بڑے اتار چڑھاؤ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر زیادہ نمایاں نظر آ رہی ہے ۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات منوالی ہے کہ وہ بھٹو کی سیاس ( Dynasty ) کے حقیقی وارث ہیں ۔ یہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی دانش اور تدبر کا نتیجہ ہے کہ پارٹی نہ صرف باقی ہے بلکہ نامساعد اور غیر موافق حالات سے نبردآزما ہونے کی بھی اس میں بھرپور صلاحیت موجود ہے ۔ آج اگر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی حالت دیکھی جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں سیاست کیلئے وہی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے ، جو پیپلز پارٹی کی قیادت نے اختیار کی ہے ۔
پی ٹی آئی کی طرف سے اپنے لیڈر عمران خان کی گرفتاری پر 9مئی 2023 کو جس ردعمل کا اظہار کیا گیا ، اس پر بلاول بھٹو زرداری کا بیان انتہائی قابل غور ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی یہی چاہتی ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت کا خاتمہ ہو لیکن اس کا طریقہ کار یہ نہیں ہے ، جو پی ٹی آئی نے اختیار کیا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی بحالی اور سویلین بالادستی کیلئے طویل جدوجہد کی ہے ۔ اس جدوجہد میں پیپلز پارٹی کے قائدین اور کارکنوں نے نہ صرف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں بلکہ اپنی جانیں بھی قربان کی ہیں ۔
جس مرحلے سے اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی گزر رہی ہے ، اس طرح کے کئی مراحل سےوہ گزری ہے اور پھر اپنی بقاء کے ساتھ سرخرو ہو کر نکلی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی قیادت نے حوصلے اور تدبر سے کام لیا اور پی ٹی آئی کی طرح مہم جوئی نہ کی ۔ پی ٹی آئی اگر 9مئی والی مہم جوئی نہ کرتی تو میرے خیال میں پاکستان کی اصل ہیئت مقتدرہ ( اسٹیبلشمنٹ ) خصوصاً فوج اس کی اس طرح مخالف نہ ہوتی ۔ پی ٹی آئی نے خود اسٹیبلشمنٹ کو اپنا مخالف بنایا ۔ یہ غلطی اس سے اس لئے ہوئی کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی جماعت تھی اور اس غلط فہمی میں تھی کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے ایک طاقتور لابی اس کے حق میں کھڑی ہو کر پوری اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کر دے گی کہ اسے دوبارہ اقتدار میں لانے کیلئے پہلے کی طرح سارے حربے استعمال کرے۔ اگر پی ٹی آئی کی یہ منصوبہ بندی کامیاب ہو جاتی تو عمران خان پہلے سے زیادہ کمزور پوزیشن میں ہوتے اور ویسی سویلین بالادستی نہیں ہوتی، جس کا نام نہاد نعرہ تحریک انصاف لگاتی ہے ۔ اب بھی پی ٹی آئی کی مہم جوئی سے سویلین بالادستی مزید کمزور ہوئی ہے اور فوج کی سیاست میں مداخلت میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور بنیادی دھارے کی دیگر سیاسی جماعتوں نے سویلین بالادستی کیلئے اب تک جو پیش قدمی کی تھی ، اس کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے ، اس سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی یہ بات درست ثابت ہوئی ہے کہ ’’ پاکستان میں جمہوریت کا سفر ایک قدم آگے بڑھنے اور دس قدم پیچھے ہٹنے کی اداس کن داستان ہے ۔ ‘‘
پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے کا مقصد ہی پیپلز پارٹی کو ختم کرنا تھا لیکن بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور بیگم نصرت بھٹو نے جس طرح پارٹی کو سنبھالا ، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے اکیلے مہم جوئی کی بجائے دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا اور تحریک بحالی جمہوریت ( ایم آر ڈی ) کے نام سے جنرل ضیاء الحق کے خلاف ایک مذہبی کے بجائے جمہوری محاذ بنایا ۔ اس محاذ میں وہ سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں ، جو بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک میں شامل تھیں اور پیپلز پارٹی کی سخت مخالف تھیں ۔ یہ تدبر صرف عظیم سیاسی قیادت میں ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے خلاف اے آر ڈی کے نام سے جمہوری محاذ بنایا ۔ پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی ایک اور کوشش محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرکے کی گئی ۔ اس پر سندھ میں ’’پاکستان نہ کھپے‘‘ کا نعرہ لگا لیکن سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے فورا ً’’پاکستان کھپے ‘‘کا نعرہ لگایا اور پارٹی کو خود کشی والی مہم جوئی سے بچایا ۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے فلسفے ’’ مفاہمت ‘‘ پر عمل کیا اور ملک میں سیاسی تصادم کی فضاء ختم کی ۔ اقتدار میں آکر 18ویں آئینی ترمیم منظور کرائی ۔ اس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا اور جمہوریت کو مضبوط بنیاد فراہم کی ۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد فوج نے اب تک اقتدار پر براہ راست قبضہ نہیں کیا ۔ آصف علی زرداری نے اپنی سب سے بڑی مخالف سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ’’ میثاق جمہوریت ‘‘ کیا ۔ انہوں نے نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ دیگر مذہبی ، سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کو بھی بنیادی سیاسی دھارے میں شامل کیا ۔ جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت سیاسی قوتوں کو اپنا دشمن بنا کر سیاست کرتی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت ریاست پاکستان کا عظیم سیاسی اثاثہ ہے اور اس کا ادراک مقتدر حلقوں کو ہونا چاہئے ۔ بلاول بھٹو زرداری پاکستان کیلئے ایک امید ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے پاس پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا وژن ہے ۔ وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے قدرے مختلف ہے ۔ اس کی معاشی پالیسیاں عوام دوست ہیں ۔اگلے روز بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں سیلاب زدگان کو بیس ہزار مکانات کے مالکانہ حقوق دیئے ۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی دو لاکھ گھر دے گی ۔ اس طرح کی اسکیمیں سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی شروع کی جائیں گی ۔ پیپلز پارٹی ترقی کے سامراجی نظریہ کی بجائے ترقی کے عوام دوست نظریہ پر عمل کرتی ہے۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سےبلاول بھٹو زرداری کو عالمی رہنمائوں سے بہت پذیرائی ملی ۔ کیونکہ وہ ایک عظیم سیاسی خانوادے کے وارث ہیں اور ان کی گفتگومیں کوئی جھول نہیں ہوتا ۔ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت ہماری ریاست کا عظیم اثاثہ ہیں اور اس سے ریاست کو استفادہ کرنا چاہئے ۔