سرد ہوائوں سے تھری خواتین شدید پریشان
صحراء کے ٹیلوں میں خشک لکڑیاں اکٹھی کرنا سب سے برا امتحان
(دلیپ کمار کھتری)
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں قدرت نے فیاضی سے کام لیتے ہوئے اسے تمام قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ارض پاک میں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب برفانی چوٹیاں ، لق و دق صحرا ہیں تو ساتھ میں سمندر بھی ہے ۔ صحرا کا لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک لق و دق ویران خطہ آتا ہے جہاں میلوں دور تک ریت پھیلی ہو، تیز گرم دھوپ جسم کو جھلسا رہی ہو، چاروں طرف کیکر کے پودے ہوں، اونٹ ہوں۔۔۔
سندھ کے صحرائی علاقے تھر پارکر کے حوالے سے عمومی تاثر یہ ہے کہ صرف بھوک افلاس، قحط، غذائی قلت اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے اموات ہی صحرائے تھر کا مقدر ہیں۔ یہ تمام حقائق اپنی جگہ لیکن یہ صرف تصویر کا ایک رخ ہے۔ تھرپارکر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ صحرائے تھر دنیا کا ساتواں بڑا صحراء ہے۔ اپنی ویرانی، اداسی ،سحر انگیز مناظر اور دیگر خوبیوں کے سبب یہ صحرا اپنی مثال آپ ہے۔
اس جدید دور میں بھی تھرپاکر کے باشندے قدیم دور کے انسانوں کی طرح زمینی حقائق کے برعکس زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ لوگ زمین سے باتیں کرتے ہیں۔ چرند و پرند کی زبان سمجھتے ہیں۔ درختوں سے دوستی اتنی کہ اپنا سایا سمجھ کر سچی محبت کر بیٹھتے ہیں لیکن ان تھر باسیوں کیا موسم گرما کے بعد موسم سرما نے بھی جینا اجیرن کردیا۔۔۔
اب آپ سوچ رہے ہونگے کے ایک جانب تھر باشندے درختوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں تو اسمے جیا اجیرن کیسے؟؟
جینا اجیرن اس لیے کہ
موسم گرما میں صحراء کی تپتی ریت اپنے انگاروں کی چادر اوڑ لیتی ہے وہیں سرد موسم میں تھری باشندوں کا کڑا امتحان ٹھٹھرکے لیتی ہے۔
صحرائے تھر میں آجکل سردی نے اپنے قدم جمائے رکھے ہیں،چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں نے ریت کو ایسا ٹھنڈا کیا کہ سردی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی
صحرائے تھر میں چلنے والی سرد ہوائوں نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، سردی بڑھنے کے ساتھ علاقہ مکینوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔
تھر کے صحرا میں پہلے ہی سردی نے قحط زدہ مکینوں کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے چلنے والی تیز اور سرد ہوائوں نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، اب سردی ہے اور بھوک پیاس کے مارے مکینوں کا حوصلہ ہے۔
اکثر دیہی علاقوں میں مکینوں کو پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہوتا، گرم کپڑے کہاں سے آئیں؟
تھر کی خواتین کے لیے پہلے ہی پانی کا حصول بہت مشکل اور ضروری تھا، اب جنگل اور ویرانوں سے خشک لکڑیاں اکٹھی کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوگئی ہے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ موسمی امراض بھی پھوٹ پڑے ہیں جن کے متاثرین میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
تھر کے اسپتالوں میں قحط، غذا و پانی کی کمی، غربت اور بیماریاں پہلے ہی انسانی جان کی دشمن بنی ہوئی ہیں اور آئے دن وہاں معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھورہے ہیں، اب رہی سہی کسر سرد موسم کی سختی نے پوری کر دی ہے۔
تھر کے باسی جو گرمیوں میں جھلسا دینے والی دھوپ، گرم ہواوں سے لڑتے ہیں، اب ان سے موسم سرما میں چلنے والی سرد ہوائیں بھی امتحان لے رہی ہیں۔
آج ایک بار پھر تھر کے ویرانے میں موت رقصاں ہے اور مردار جانوروں کا گوشت کھانے والے چیل، کوّے اور گدھ اڑ رہے ہیں۔ کیوں کہ بھوک اور پیاس کے مارے لاغر جسم جانورں میں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی سکت ختم ہوگئی ہے اور وبائی امراض کے حملہ آور ہو نے سے وہ بھی مر تے جا رہے ہیں۔
قدرتی وسائل سے مالا مال تھر گئس کے نہ ہونے سے کتنا پریشان؟؟
غربت اور معاشی طور سے بدحال انسانوں کا یہ خطہ معدنی وسائل سے مالا مال ہے، جن سے استفادہ کرکے تھری عوام کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے، ان معدنیات میں سے چند کا ذکر ذیل میں پیش ہے۔ گرینائٹ تھر میں کارونجھر پہاڑ کا قیمتی پتھر گرینائٹ ہے، گرینائیٹ دنیا کے بہترین معیار کا مہنگا ماربل ہوتا ہےجس کی خصوصیات گوناگوں ہیں, جن میں سے ایک یہ ہے کہ گرمی کو جذب کرتا ہے. کارونجھر کے پہاڑوں میں قیمتی پتھر کے لاکھوں کروڑوں ٹن ذخائر موجود ہیں۔
تھر میں کوئلے کے وسیع و عریض ذخائر ہیں، اس سے سرکاری سطح پر استفادہ کرکے تھر کول پروجیکٹ سے بجلی کی پیداوار ہوتی ہے۔تھر میں نمک کی کانیں ہیں. چائنا کلے جیسی قیمتی مٹی ہے جس سے قیمتی برتن اور شو پیس بنتے ہیں۔۔ لیکن پھر بھی صحرائے تھر کی باسی شدید پریشانی کا شکار ہیں کیوں کے یہاں سیاسی جماعتوں کے پاور شو ہوتے پیں جو صرف دکھاوے کے لیئے۔
پاکستان کی ایسی کوئی سیاسی جماعت نئی جسنے صحراء کے باشندوں کو گئس کی فراہمی(لائن بچھانے سے گھر گھر تک) یقینی بنانے کا عہد نہ لیا ہو لیکن یے عہد صرف کچھ دنوں کی تپتی ریت کو ٹھنڈا کرنے کا عملی پولیٹیکل سکورنگ تصور ہوتا ہے..
صحرائے تھر میں اچانک گئس کا حصول ضروری کیوں؟؟
صحراء کے ٹیلوں میں بسنے والے تھری باشندے جتنی گرم موسم میں پانی کی تلاش کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں اُس سے کئی زیادہ سردی میں لکڑیاں اکٹھی کرکے اپنے بچے و بچیوں کا پیٹ پالنے میں جدوجہد کرتے ہیں صبح سے کھلے آسمان تلے بچے سورج کی کرنوں کا انتظار کرتے ہیں تاکہ یے ٹھنڈی ریت تپش میں تبدیل ہوجائے لیکن جب آسمان پر بادل ہو تو انکا جینا بد سے بدتر ہوجاتا ہے.
صحرائے تھر کی خواتین اپنا حوصلہ لیے دور دور تک پھیلے ان ٹیلوں میں لکڑیاں اکٹھی کرتی ہیں تاکہ اپنے خاندان کا پیٹ پال سکے۔