حکمرانی اوردباﺅ

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے دوسابق صوبائی وزراءعاطف خان اور شہرام ترکئی نے وزیراعظم عمران خان سے اپنی برطرفی کے بعد ملاقات کی اور انہیں وزیراعلیٰ محمود خان سے اپنے اختلافات کے بارے عمومی تاثر اور حقائق سے آگاہ کیا۔ دونوں سابق وزراءکی خواہش تھی کہ پارٹی کے سربراہ ان کے مو¿قف کو سنیں‘ وزیراعظم نے دونوں کو 29 جنوری کے روز اسلام آباد طلب کیا‘ اس دعوت کا ایک پس منظر شاید یہ بھی ہو کہ عمران خان پارٹی کے اس یک طرفہ فیصلے کے بعد ہونےوالے نقصانات کو کم کرنا چاہتے ہوں کیونکہ ان دونوں کا مو¿قف سنے بغیر انہیں 26 جنوری کے روز عہدوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اس اقدام کے منظرعام پر آنے کے بعد ان سبھی افواہوں اور اطلاعات کی تصدیق ہو گئی جو تحریک انصاف کی صفوں میں پائے جانےوالے اختلافات سے متعلق تھیں لیکن انکا مسلسل انکار کیا جاتا رہا تھا۔ ایک تاثر یہ بھی ابھر کر سامنے آ رہا تھا کہ عمران خان جس انداز میں پارٹی کے معاملات چلا رہے ہیں اس سے داخلی حلقے زیادہ خوش نہیں اور جماعتی فیصلہ سازی پر صوبائی کابینہ جیسے اہم اراکین کو اعتماد نہیں تھا۔ عمران خان نے دونوں برطرف صوبائی وزراءکو اس وجہ سے بھی طلب کیا کیونکہ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے سامنے حقائق رکھنے کا اعلان کر دیا تھا۔

 لیکن جس تیسرے وزیر شکیل احمد نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا‘ اسے طلب نہیں کیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ شکیل احمد پر بھی انتظامی امور کی خلاف ورزیاں کرنے کے الزامات کی بنیاد پر انہیں صوبائی کابینہ سے الگ کیا گیا تھا لیکن چونکہ شکیل احمد سیاسی طور پر شہرام ترکئی اور عاطف خان کی طرح زیادہ فعال و اہم نہیں تھے‘اسلئے انہیں خاطر میں بھی نہیں لایا گیا شہرام اور عاطف کا تعلق بالترتیب صوابی اور مردان کے اضلاع سے ہے‘ دونوں ایک دوسرے کے عزیز بھی ہیں اور اپنے اپنے اضلاع میں تحریک انصاف سے ہٹ کر بھی سیاسی و سماجی اثرورسوخ رکھتے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وزیراعلیٰ کو ان دونوں سے ممکنہ خطرہ محسوس ہوا۔ بطور سینئر وزیر عاطف خان وزیراعلیٰ کے بعد صوبائی کابینہ کے سب سے اہم رکن تھے‘ شہرام بھی دو مرتبہ وزیر رہ چکے ہیں جنہوں نے 2013ءاور 2018ءکے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی‘ جہاں تک ترکئی خاندان کا تعلق ہے تو وہ ضلع صوابی کی سیاست میں خاص مقام رکھتا ہے جس نے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی مقبول و مضبوط سمجھے جانے والے امیدواروں کو شکست دی‘ شہرام کی طرح ان کے والد لیاقت ترکئی بھی تحریک انصاف کا حصہ اور سینٹ کے رکن ہیں۔

 ان کے چچا عثمان ترکئی رکن قومی اسمبلی اور چچا زاد محمد علی ترکئی رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ تحریک انصاف اگر ترکئی خاندان کو نظرانداز کرتی ہے تو اسکی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے لیکن ترکئی ایک کاروباری خاندان ہے‘ جس کےلئے حکومت کےساتھ رہنا بہرحال انکے اپنے مفادمیں بھی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جب عمران خان نے شہرام اور عاطف کو طلب کیا تو ان سے حکمانہ لب و لہجے میں بات کی ہوگی کیونکہ یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے انکی صوبائی کابینہ سے برخاستگی کی اجازت دی اور انہیں تحریک انصاف سے بھی نکال سکتے تھے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونےوالے بیان میں کہا گیا کہ عمران خان نے مذکورہ دونوں رہنماو¿ں کےساتھ بات چیت کے دوران واضح کیا کہ تحریک انصاف میں ہر کسی کےلئے نظم وضبط کی پابندی لازم ہوگی‘بیان میں کہا گیا کہ شہرام اور عاطف نے عمران خان پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ وہ پارٹی کے ہر فیصلے اور حکم کو بجا لائیں گے۔ یقینا انکے پاس اسکے سوا کوئی دوسری صورت نہیں رہی کہ وہ تحریک انصاف کا حصہ رہیں اور جن صوبائی وزارتوں سے الگ کئے گئے ہیں ان پر پھر سے بحال ہو جائیں‘شہرام اور عاطف خان کی کوشش تھی کہ تحریک انصاف نے جس انصاف و احتساب کی صورت تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا اسے خیبرپختونخوا میں عملاً نافذ کریں۔ وہ جانتے تھے کہ یہی عمران خان بھی چاہتے ہیں اسلئے انہیں کسی دوسرے کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ان کےخلاف عمران خان کی تائید سے ہوئی کاروائی کی انہیں قطعاً امید نہیں تھی۔

 اگر ہم عاطف خان کی مثال لیں تو خود عمران خان کئی مواقعوں پر انکی خدمات اور کارکردگی کا اعتراف کرتے سنے گئے تھے بلکہ جولائی2018ءکے عام انتخابات کے بعد تو ایک موقع پر انہیں اس بات کا اشارہ بھی دیا گیا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ ہوں گے لیکن مبینہ طور پر پرویز خٹک نے انکی مخالفت کی جس کے نتیجے میں وزارت اعلیٰ کا منصب محمود خان کے حصے میں آ گیا‘اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ خیبر پختونخوا کے جن تین وزرا ءکو کابینہ سے الگ کیا گیا وہ وزیراعلیٰ کےخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کےلئے سرگرم تھے اور نہ ہی پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے جا رہے تھے‘ وزیر دفاع پرویز خٹک نے شہرام‘ عاطف اور شکیل کی صوبائی کابینہ سے برطرفی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے‘ بالخصوص وہ عاطف کے سیاسی قدکاٹھ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیںجس وقت محمود خان نے عمران خان سے ملاقات کی اس میں بھی پرویز خٹک نے شہرام‘ عاطف اور شکیل کےخلاف الزامات میں محمود خان کے مو¿قف کی مکمل حمایت کی درحقیقت پرویز خٹک تحریک انصاف کے ان چند رہنماو¿ں میں شامل ہیں جنہوں نے مذکورہ تینوں وزرا ءکےخلاف کاروائی کی کھل کر حمایت کی اورکہا کہ تحریک انصاف حکومت اور وزیراعلیٰ محمود خان کے خلاف سازش ناکام بنائی گئی ہے‘2018ءکے عام انتخابات کے بعد جب عمران خان پرویز خٹک کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے مبینہ طور پر اس شرط کےساتھ وفاقی کابینہ کا حصہ بننے پر رضامندی کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں وزارت اعلیٰ کا منصب عاطف خان کو نہیں دیا جائے گا۔

تب سے عاطف خان اور پرویز خٹک کے درمیان تنازعہ جاری ہے اور عاطف و محمود خان کی ایک دوسرے کےخلاف محاذ آرائی سے پارٹی کی صفوں میں پائے جانےوالی گروہ بندیاں عیاں ہو گئی ہیں‘ وزیراعظم عمران خان خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کے حمایت میں اسی طرح کھڑے ہوئے ہیں جیسا کہ انہوں نے پنجاب میں عثمان بزدار کی غیرمشروط حمایت کر رکھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ محمود خان کےخلاف سازش یا محاذ آرائی کو وہ اپنے خلاف اقدام تصور کریں گے۔ اس پوری صورتحال سے محمود خان ایک مضبوط شخصیت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں تاہم انہیں اراکین اسمبلی اور بالخصوص تحریک انصاف سے تعلق تعلق رکھنے والوں کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ جہاں تک برطرف کئے گئے وزرا کا تعلق ہے تو وہ وقت کےساتھ بحال ہو بھی جائیں لیکن ان کے کام کرنے کا جوش و جذبہ اور لگن پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)

 

بشکریہ روزنامہ آج