت نے کیا کیا؟

جب مریض دوا مانگ رہا تھا تو حکومت نے کیا کیا؟

جب گلگت بلتستان اپنی آئینی شناخت مانگ رہا تھا تو حکومت نے کیا کیا؟ اور سب سے بڑھ کر پانچ سال کے اقتدار میں عوام کی زندگی کتنی بدلی؟

وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بہرحال عوام ان کی جماعت اور آنے والا سیاسی عمل کرے گا لیکن موجودہ دور میں ان کے لیے ایک موقع ضرور موجود ہے کہ وہ اپنی حکومت کی ترجیحات اور کارکردگی کو نمایاں کریں اس موقعے کو غنیمت جان کر اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا نہیں تو اگلے الیکشن میں موصوف کو ٹکٹ بھی نہیں ملے گا تنقید سے ناراض ہونے کے بجائے تنقید کو آئینہ سمجھنا چاہیے میرے اس کالم کو تنقید نہیں نصیحت سمجھیں اور سوچیں کیا واقعی میں عوامی خدمت سے غافل تو نہیں ہوا ہوں اپنے آپ سے سوال انسان کو وقت سے پہلے جگا دیتا ہے اپنی کوتاہیوں سے جگاتا ہے 

تنقید وقت کی اہم ضرورت ہے اور حق بھی ہھ اگر سیاسی مخالفین تنقید کر رہے ہیں تو جواب تقریروں سے نہیں کارکردگی سے دیں 

بجلی کا مسئلہ حل کریں

ہسپتالوں کو بہتر کریں

سڑکیں بنائیں

نوجوانوں کے لیے روزگار کے منصوبے لائیں

سیاحت کو مقامی لوگوں کی معاشی خوشحالی سے جوڑیں

تعلیم پر توجہ دیں

اور سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کے آئینی و سیاسی مسئلے کو محض تقریروں کا موضوع بنانے کے بجائے عملی جدوجہد کا حصہ بنائیں پھر شاید کسی شادی میں آپ کے چند لمحوں کے رقص پر بھی عوام اتنی گفتگو نہ کرے کیونکہ عوام جانتی ہوگی کہ یہ شخص محفل میں چند لمحے خوش ہوتا ہے مگر دفتر میں دن رات عوام کے لیے کام کرتا ہے حکمرانوں کو خوشی منانے کا حق ضرور ہے مگر عوام کے دکھ سے بے خبر ہونے کا حق کسی حکمران کو نہیں رقص چند منٹ کا ہوتا ہےحکومت پانچ سال کی ہوتی ہے رقص کی ویڈیو چند دن گردش کرتی ہے مگر حکمران کی کارکردگی تاریخ میں گردش کرتی رہتی ہے اس لیے وزیرِ اعلیٰ صاحب! محفل میں جھومنے سے کسی کو مسئلہ نہیں مگر اگر عوام مسائل میں جھوم رہی ہو تو حکمران کو ضرور سوچنا چاہیےکیونکہ اقتدار کی محفل میں بجنے والی موسیقی ختم ہو جاتی ہے

مگر عوام کے آنسوؤں کی آواز تاریخ کے کانوں میں بہت دیر تک گونجتی رہتی ہے۔

وقت سب سے بڑا منصف ہے آج منصب آپ کے پاس ہےکل منصب کسی اور کے پاس ہوگا سوال صرف یہ رہ جائے گا آپ نے گلگت بلتستان کو کیا دیا؟ بس اس سوال کو ذہن میں رکھیں اب آپکی مرضی ناچیں یا عوامی مسائل حل کریں فیصلہ آپکا ہے 

بشکریہ اردو کالمز