ترقی قابلیت اوراہلیت

کینیڈا کی آبادی تین کروڑ کے لگ بھگ ہے اس میں سے آدھی یعنی ڈیڑھ کروڑ انٹاریو کے صوبے میں ہے جس کا صدر مقام ٹورنٹو ہے کینیڈا کا رقبہ روس کے بعد تمام ممالک سے زیادہ ہے اور اس میں بارہ پاکستان جتنے ملک بن سکتے ہیں لیکن اوّل الذکر میں ہر قومیت کے لوگ پائے جاتے ہیں ‘اس ملک کی شہریت حاصل کرنا اب مزےدآسان ہوجائے گی ‘وہ پرانے شہری جنہوں نے کینیڈا کی آباد کاری میں حصہ لیا اور اسکی ترقی کے ذمہ دار بنے اب بڑھاپے کے آخری درجے پر ہیں اس وقت چونکہ زیادہ ترسفید فام آبادی میں بچوں کی پیدائش نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ نہ صرف ملک کا مستقبل نئی نسل پر منحصر ہے بلکہ معمر افراد کی پنشن کا بندوبست بھی نئی نسل نے کرنا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ کینیڈا ہر وقت دوسرے ممالک سے نوجوانوں کو اپنے وطن میں خوش آمدید کہہ رہا ہے۔

پاکستان کا موازنہ اس لحاظ سے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اگرچہ بڑھتی آبادی کو پاکستان کا بڑا مسئلہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ آبادی یکساں طور پر تقسیم نہیں بلوچستان کی مثال ہی لے لیں رقبے کے لحاظ سے یہ آدھے پاکستان کے برابر ہے جبکہ اسکی پوری آبادی محض ایک کروڑ تیس لاکھ ہی ہے جب اتنی بڑی آبادی کو آپ ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا دیں تو چھوٹے چھوٹے قصبے ہی وجود میں آتے ہیں جن کی اتنی آبادی نہیں ہوتی جو کسی قسم کی سرمایہ کاری کیلئے مناسب ہو قوم پرست لاکھ دہائیاں دیتے پھریں کہ سوئی گیس پورے پاکستان کو سپلائی ہورہی ہے اور بلوچستان کے اکثر شہر اس سے محروم ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ چند سو کی آبادی کیلئے گیس کے پائپ بچھانا گھاٹے کا سودا ہے۔ صوبائی تعصب وہاں دوسرے صوبوں کے ڈومیسائل رکھنے والوں کو امن سے رہنے نہیں دیتا اور معمولی پیشہ کار اگر پنجاب سے جاکر آباد ہوجائیں تو ان کو زندگی کے لالے پڑ جاتے ہیں حالانکہ بلوچستان کو اپنی ترقی کیلئے ہر شعبے میں تربیت یافتہ شہریوں کی ضرورت ہوتی ہے ظاہر ہے ساری سرکاری ملازمتیں تو ڈومیسائل پر ملتی ہیں لیکن اگر پرائیویٹ ادارے بھی پنجاب یا کراچی سے کسی کو ملازمت دے دیں تو ان کی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔

ہمارا صوبہ اور اسکے قوم پرست لیڈر ہمیشہ پنجاب سے شاکی رہتے ہیں کہ وہ دوسرے صوبوں کا حق ماررہا ہے لیکن دوسری طرف کسی حکومت نے بھی اپنے عوام کو مختلف شعبوں کیلئے تیار نہیں کیا ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ پشاور میں آپ کو کوئی پختون لوہار نہیں ملتا پورے صوبے میں اگر سٹیل ورک کہیں ہورہی ہے تو پنجابی پیشہ وروں کی مرہون منت ہے۔ گدون امازئی کا انڈسٹریل سٹیٹ اگر شروع ہوا تو پنجاب کے لیبر کی وجہ سے اور بند بھی اسی لئے ہوا کہ وہاں مقامی آبادی نہ تو تربیت یافتہ تھی اور نہ ہی کام کرنے کے موڈ میں تھی۔ پشاور میں جو گنے چنے کارخانے چل رہے ہیں تو صرف اور صرف پنجابی لیبر سے چل رہے ہیںبڑے کارخانے تو چھوڑیں، صرف پرنٹنگ کی کاٹج انڈسٹری سے اگر پنجابی ورکر نکالے جائیں تو ایک صفحہ پرنٹ نہ ہوسکے ۔ بلوچستان میں اساتذہ نہیں تو سکول کاہے کو چلیں گے۔ محکمہ صحت کو لیں تو پورے بلوچستان میں گنے چنے سپیشلسٹ ہیں معمولی ڈپلومہ ہولڈر پروفیسروں کی اسامیوں پر تعینات ہیں۔ ہمارا صوبہ دس بارہ سال قبل کچھ نہ کچھ اعلیٰ تعلیم و تربیت یافتہ افراد رکھتا تھا لیکن بد امنی کی وجہ سے زیادہ تر ایسے لوگ ملک چھوڑ گئے۔ جن کو ملک سے باہر جانے کا موقع نہیں مل رہا تھا وہ اسلام آباد شفٹ ہوگئے اور اس طرح اب ہمارا دامن بھی نہ صرف خالی ہے بلکہ قحط الرجال روز بروز بڑھ رہا ہے۔ نت نئے ادارے کھل رہے ہیں اور ان کو چلانے کیلئے کوالیفائیڈ سٹاف نہیں ملتانتیجتاً احمد کی ٹوپی محمود کے سر والی بات ہے جو شخص اسسٹنٹ پروفیسر کی پوزیشن کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا اسے یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا جارہا ہے جو شخص ایک شعبہ نہیں چلاسکتا اسے پورے کالج کا پرنسپل بنایا جارہا ہے۔ افسر شاہی میں بھی یہی حال ہے کہ کل کے ترقی یافتہ افسران پورے محکمے کو چلارہے ہیںفائلوں کی رفتار پہلے ہی کچھوے کی مانند تھی اب اسے بھی بریک لگائے جارہے ہیں جن محکموں کومحنتی سربراہ نصیب ہوئے ہیں وہ بھی دوسرے محکموں سے نالاں ہیں کہ کوئی کام بھی وقت پر نہیں ہوتا نہ کسی کام کا منصوبہ وقت پر تیار ہوتا ہے اور نہ ہی اسکے لئے وقت پر بجٹ ریلیز ہوتا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ جتنے بھی افسران قابل اور محنتی تھے ان کو وفاق یا پنجاب نے اچک لیا ہے غلام اسحاق خان اور ایوب خان جیسے ہیرے پیدا کرنےوالے صوبے کو چیف سیکرٹری کے عہدے کیلئے مہینوںکوئی مناسب افسر نہیں ملتا۔

اب بھی وقت ہے کہ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبے اور پنجاب میں بھی سرائیکی بیلٹ‘ قوم پرستی کو فی الحال ایک طرف ڈال کر محنت کش پنجابیوں کو خوش آمدید کہیں ‘ میمنوں کو اپنے صوبوں میں تجارتی مراکز قائم کرنے کیلئے پرکشش مراعات دیں۔فی الحال سرکاری ملازمتوں میں بھی ڈومیسائل کی زیادہ سختی نہ کریں اور صرف میرٹ کو ہی معیار بنائیں۔ اندرون سندھ کی پسماندگی ہر کسی کیلئے چشم کشاہے اور اسکی ایک بڑی وجہ دیہی اور شہری ڈومیسائل کا قانون ہے اگر اسی ڈومیسائل کے قانون کا نفاذ امریکہ‘ برطانیہ اور کینیڈا میں ہوتا تو یہ اقوام بھی پسماندہ رہ جاتیں۔

قوموں کی ترقی افراد کی قابلیت سے ہوتی ہے۔ قدرتی ذخائر اور وسائل تبھی ملک کی ترقی کا باعث بنتے ہیں جب ان کو استعمال کرنے والے افراد موجود ہوں ورنہ افریقی ملک بوٹسوانا اور کانگو دنیا میں سب سے زیادہ ہیرے پیدا کرنے والے ممالک ہےں۔ نائیجیریا تیل کی دولت سے مالا مال ہے، نیپال میں قدرتی پانی کے ذخائر تمام دنیا کی نسبت زیادہ ہیں لیکن کیا اس قدرتی دولت نے ان کے عوام کی زندگی بہتر بنائی؟ دوسری طرف سنگاپور اور جاپان کی طرف نظر دوڑائیں تو دونوں ممالک کسی قسم کے قدرتی وسائل سے محروم نظر آتے ہیں ان کے افراد ہیں جنہوں نے اپنی قوموں کی تاریخ بدلی ہے۔ تعلیم کا معیار سکول کی عمارت اور فرنیچر سے نہیں‘اساتذہ کی تربیت اور ان کی عزت سے بنتا ہے بدقسمتی سے افرادی قوت اور معیار کو ہمارے لیڈر نہ صرف خود حقارت سے دیکھتے ہیں بلکہ عوام کی نظروں سے بھی گراتے ہیں اور محض بڑی بڑی سڑکوں اور چمکتی دھمکتی عمارتوں ہی کو ترقی کا پرتو سمجھ لیا گیا ہے۔ کم پڑھے لکھے اور بعض اوقات مشکوک آمدنی کے حامل سیاسی وزیر کسی بھی محکمے کے لائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران اور دوسرے ملازمین کو حقیر نظر سے دیکھتے ہیں اور بعض اوقات محض اخبارات کی سرخی بننے کیلئے ان کی بے عزتی کرتے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی حکومت اور اسکے لاڈلے اراکین اسمبلی اگر واقعی صوبے کی ترقی چاہتے ہیں تو ان کو نہ صرف ہیومن ریسورس کی عزت افزائی کرنی ہوگی بلکہ اہلیت کے معاملے میں قوم پرستی کو پیچھے چھوڑ نا ہوگا۔ ورنہ یہ صوبہ محض چوکیدار‘ اردلی اور عام مزدور کار ہی برآمد کر تا رہے گا۔

 

بشکریہ روزنامہ آج