اسلام فوبیا سننے میں نئی اصطلاح ہوسکتی ہے لیکن اس کا وجود اس کا عکس اسلام شروع ہونے کے دنوں سے پایا جاتا ہے۔اس کو اگر ہم آسان الفاظ میں سمجھیں تو دینِ اسلام اور اسکی تعلیمات سے دشمنی اور بغض کے ہیں۔اس phobia میں جو مبتلاء ہوجاتا ہے وہ اسلام کو اسلام کاپرچار کرنے والوں کو نقصان پہنچانے کیلئے ہمہ تن کوشش کرتا رہتا ہے۔اس تناظر میں کافی اسلام دشمنی میں مبتلا لوگوں نے دینی تعلیمات اور دینی لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے اور ابھی تک اس طرح کے واقعات اور حرکات دیکھنے کو ملتی ہیں۔
اب اس ظمن میں اگر بات کریں تو اسلام فوبیا میں نا صرف یہودونصارہ مبتلا ہیں بلکہ اس میں مسلمان بھی مبتلا ہوتے نظر آتے ہیں۔جو ماڈرن Modern کہلواتے ہیں یا جو اسلام کو نعوذ باللہ ایک روایتی مذہب قرار دیتے ہیں اور قدامت پسند سمجھتے ہیں وہ لوگ وہ مسلمان پر پھیلا کر liberalism کی طرف اڑان بھر رہے ہیں جو اسلام کی روایات اس کی تعلیمات کو قید سمجھتے ہیں۔یہ liberlism کی آڑ میں دینِ اسلام سے آزادی چاہتے ہیں۔کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی اجتہادی سوچ اور اپنے فلسفے کو استعمال کرکے اسلامی تعلیمات کی نفی کریں جو وہ اپنی تحریروں تقریروں اور مختلف بیانات کی شکل میں مختلف پلیٹ فارمز پر بیان کرتے رہتے ہیں۔
اسلام کی ترویح اور اشاعت اج تک نہیں رک سکی اور روزِ ازل تک یہ بہتر سے بہترین ہوتی جائے گی اور دینِ اسلام دوبارہ طاقت ور ہوتا جائے گا۔جب دورِ نبوت میں مسائل پیش آئے اس سورج نے طائف کا الم ناک منظر تو دیکھا ہوگا کیا وہ ظلم دین کی اشاعت کے آڑے آیا؟ اس چاند نے شعبِ ابی طالب کا منظر دیکھا ہوگا جب بھوک پیاس نے آن گھیرا تھا؟ کیا دین کی تبلیغ رک تھی؟ اس جہانِ نے جنگیں تو دیکھی ہوں گیں ایمانی طاقت میں کوئی کمی آئی؟ کیا دین کہیں پست ہوا؟ پھر جہان نے کربلا بھی تو دیکھی سرکٹادیاگیا لیکن سر جھکا نہیں۔دین سربلند رہا قرآن جارہی رہا اور آج تک جاری ہے۔
اتنا سب جو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ہونے کے باوجود دین کی تبلیغ دین کی ترویح نہیں رکی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام کائناتِ کل میں پہنچادیا گیا۔
یہ لنڈے کے لبرل یا چند دانشور یا مٹھی بھر لوگ جو دین کو محدود ہونے کا ٹیگ لگا کر اس کی حدیں کراس کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔یہ دین کو غالب آن سے روک سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں یہ ان کا جدت پسند ہونا ان کی لبرل ہونا اپنی موت آپ مرجائے گا۔
سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کررہی ہے کافی دنوں سے جو غالباً ملالہ کے متعلق ہے۔یاد رہے یہ وہ سپیشل کیس ہے جس کیلئے حملے سے پہلے ریسکیو ٹیم اور میڈیا موجود ہوتا ہے۔کنڑول لائن پر ڈھیر بچیاں زخمی ہوتی ہیں لیکن اس کو پروٹوکول کیوں دیا جاتا ہے؟ بعداز اس کو نوبل پرائز بھی ایوارڈ کیا جاتا ہے اور ایک مشہور رسالہ کے فرنٹ پیج پر محترمہ کی تصویر لگائی جاتی ہے۔یہ تمام باتیں ڈھیر سارے سوالوں کو جنم دیتی ہیں۔پھر اس سے ایک کتاب لکھوائی جاتی ہیں جس میں یہ ہماری Armed forces کے متعلق بدزبانی کرتی نظر آتی ہے۔چلیں آگے چلتے ہیں موجودہ صورتِ حال پر نظر ثانی کرتے ہیں ملالہ جس کا بیان سن کر ملال ہوا کہ جی شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے مرد اور عورت ایک ساتھی یعنی partner کےطور پر بھی رہ سکتے ہیں۔یہ بات ایک مسلمان خاتون سے سننے کی توقع کوئی بھی نہیں کرسکتا ہے۔لیکن جو انعام و کرام کا ذکر پہلے کیا ہے میں نے یہ اس کا بدلا چکانے میں لگی ہے اسلام فوبیا اسلام دشمنی کی صورت میں اس پر بہت غم و غصہ دیکھا گیا عوام میں اور مختلف احادیث اور قرانی آیتوں سے ثابت کیا گیا کہ مرد اور عورت کا نکاح کرنا سنت ہے ۔مرد اور عورت کوجوڑے کی شکل میں پیداکیا گیا ہے اور عورتوں سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے۔ملالہ اپنی طرف سے گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ جو یورپین کلچر ہے اس کو ہوا دینے میں لگی ہے۔ وہ یہ باتیں کرکے دیکھنا چاہتی ہے کہ وہ کتنی آزاد خیال ہے لیکن اس سے ظاہر ہورہا ہے وہ کتنی بےحیا اور غلیظ سوچ کی مالک ہے جو چاہتی ہے کہ اسلام نے جو عزت وقار سے عورت کو نوازہ ہے بیوی کی صورت میں وہ اس حق کو گنوا کر ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتی پھری نہیں یہ ہمارا دین نہیں ہے ۔ہم قدامت پسند سہی لیکن بےحیائی اور برائی کو معاشرے میں فروغ نہیں دیں گے بلکہ ایک بہتر انداز ایک روایتی اور اسلامی طریقے سے نکاح کے ذریعے مرد اور عورت ایک دوسرےکو اپنائیں گے۔
یہ سوچ یہ کلچر جس کی ملالہ راگ آلاپتی ہے وہ بےڈھنگا اور کھوکھلا ہے اور اپنی موت اپ مرجائے گا۔ہم ایسی جدت پسندی کی نفی کرتے ہیں جو بےحیائی کو فروغ دے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔