*پاکستان کے دشمنوں کا ممکنہ لائحہ عمل* 315

*پاکستان کے دشمنوں کا ممکنہ لائحہ عمل*

افغانستان سے امریکہ کی پسپائی اور ابھرتے ہوئے علاقائی و عالمی تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کے دلیرانہ دو ٹوک مؤقف کے بعد پاکستان دشمن قوتیں چین سے نہیں بیٹھیں گی۔ امریکہ اور اسکے مغربی اتحادیوں کو پاکستان سے اس قسم کا غیرتمندانہ مؤقف کی عادت تھی اور نا ھی توقع۔ اسی لئیے وہ اس بات کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرینگے۔ آئیے ایک جائزہ لیتے ہیں کہ آئندہ آنے والے دنوں میں امریکی اتحادی اور کاسہ لیس پاکستان کو دباؤ میں لانے کیلئے کیا کچھ کر سکتے ہیں:

 

- ملک میں ایک دفعہ پھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ھو گا جس میں بلوچستان اور سندھ میں قوم پرست عناصر دشمن کا آلہ کار بنیں گے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور حکومت کی خاموش حمایت ان ملک دشمن عناصر کو میسر ھو گی۔ اسکے علاوہ حیدر آباد اور کراچی میں بلاول ہاؤس کی ایما پر لسانی فسادات کروانے کی کوشش کی جائے گی

 

- پنجاب میں کالعدم تنظیمیں بھارت کی ایما پر دہشتگردی اور فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی کوشش کریں گی۔ ان شرپسندوں کو مسلم لیگ نون کا ایک مخصوص حلقہ اور قبضہ مافیا (جن کو عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ھے) کا تعاون حاصل رھے گا

 

- خیبر پختون خوا میں پشتون تحفظ تحریک(محسن داوڑ، منظور پشتین وغیرہ) صوبے میں بدامنی پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ کالعدم ٹی ٹی پی بھی راء اور این ڈی ایس کی ہدایات پہ سرگرم عمل ھو سکتی ھے

 

- گلگت بلتستان میں بھارت فرقہ وارانہ فسادات کو ھوا دینے کی کوشش کرے گا

 

- بین الاقومی محاذ پہ پاکستان کو بہت سے معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں سرفہرست فیٹف اور جی ایس پی پلس سٹیٹس ھے۔ اسکے علاوہ نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور لاپتہ افراد کا مسئلہ امریکہ اور اسکے حواری پوری شدومد سے بین الاقوامی فورمز پہ اٹھا کر پاکستان کیلئے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

 

- بیروزگار ماہران معیشت پاکستان میں بیٹھ کر اعداد و شمار کا ایسا گورکھ دھندا بُنیں گے کہ یوں محسوس ھو گا کہ پاکستان کی معیشت آج گئی یا کل۔ 

 

- اس سارے عمل کو پاکستان کے میڈیا کا مخصوص حلقہ جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی کرپشن کا دفاع کو انکا آئینی حق سمجھتا ھے، بھارتی نواز سیفما کے وظیفہ خوار اور امریکی راتب پہ پلنے والا میڑک پاس صحافی طبقہ پاکستان میں جھوٹ اور انتشار کو فروغ دینے میں پیش پیش ھو گا۔ 

 

- اس سارے آپریشن کا مقصد یہ ھو گا کہ ایک طرف تو پاکستان کی عوام میں ذہنی اور معاشی غلامی کے خلاف بیداری اور خودداری کی لہر پیدا نا ھونے پائے اور دوسری طرف ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ پاکستان میں معاشی بحالی کو ممکن نا بنایا جا سکے تاکہ خطے میں امریکہ کی مرضی کے مطابق بھارت کی بالادستی قائم کی جا سکے جو امریکی پالیسی کے حصول کیلئے چین کی ابھرتی طاقت کو روک سکے۔ اسکے علاوہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دینے پہ مجبور ھو جہاں سے بیٹھ کر وہ ایک طرف تو چین پہ نظر رکھے اور دوسری طرف پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پہ ماضی کی طرح طرح بار بار حملہ آور ھو سکے۔ یہ اسوقت تک ھوتا رھے گا جب تک پاکستان ایک دفعہ پھر اپنی قومی غیرت کا سودا نہیں کر لیتا۔ 

 

*عوام کے کرنے کے کام:*

- اسلام کی تعلیمات پہ عمل پیرا ھونے کی کوشش کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں

- پارٹی سیاست سے بالاتر ھو کر پاکستانی بنیں۔ پاکستان ہیں تو ہم ہیں اور ہماری کوئی بیرون ملک جائیدادیں بھی نہیں کہ جہاں جا کر پناہ لے سکیں

- اپنی اردگرد مشکوک سرگرمیوں اور افراد پہ نظر رکھیں اور فوری طور پہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متنبہ کریں

- سوشل میڈیا پہ غیر تصدیق شدہ خبر پھیلانے سے اجتناب کریں

- میڈیا پہ موجود عادتاً جھوٹے اور بکاؤ لوگوں کی آواز پہ کان نا دھریں بلکہ اخلاق کے دائرے میں رہتے ھوئے سوشل میڈیا پہ ان کے جھوٹ کا مقابلہ کریں

- بیروزگار معیشت دانوں کی افلاطونیوں کو زیادہ اہمیت نا دیں کیونکہ یہ وہی معیشت دان ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس حال میں پہنچایا ھے

- حکومت کے غلط کام پہ تنقید ضرور کریں مگر اچھے کام کی حمایت بھی کریں خاص کر جب وہ بین الاقوامی مافیا اور قبضہ گروپوں سے نبرد آزما ھو۔ آپکا ایک غلط یا درست فقرہ بہت اہمیت کا حامل ھے۔ 

- پاک فوج اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آپکی حفاظت کرتے ہیں 

*یاد رکھیں یہ پاکستان کی تاریخ کے بہت اہم لمحات ہیں اور ہرفرد اپنی اپنی جگہ پہ اہمیت کا حامل ھے*

*افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*

*ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا*

پاکستان زندہ باد

بشکریہ اردو کالمز