سال 2019ءکے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی عالمی سطح پر مرکز نگاہ رہی ہے بالخصوص ملائیشیا کی میزبانی میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال اور اس کی سمت و ترجیحات سے متعلق بحث و مباحثہ اور غوروخوض دیکھنے میں آیا جو اپنی جگہ غیرمعمولی پیشرفت ہے۔ اس بارے میں بات چیت کا آغاز اسوقت ہوا جب پاکستان کی قیادت نے ملائیشیا کے درالحکومت کوالالمپورمیں منعقدہ کانفرنس میں پہلے شرکت کی حامی بھری اور بعد میں انکار کر دیا اور یہ دونوں باتیں ہی اپنی اپنی جگہ خارجہ پالیسی کے خدوخال واضح کرتی ہیں کہ کس طرح پاکستان اپنے خارجہ تعلقات کی سمت درست کرنے کےلئے کڑی محنت اور توجہ سے کام کرتے ہوئے اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا ہے۔اسلامی سربراہی اجلاس مہاتیر محمد نے طلب کیا‘جس کےلئے انہوں نے عمران خان اور ترکی کے صدر طیب اردگان کو قائل کیا‘تینوں رہنماو¿ں کی ملاقاتیں رواں برس ماہ ستمبر کے آخری ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوئی تھیں‘ اس موقع پر صرف اسی ایک بات پر اتفاق نہیں ہوا کہ اسلامی ممالک کے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا جائے بلکہ ایک لائحہ عمل بھی تشکیل دیا گیا تھا جس میں یہ بات بطور خاص شامل تھی کہ عالمی سطح پر اسلام کےخلاف پائے جانیوالی عمومی و خصوصی غلط فہمیوں کی اصلاح کےلئے مشترکہ حکمت عملی کے تحت میڈیا تشکیل دیا جائے‘ تاہم 18 سے 21 دسمبر تک ہونےوالے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب اور اسکے اتحادی ممالک کی عدم شرکت سے یہ تصور اور پوری کوشش متاثر ہوئی اور مشترکہ میڈیا منصوبہ متعارف نہیں ہو سکا جو اگر پیش ہو بھی جاتا تو اسے عملی جامہ پہنانا اپنی جگہ آسان نہیں تھا۔ پاکستان کی مذکورہ سربراہی اجلاس میں عدم شرکت سے پیدا ہونےوالے سوالات میں سرفہرست خارجہ پالیسی پر تنقید شامل ہے۔
جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کس قدر آزاد ہے کیونکہ ترک صدر نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کی عدم شرکت کی وجہ بیان کرتے ہوئے اقتصادی مشکلات کا ذکر کیا جس کی وجہ سے پاکستان سعودی عرب کے مطالبے کو نظر انداز نہ کرسکا اور اسے سرتسلیم خم کرنا پڑا۔ ترک صدر نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دھمکی تک دے ڈالی کہ اگر پاکستان سربراہی اجلاس میں شریک ہوا تو وہ چالیس لاکھ پاکستانی محنت کشوں کو سعودی عرب سے نکال دے گا اور انکی جگہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والوں کو ملازمتی مواقع دےگا‘ علاوہ ازیں پاکستان کے خزانے میں رکھی ہوئی خطیر رقم بھی واپس لے لی جائے گی جسکی وجہ سے زرمبادلہ کا ذخیرہ اس حالت میں ہے کہ پاکستان کی اقتصادیات پر دباو¿ کم ہو رہا ہے‘ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر سعودی عرب نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر دیئے تھے جس میں 3 ارب ڈالر سٹیٹ بینک میں براہ راست جمع کروائے گئے اور تین ارب ڈالر مالیت کا پیٹرولیم فراہم کیا گیا تھا جسکی قیمت ایک سال بعد وصول کرنے جیسی رعایت دی گئی تھی‘ جس کے بعد متحدہ عرب امارات بھی سامنے آیا جو کہ سعودی عرب کا اتحادی ملک ہے اور اس نے بھی پاکستان کی اقتصادی مدد کی تھی۔ اگرچہ پاکستان پر صرف سعودی عرب کے دباو¿ کا ذکر ہی کیا گیا ہے لیکن متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی پاکستان پر دباو¿ ڈالا گیا کہ وہ کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرے‘ پاک فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کےلئے متحدہ عرب امارات گئے۔
جبکہ عمران خان نے سعودی عرب کا سفر کیا اور دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ پاکستان سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوگا ترکی کے صدر نے جس بیرونی دباو¿ کا ذکر کیا اس کے بارے میں پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اگرچہ تردید سامنے آئی لیکن ترک صدر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرنے میں ثانی نہیں رکھتے اور جو چاہتے ہیں کہہ دینے کی شہرت رکھتے ہیں۔ بہرحال پاکستان نے ایک بھرپور کوشش کی کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کا دور دورہ ہو اور مسلم ممالک ایک دوسرے کے قریب آئیں‘اس کوشش کا مقصد ان اختلافات کو بھی کم یا ختم کرنا تھا جسکے باعث مسلم ممالک ایک دوسرے سے قریب نہیں ہو رہے‘ اگرچہ کوالالمپور سربراہی اجلاس اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ سعودی بادشاہت کو اندیشہ رہا کہ اگراو آئی سی کے مقابلے میں کوئی دوسری ایسی نمائندہ تنظیم بنائی گئی تو اس سے عرب ممالک کا مسلم دنیا پر اثرورسوخ میں ممکنہ کمی آئےگی‘اسکے علاوہ سعودی عرب جن اسلامی ممالک سے زیادہ گرمجوش تعلقات نہیں رکھتا اور جن کے نظریات سے اختلافات رکھتا ہے ان کےساتھ کسی ایک اجلاس میں بیٹھنا اسے پسند نہیں تھا‘ ان ممالک میں ایران‘ قطر اور ترکی شامل ہیں۔ماضی میں اکثر یہ بات سننے میں آتی تھی کہ امریکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہوتا ہے اور پاکستان کے خارجہ پالیسی کا تعین امریکہ کی خواہشات کے مطابق ہوتا ہے وغیرہ لیکن امریکہ کی جانب سے پاکستان کی مالی مدداور دفاعی شعبے میں تعاون کی وجہ سے دونوں ممالک میں فاصلے بڑھے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنے مفادات کےلئے دیگر ممالک سے قربت کر لی ہے جس میں سعودی عرب اہم دوست ہے لیکن ایک ایسے مرحلے پر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان پر دباو¿ ڈالنے کی باتیں کسی بھی طرح خارجہ پالیسی کی کامیابی کو ظاہر نہیں کرتیں اور اگرچہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آج امریکہ کے تابع نہیں لیکن اسکی آزادی پر ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔پاکستان کے دوست ممالک میں چین کی مثال خاص ہے ۔
جو کبھی بھی پاکستان سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر باتیں نہیں منواتا اور نہ ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہوتا ہے‘اگر پاکستان کی مدد کرنےوالے ممالک کو دیکھا جائے تو چین دفاعی شعبے اور اقتصادی راہداری منصوبے کی صورت پاکستان کی جس انداز میں مدد کر رہا ہے وہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ اور مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ مفید و کارآمد ہے‘ایک طرف پاک چین تعلقات ہر دن مضبوط ہو رہے ہیں ان کی نشوونما ہو رہی ہے اور دوسری طرف پاک روس تعلقات میں بھی تعاون اور مدد کے نت نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔پاک امریکہ تعلقات میں سال دوہزار انیس کے اختتامی ایام میں کچھ ہلچل دیکھنے میں آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے پاکستان کی عسکری تربیت بحال کی گئی‘ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان سے باعزت اور باحفاظت انخلا میں پاکستان کا تعاون اس کے شامل حال رہے اور جانتا ہے کہ اس کے افغانستان سے متعلق اہداف میں تبدیلی اور کامیابی کا کس قدر دارومدار و انحصار پاکستان پر ہے لیکن پاکستان کےلئے امریکہ کی بھارت سے قربت اور یک طرفہ حکمت عملی ایک ایسی رکاوٹ ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہی ہے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بھارت کے دیگر حصوں میں بالخصوص مسلمان اقلیت سے بھارت کے سلوک سے متعلق پاکستان اور امریکہ کے مو¿قف میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے اور پاکستان اپنے ہر مو¿قف پر سمجھوتہ یا نظرثانی کر سکتا ہے لیکن کشمیر کے معاملے پر اسکے پاس لچک کا مظاہرہ کرنے کوئی صورت اور ارادہ نہیں ہے اور یہی امر پاک امریکہ تعلقات کو متاثر کر رہا ہے‘ جس کی اصلاح اور دوہرے معیار کا خاتمہ امریکہ اور پاکستان کو ایک دوسرے کے پھر سے قریب لا سکتے ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: ابوالحسن امام
خارجہ پالیسی:پیش گوئیاں