243

اگلی کنگز پارٹی کون ہوگی؟

آئندہ عام انتخابات میں کون سی سیاسی جماعت اکثریت حاصل کرے گی اور مرکز میں حکومت بنائے گی ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے پاکستان میں معروضی سیاسی حالات کو نظر انداز کر کے صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیلئےآئندہ کون سی سیاسی جماعت قابل قبول ہو گی ۔ سیاسی دانشور اور تجزیہ کار بھی صرف اسی ایک فیکٹر کو مدنظر رکھتے ہوئے قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور خود سیاست دان بھی آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے صرف اسی فیکٹر کو سامنے رکھتے ہیں۔

تجزیے اور قیاس آرائیاں بھی اسٹیریو ٹائپ ہوتی ہیں ۔ انہیں سن کر محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ماخذ یا فیکٹری ایک ہے ۔ اس ماخذ کا نام ہے’’باخبر ذرائع ‘‘۔ باخبر ذرائع کیا سوچ رہے ہوتے ہیں ، اس کا اندازہ تو بے خبر لوگ بھی لگا لیتے ہیں ۔ قیام پاکستان کے بعد سے کنگز پارٹیز بنانے کا کھیل جاری ہے ۔ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی عوامی اور سیاسی طاقت کمزور کرنےکیلئے جعلی مسلم لیگیں بنائی گئیں ۔ انہیں کنگز پارٹیز کا درجہ دیا گیا اور ان کے ذریعہ حکومتیں چلائی گئیں ۔ واضح رہے کہ کنگز پارٹیوں کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے،جب ملک میں براہ راست فوجی حکومت نہ ہو ۔

پہلے کنگز پارٹیز کمزور اور عوامی سطح پر غیر مقبول ہوتی تھیں کیونکہ 1970ءکے عشرے تک کسی حقیقی عوامی اور مقبول جماعت کو ابھرنے نہ دیا گیا ۔ جب سابق مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی مقبول عوامی سیاسی جماعتیں بن کر ابھریں تو اسٹیبلشمنٹ کی غیر مقبول کنگز پارٹیز ان کا مقابلہ نہ کر سکیں ۔ اس صورتحال نے اسٹیبلشمنٹ کو سنبھلنے نہ دیا ۔ سقوط ڈھاکا کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی ۔ اب اسے ایک ایسی کنگز پارٹی کی ضرورت تھی ، جو عوام میں مقبول ہو ۔ افغانستان میں سوویت یونین کے حملے سے پہلے پاکستان میں جنرل ضیاالحق کا مارشل لا نافذ کر کے پاکستان کو گریٹ گیم کے لئے تیار کر لیا گیا اور اسٹیبلشمنٹ کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ایک مقبول کنگز پارٹی بنانے کیلئے بہت وقت مل گیا ۔ 1988کے انتخابات میں اگرچہ پیپلز پارٹی نے زیادہ نشستیں لیں لیکن اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کی شکل میں ایک مقبول کنگز پارٹی میدان میں تھی ۔ مسلم لیگ (ن )کو عوامی مقبولیت دلانے کے لئے پوری پروپیگنڈا مشینری اور ریاستی وسائل کو استعمال کیا گیا اور اسے دس سال تک پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کنگز پارٹی کا درجہ جاصل رہا۔ جب 1999 میں ایک اور گریٹ گیم کےلئے مسلم لیگ( ن )کی حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل پرویز مشرف کی آمریت قائم کی گئی تو مسلم لیگ (ن )کی قیادت نے کنگز پارٹی بننے کی بجائے اپنی عوامی اور سیاسی طاقت پر انحصار کیا ۔ اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو اب دو مقبول سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کا مقابلہ کرنا تھا اور ان دونوں کو عوامی سیاست سے پیچھے دھکیلنا تھا ۔ اب ایک بہت زیادہ مقبول کنگز پارٹی کی ضرورت تھی ۔ لہٰذا ایک بڑے پروجیکٹ کے طور پر پاکستان تحریک انصاف کو لایا گیا۔ عمران خان کو ہیرو بنانے کے لئے اتنا پروپیگنڈا کیا گیاکہ اس سے خود اسٹیبلشمنٹ کے وسیع حلقے اپنے ہی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے اور اس کی اصل حکمت عملی کے خلاف کھڑے ہو گئے ۔

ابھی فوری طور پر ممکن نہیں کہ کوئی کنگز پارٹی بن سکے ، جو تین بڑی سیاسی جماعتوں کو عوامی سیاست سے پیچھے دھکیل دے ۔ یہاں کنگز پارٹی سے مراد ملکی سطح پر کوئی ’’پرو اسٹیبلشمنٹ ‘‘مقبول جماعت ہے ۔ اب زیادہ مقبول کنگز پارٹی والے فارمولے پر شاید دوبارہ کافی عرصے تک عمل نہ ہو۔ ویسے تو چھوٹی چھوٹی کئی کنگز پارٹیز ہوتی ہیں ۔ ان میں قوم پرست، لسانی ، علاقائی ، مذہبی اور فرقہ پرست سیاسی جماعتیں شامل ہوتی ہیں ۔ اس کی مثال تحریک انصاف کی حکومت کی سابق اتحادی جماعتیں ہیں ، جو حکومت سے باہر آئیں تو حکومت گر گئی ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اگرچہ اگلی کنگز پارٹیز بننے کے لئے آئندہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی لیکن اسٹیبلشمنٹ اپنی حکمت عملی کے تحت ان سے معاملات تو طے کر سکتی ہے ، انہیں کنگز پارٹی تسلیم نہیں کر سکتی ۔ آئندہ سیٹ اپ چھوٹی چھوٹی کنگز پارٹیز کے ذریعہ چلایا جائےگا۔ یہ اور بات ہے کہ فرنٹ سیٹ پر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ہو گی ،کن سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کے لئے سارا زور لگایا جائےگا۔ان سے دوبارہ معاملات طے کرنے کے دو اسباب ہوتے ہیں ۔ ایک تو جس کنگز پرٹی پر انحصار کیا جا رہا ہوتا ہے ، وہ یا تو مطلوبہ نتائج نہیں دیتی یا خود کو بڑی طاقت سمجھنے لگتی ہے ۔ دوسرا سبب عالمی اور علاقائی حالات اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کر دیتے ہیں ۔ مثلاً اس دفعہ چین کے وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے موقع پر پی ٹی آئی یا مذہبی جماعتوں کے دھرنے نہیں ہو رہے ۔ حالات بہت تبدیل ہیں ۔

ویسے تو اسٹیبلشمنٹ کے پاس یہ بھی آپشن ہے کہ وہ مذہبی اور فرقہ وارانہ جماعتوں کو زیادہ مقبول بنا کر الیکشن میں اتار دے مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا نہیں کرے گی کیونکہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورت حال اس کی اجازت نہیں دیتی۔ تاہم آئندہ الیکشن میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر پرو اسٹیبلشمنٹ جماعتوں اور آزاد ارکان کو زیادہ نشستیں دلوائی جا سکتی ہیں ۔ اس کے لئے پی ٹی آئی کے کردار کا بھی تعین کیا جا سکتا ہے ۔ \

اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو سوچنا ہے کہ وہ آپس کی کھینچا تانی میں چھوٹی کنگز پارٹیز کے ساتھ کمزور حکومت چاہتی ہیں یا بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کنگز پارٹیز کی حکومت کی بجائے مضبوط سیاسی حکومت بنانا چاہتی ہیں ۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم