انسانیت ،حقوق ، مساوات اور آزادی ضرور پڑھیں! 639

انسانیت ،حقوق ، مساوات اور آزادی ضرور پڑھیں!

 

ملا عبد السلام ضعیف کی کتاب پڑھنے کے بعد جہاں دل رنجیدہ ہے وہیں شرمندگی اور ندامت بھی محسوس کر رہا ہے۔یہ مختصر سی کتاب ہر پاکستانی کو پڑھنی چاہئے۔چند باتیں میں یہاں اپنے الفاظ میں نقل کر رہا ہوں۔ امریکہ میں کتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے بھی قانون موجود ہیں لیکن امریکی قید میں مسلمانوں کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں۔ انسانیت ،حقوق ، مساوات اور آزادی کی بات کرنے والا امریکہ در حقیقت بے رحم،سفاک،انسان دشمن اور ظلم وبربریت کا علمبردار ہے۔مسلمان قیدیوں کو بدترین ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتارہا۔ اسقدر مظالم ڈھائے گئے کہ آخر پاگل ہونے والے قیدیوں کے لئے الگ کیمپ قائم کرنے پڑ گئے ۔لیکن پاگل ہو جانے والے قیدیوں کو بھی عام قیدیوں کی طرح سزائیں دی جاتی تھیں حالانکہ پاگل کو تو خدا کے قانون میں بھی استثنا حاصل ہے۔ان مظالم کی تفصیل ملا کی کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے۔ ملا ضعیف لکھتے ہیں کہ چھ ماہ تک  ہاتھ منہ نہیں دھونے دیا گیا۔پھر ایک دن قیدیوں کو برہنہ کر کے امریکی فوجیوں نے اجتماعی طور پہ نہانے کا حکم دے دیا۔یہ بڑا ہی توہین آمیز اور دردناک منظر تھا سب قیدی بے لباس تھے۔

لیکن اس کے بعد جو بات ملا ضعیف نے کہی وہ میرے لئے میری قوم کے جوانوں کے لئے جاننی بہت ضروری ہے۔ہم اجتماعی طور پہ برہنگی اور ننگے پن کا شکار ہیں۔لباس پہنے ہوئے بھی ننگے ہیں۔ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جن کی نگاہیں برہنہ جسموں سے لذت حاصل کرنے کی شوقین نہیں۔ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں کسی نامحرم نے برہنہ نہیں دیکھا یا جن کی نگاہوں نے کسی نا محرم کو برہنہ نہیں دیکھا۔

 ملا ضعیف نے برہنہ قیدیوں سے کہا

”ہم اس پر مکلف نہیں ہیں۔آپ غسل کریں اور آنکھیں بند رکھیں یا نیچی رکھیں اور ایک دوسرے کو نہ دیکھیں "

کئی مہینوں کی بھوک پیاس تشدد اور تکالیف برداشت کرنے کے بعد ایک مومن کے یہ الفاظ بتاتے ہیں حیا کیا ہوتی ہے۔۔۔ایمان کیا ہوتا ہے۔۔۔ آزمائش اور امتحان  میں استقامت کا مفہوم کیا ہے۔بے لباسی کتنی بڑی ذلت ہے۔  بے حیائی اور برہنگی میں ڈوبے ہوئے معاشرے کے لئے  ملا ضعیف کے اس مختصر خطبے میں بڑا سبق ہے۔

ملا ضعیف نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انکی قید کے دوران دس سے زیادہ دفعہ قرآن کریم کی بے حرمتی کی گئی جس پر مسلمان قیدی روتے اور موت کی تمنا کرتے تھے۔مہذب ترین قوم نے مسلمانوں کی مقدس کتاب پاؤں تلےروندا حتی کہ ان کے کتے مقدس اوراق کو نوچتے رہے۔۔۔ 

قرآن کی قدر شاید اُن قیدیوں کو ہی معلوم ہے جنہوں نے قرآن کی خاطر عذاب جھیلے۔ ہم نے بحیثیت امت خود  قرآن کی بے توقیری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہمارے ہاں قرآن صرف ایک مذہبی کتاب ہے جسے زندہ اور فوت شدگان کے ثواب کے لئے پڑھا جاتا ہے۔

ملا کی کتاب پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے امریکہ صرف ایک آواز کو دبانے کے لئے افغانستان آیا تھا۔یہ آواز سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھی ۔یہ آواز معاشی آزادی کی بات کر رہی تھی۔ یہ آواز مغرب کے جمہوری نظام کی حقیقت آشکار کر رہی تھی۔ یہ آواز اسلامی نظام کی بات کر رہی تھی۔ اگر افغانستان آئ ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لے کر معاشی غلامی اختیار کر لیتا تو شاید کبھی افغانستان پر یلغار نہ کی جاتی لیلن افغانوں نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا اور اسلامی نظام کی آواز بلند کی۔ یقیناً یہی جرم کافی تھا۔

ملا ضعیف نے ان قیدیوں کا ذکر بھی کیا جو ددوران قید اپنا دین بدل گئے ان کا ذکر بھی کیا جو ایمان پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔

ملا ضعیف نے کتاب میں اُس وقت کے پاکستانی حکمرانوں کی حالت بھی بیان کی ہے جنہوں نے ڈالروں کے عوض اپنے مسلمان بھائیوں کو پیچ دیا۔افغان سفیر ملا ضعیف انہی مسلمانوں میں سے تھے۔مہذب دنیا کی تاریخ میں سفیر فروشی کا جرم کسی دوسرے ملک نے نہیں کیا۔تاریخ میں جیسے میر جعفر اور میر صادق کو ایمان فروش پکارا جائے گا ویسے ہی ہمارے حصے میں "برادر فروش" کے الفاظ آئیں گے۔

مغرب سے "متاثرہ" ہمارے دانشوروں کے لئے یہ احساس بہت ضروری ہے کہ آزادی، برابری، مساوات، انصاف اور حقوق کے خوشنما نعرے لگانے والوں کا حقیقی چہرہ کس قدر مکروہ اور بھیانک ہے۔

کتاب جہاں عزیمت استقامت ایمان اور توکل کی داستان ہے وہیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سُپر پاور نہیں۔ 

یولج اللیل فی النھار و یولج النھار فی اللیل

وہی زبردست قدرت والا ہے۔ عزت اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ گوانتامو بے کا قیدی آج پھر سے مسندِ اقتدار پر براجمان ہے۔ بے شک اللہ کا حکم طاغوت کی سب تدبیروں پر غالب ہے۔

بشکریہ اردو کالمز