صحت کی چابی

گزشتہ دو تین ہفتوں سے روزنامہ ’آج‘نے میرے چند کالم شائع کئے جن کا تعلق مریضوں کے مسائل اور انکے حل سے تھا‘حوالے کیلئے گزشتہ پانچ کالم کافی ہیں‘ ان سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت ہم مریضوں کو کئی قسم کی سہولتیں بغیر کسی بڑے خرچے کے دے سکتے ہیں‘ یہ بات ذہن میں رہے کہ صحت صرف ایک بیماری رفع کرنے کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی گزارنا ایک مشق ہے جس میں کئی بری عادتوں سے بچاﺅ ضروری ہوتا ہے اور کئی بار بیماری کی پہلی ہی علامت پر ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے‘ بعض بیماریاں خاندانی ہوتی ہیں اور اسلئے خاندان کے ہر فرد کو ان علامات پر نظر رکھنی پڑتی ہے‘ روزمرہ کی معمولات ہوں یا خوراک اور ورزش کے اوقات‘ زچگی‘پیدائش اور چھوٹی موٹی بیماریوں کے دوران بھی کئی قسم کے احتیاط اٹھانے پڑتے ہیں‘ذرا ادھیڑ عمر سے بڑھے تو دواﺅں کی تعداد بھی بڑھنے لگتی ہے ‘ ڈاکٹروں کے نسخے بھی پوری ڈائریاں بن جاتی ہیں‘ اسلئے ان تمام بیماریوں کی تفصیلات اپنے پاس درج کرنا ضروری ہوتا ہے‘جن ادویات سے الرجی ہوسکتی ہے‘ وہ زندگی اور موت کا فیصلہ کرسکتی ہیں‘ خدا بھلا کرے سٹیو جابز کا کہ سمارٹ فون کی شکل میں ایک مکمل کمپیوٹر‘ کیمرہ‘ سکینر ‘ ویڈیو کالز اور بے شمار دوسری سہولتیں ہر شخص کے موبائل تک پہنچا دی ہیں آپ اپنا میڈیکل ریکارڈ سکین کرکے اپنے فون میں رکھ سکتے ہیں‘ اپنے آ پ کو وٹس ایپ یا ای میل کرسکتے ہیں اور یوں کہیں سے بھی ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ پچھلے پانچ چھ کالموں سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مریض کا وقت کہاں ضائع ہوتا ہے۔

 کہاں اسکے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے اور کہاں غیر ضروری ادویات یا ٹےسٹوں سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے‘ اس سال کے اوائل میں نیشنل انکیوبیشن سنٹر نے مختلف قسم کے سٹارٹ اپ آئیڈیاز مانگے تو جناب سہیل انجم کی نوازش کہ انہوں نے ہمارے سٹارٹ اپ کا دفاع اس خوبی سے کیا کہ سنٹر نے ہمیں سپانسر کرنے کیلئے منتخب کردیا‘ سہیل صاحب کے بعد مس سدرہ قریشی نے ساتھ دیا اور پچھلے ایک سال میں انکےوبیشن سنٹر نے ہمیں ہر قسم کی آئی ٹی کی سہولت سے لے کر بزنس ماڈل بنانے تک‘ فنانس سے لے کر برانڈنگ تک اور انوسٹمنٹ سے لے کر مارکیٹنگ تک کی مدد دی گئی‘ جن کیلئے ہم نیشنل انکیوبیشن سنٹر کے مشکور ہیں۔ہم ایک موبائل ایپ ’سب ہیلتھ‘ کے نام سے بناچکے ہیں اور آٹھ مارچ کو وزیر بلدیات جناب کامران بنگش نے اس ایپ کو ابتدائی طور پر لانچ کیا‘ اس محفل میں پشاور کے مشہور فزیشنز اور سرجنز‘ جنرل پریکٹیشنرز اور اہم شخصیات نے شرکت کی‘ سوال و جواب کے سیشن ہوئے اور حاضرین نے ہر لحاظ سے اسے مفید پایا‘یہ ایپ ہمارے ساتھ نزدیک اور دور دراز دونوں قسم کے ڈاکٹر‘ مریض‘ لیبارٹری‘ ایکسرے‘الٹراساﺅنڈ‘فارمیسی سب استعمال کرسکیں گے‘ مریض کو ڈاکٹر سے وقت لینے کیلئے کسی کو بھیجنا نہیں پڑے گا‘ اگر تو مریض کو علم ہو کہ اسے کس سپیشلسٹ سے ملنا ہے تو یہ ایپ ہی اس کو نزدیک ترین سپیشلسٹ کی تفصیلات فراہم کردے گی‘ معمول کی شکایات کیلئے فیملی فزیشن کی سہولت موجود ہوگی‘ اس ایپ کا کمال یہ ہے کہ اس میں مریض کا سارا ریکارڈایک دفعہ ڈھل جائے تو جب تک مریض نہیں چاہے گا وہ ریکارڈ صرف متعلقہ ڈاکٹر اور فارماسسٹ کو فراہم ہوگا‘بہت سی طویل بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بار بار ڈاکٹر کا معائنہ ضروری نہیں ہوتا‘ ایسے مواقع پر ڈاکٹر براہ ِراست لیبارٹری کو ٹےسٹ لکھ دے گا اور لیبارٹری کی طرف سے مریض کو ٹےسٹ کے بارے مطلع کیا جاسکے گا‘ ہم یہ بھی کوشش کررہے ہیں کہ کم از کم پشاور کی سطح پر لیبارٹری کی طرف سے ٹیکنیشن جاکر خون کا نمونہ گھر پر ہی حاصل کرے اگر مریض معذور ہے اور لیبارٹری جانا اس کیلئے مشکل ہے۔

ایک دفعہ مرض کی تشخیص ہوجائے تو ڈاکٹر کو مناسب علاج لکھنے میں آسانی ہوجاتی ہے‘ اگر صرف ادویات کی بات ہے تو ڈاکٹر اسی ایپ پر نسخہ تجویز کرے گا‘ تاہم یہ نسخہ براہِ راست مریض کے پاس نہیں جائے گا بلکہ اسے سب سے پہلے ایک فارماسسٹ جانچے گا‘ مریض کے ریکارڈ سے اسکی تمام ادویات اور گردوں ‘ جگر اور معدے کی حالت کے علاوہ اسکے وزن اور قد کا بھی اندازہ ہوگا‘ کوئی خاتون ہو تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ کہیں اسے حمل تو نہیں‘ ان تمام چھلنیوں سے گزرنے کے بعد ہی نسخہ کامیاب قرار پائے گا اور اگر اس میں کوئی کمی بیشی کرنی ہو تو ڈاکٹر کو فارماسسٹ یہ معلومات فراہم کردے گا‘ اسکے بعد یہ نسخہ مریض کے نزدیک ترین کیمسٹ کے پاس جائے گا جو چاہے تو مریض کے گھر نسخہ پہنچادے اور چاہے تو مریض کا تیماردار نسخہ لینے آئے۔اس ایپ میں یہ خصوصیت بھی ہے کہ دائمی امراض کے حامل مریضوں کو وقتاً فوقتاً اپنی دوائیاں پہنچاتا رہے‘وقت پر مناسب ٹےسٹوں کے بارے میں یاددہانی کرائے‘ لمبی بیماریوں کے بارے میں پبلک ایجوکیشن بھی کروائے تاکہ عام لوگوں کو بھی پتہ ہو کہ چند ایک عام امراض میں کیا کرنا چاہئے‘ اسکے علاوہ صحت سے متعلق دوسرے شعبوں جیسے ورزش‘ فزیو تھراپی‘ ڈائٹنگ‘ پرہیز‘ ماہانہ یا سالانہ معائنہ کے بارے میں بھی جدید ترین معلومات دستیاب ہوں گی۔

اسوقت بھی ہمارے ہاں پیچیدہ زخموں کے بارے میں ایک خصوصی سہولت فراہم ہورہی ہے جس میں ہم نے ایک بڑے سٹاف کو تربیت دی ہوئی ہے‘ دور دراز سے خدا کے فضل سے بہت پرانے زخموں والے مریض شفایاب ہوئے ہیں‘ ہمارا تربیت یافتہ سٹاف کم از کم پشاور کی حد تک کئی ایسے مریضوں کے گھر جاکر انکی پٹی کرلیتا ہے جو بستر تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں اس سہولت سے نہ صرف مریض کے ہسپتال لانے لیجانے سے کم خرچ میں ہوجاتا ہے بلکہ مریض کے عزیز و اقارب کو بھی اپنے کام سے چھٹی نہیں کرناپڑے گی‘فی الوقت اس ایپ کی سکےورٹی پر بھی نہاےت دل جمعی سے کام ہورہا ہے تاکہ کسی مریض کی معلومات غلط ہاتھوں میں نہ پڑ جائیں‘ یہ ایپ تبھی ریلیز ہوگی جب اس پر ہر قسم کے ہیکنگ حملے کرکے اسکے استحکام کے بارے میں یقین آجائے‘ اس ایپ پر ڈاکٹر ‘ مریض یا متعلقہ فرد کی رجسٹریشن معمولی فیس کےساتھ ہوگی ‘ہماری کوشش ہے کہ ہم فیملی ڈاکٹر کے کلچر کو بھی چلن دیں تاکہ ہر خاندان کا ایک قریبی فیملی ڈاکٹر سے رابطہ ہو اور وہ ان کو جدید طبی معلومات سے باخبر رکھ سکے‘ ڈاکٹر ‘ لیبارٹری اور فارمیسی کی فیس معمولی رعاےت کےساتھ ہوگی‘ اس ایپ کا مقصد مریض کی مفت مدد نہیں بلکہ وہ بے شمار رکاوٹیں جو پچھلے کالموں میں بیان ہوئی ہیں‘ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ مریض کے علاج میں ڈاکٹر‘لیبارٹری اور دواﺅں کی قیمت سے زیادہ نقل و حمل ‘ کام سے چھٹی اور طویل سفر پر زیادہ خرچ آتا ہے ‘ ہم کوشش یہ کررہے ہیں کہ یہ اضافی اخراجات ختم کئے جاسکیں۔

 

بشکریہ روزنامہ آج