خارجہ اموراورحکمرانی

سیاسی جماعتوں کے قائدین اور بالخصوص کسی ملک کی سربراہی کرنےوالی شخصیات کو زیب نہیں دیتا کہ بڑی بڑی باتیں اور دعوے کریں بلکہ ان کی عملی کارکردگی خود بولتی ہے‘ وزیراعظم پاکستان کا معاملہ بھی زیادہ مختلف نہیں جو عموماً بڑے بول بولتے ہیں‘ جسکی تازہ ترین اور حالیہ مثال سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈےو س میں ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکہ اور ایران سعودی عرب تعلقات میں کشیدگی میں کمی آئی ہے‘ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہر ممکنہ وسائل اور ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس بات کو ممکن بنایا کہ امریکہ‘ اسکے اتحادی ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پورے تناظر سے باخبر اور انکے خیالات سے متفق ہیں تو انہوں نے جواباً کہا کہ صدر ٹرمپ صورتحال کی سنگینی کا زیادہ بہتر ادراک رکھتے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا لیکن کسی بھی دوسرے اور متعلقہ فریق نے اس بات کی تائید نہیں کی ہے کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کےلئے ثالثی یا اس قسم کا کوئی بھی دوسرا کردار ادا کیا ہے‘ماضی میں بھی پاکستان نے کئی مواقعوں پر امریکہ ایران تعلقات کی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جس میں خاطرخواہ کامیابی نہیں ہوئی لیکن پاکستان ایک مشکل کام کو سرانجام دینے کےلئے پرعزم ہے اور اپنی کوششیں جاری رکھے دکھائی دیتا ہے‘صاف ظاہر ہے کہ امریکہ ایران اور سعودی عرب ایران کشیدگی میں کمی آئی ہے جو ایک وقت میں جنگ کے دہانی پر پہنچ چکی تھی اور جس سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ہو گی جو خطے کے امن کےلئے بھی خطرہ ہے۔

 ایک عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کی پوری دنیا میں مفادات ہیں لیکن ایران نے امریکی مفادات اور خواہشات کے مطابق خود کو ڈھالنے سے انکار کر دیا اور اس نے امریکہ کی مرضی پر اپنی داخلہ و خارجی پالیسیوں کو مرتب کرنے سے بھی انکار کر دیا بلکہ ایران نے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر خطوں میں امریکہ مفادات کےخلاف اقدامات کئے۔امریکہ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا‘ جس پر ایران نے نہ صرف انتقام لینے کا اعلان کیا بلکہ عراق میں 2 امریکی چھاو¿نیوں کو نشانہ بھی بنایا۔ قاسم سلیمانی کی جگہ القدس فورس کے نئے سربراہ مقرر ہونےوالے اسماعیل قانی نے بھی امریکہ سے اپنے انداز میں بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے اور اگر ایران امریکہ یا اس کے اتحادی ممالک کی فوجی و دیگر تنصیبات یا مفادات پر حملہ کرتا ہے تو اس سے صورتحال کشیدہ ہو جائے گی کیونکہ بحیثیت ایک عالمی طاقت ہونے کے‘ امریکہ کو ایران کی جانب سے جارحیت کا جواب دینا ہوگا‘ جس کےلئے وہ پہلے ہی تیاری رکھتا ہے اور ایران کے اردگرد مختلف ممالک اور سمندروں میں اسکی زمینی‘ بحری اور بری افواج کے دستے گھیرا بنائے ہوئے ہیں‘ قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کےلئے کردار ادا کرنے کی کوشش کی جبکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے سعودی عرب ایران کے تعلقات الگ سے خراب ہیں بالخصوص یمن میں جب ایران نواز حوثی امریکہ‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ حکومت کےخلاف عسکری مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

بطور ہمسایہ‘ ایران اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں‘پاکستان کی کل آبادی میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ایک خاصی بڑی تعداد ہے‘ جن کے جذبات و احساسات کو نظرانداز کر کے حکومتی حکمت عملیاں مرتب نہیں کی جا سکتیں‘اسی طرح سعودی عرب کے بھی پاکستان سے دوستانہ تعلقات ہیں جو پاکستان کی اقتصادی مدد بھی کرتا ہے اور پاکستان کےلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سعودی عرب کے حکمرانوں کو ناراض کرے اور اپنے کسی جانبدارانہ اقدام کی وجہ سے سعودی عرب کی ناراضگی مول لے‘ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایران اور سعودی عرب ایران کشیدہ صورتحال پاکستان کی خارجہ پالیسی کےلئے ایک امتحان ثابت ہوا‘ اس سے قبل اپریل 2015ءمیں پاکستان نے دانشمندی سے خود کو یمن کی جنگ سے علیحدہ رکھا تھا جبکہ اس پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے دباو¿ ڈالا گیا اور پاکستان کا یہ فیصلہ اور اقدام ایران کی تسلی و تشفی کا باعث بنا جبکہ پاکستان کی اکثریت بھی یہی چاہتی تھی کہ افغان جنگ کے بعد پاکستان کسی بھی عالمی تنازعے کا حصہ نہ بنے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا کردار بھی سراہنے کے قابل ہے‘ جس نے حکومت کو یمن کے میدان جنگ میں کسی بھی فریق کی حمایت کرنے کی بجائے غیر جانبدار رہنے کا مشورہ دیا۔ امریکہ ایران اور سعودی عرب ایران حالیہ کشیدگی کا آغاز ہوتے ہی پاکستان نے فریقین کے درمیان ثالثی کے کردار ادا کرنے کی باتیں شروع کر دی جسکی وجہ سے اس پر کسی ایک فریق کی حمایت کرنے کے دباو¿ میں بھی کمی آئے‘پاکستان نے غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ایک ثالث کا کردار ادا کر سکے‘یہ حکمت عملی وزیراعظم عمران خان کی حکومت اور ملک کی طاقتور عسکری قیادت کی وضع کردہ تھی‘کیونکہ پاکستان نے ماضی میں اس قسم کی صورتحال میں جو بھی فیصلے کئے‘ اس کے نتائج زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔

 ایران کے معاملے میں غیرجانبدار رہنے کی خواہش حکومت کا اچھا فیصلہ اور راست اقدام ہے لیکن پاکستانیوں کی اکثریت امریکہ مخالف جذبات رکھتی ہے اور وہ مسالک کی وابستگیوں سے بالاتر ایرانی مسلمانوں کے مو¿قف کی حمایت کرتی ہے‘اسی طرح پاکستان کےلئے سعودی عرب ایران کے معاملے میں بھی غیر جانبدار رہنا آسان نہیں کیونکہ یہاں بھی عوامی جذبات واضح ہیں۔ پاکستان نے اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے امریکہ ایران کشیدگی میں غیرجانبدار رہنے کا جو فیصلہ کیا‘ اس کے کئی پہلو ہیں اور ان میں پاکستان کے مفادات بھی پوشیدہ ہیں۔ پاکستان کےلئے ممکن نہیں کہ وہ امریکہ اور سعودی عرب میں سے کسی ایک بھی دوست ملک کی ناراضگی مول لے کیونکہ ان کے معاشی واقتصادی احسانات ہیں اور اگر کسی مرحلے پر پاکستان ایران سے تعلقات کو امریکہ و سعودی عرب پر ترجیح دینا چاہے تو اس سے ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے باآسانی بچنا ممکن ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)

 

بشکریہ روزنامہ آج