1301

سیرت ابن اسحاق (ترجمہ مفتی عاصم زبیر ہاشمی) کا تنقیدی جائزہ

سیرت ابن اسحاق Facebook پارٹ 1 قسط نمبر # 1 (حصہ اول) سیرت ابن اسحاق (ترجمہ مفتی عاصم زبیر ہاشمی) کا تنقیدی جائزہ (میرے استاد محترم سلیم زمان خان کے مورخہ 22 اپریل 2024 کے Podcastسے اقتباس ) - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سیدنامُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سیدنامُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى سیدناإِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ سیدناإِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكَ عَلَى سیدنامُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سیدنامُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى سیدناإِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ سیدناإِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ سیرت ابن اسحاق کا تعارف محمد بن اسحاق بن یسار بن خیار المدنی (704ء تا 767ء) آٹھویں صدی کے قدیم ترین سیرت نگار ہیں جن کی مشہور کتاب سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیرت ابن اسحاق کے نام سے مشہور ہے ۔ ابن اسحاق کتاب سیرت ابن اسحاق کے مصنف ہے ۔ ابن اسحٰق کا اصل فن مغازی وسیرت تھا جس کی بنیاد پر یہ کتاب سیرت ابن اسحاق لکھی گئی ۔ اگرچہ مغازی اورسیرت تاریخ ہی کی ایک شاخ ہے۔ سیرت ابن اسحاق سیرت پاک حضرت محمد ﷺ کی زندگی اور واقعات پر مبنی تاریخ کی سب سے پہلی کتاب ہے جو ابن اسحاق نے دو جلدوں میں جمع کیا تھا یعنی کتاب المبتداء جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے ابتدائی حالات تھے جو ہجرت تک ہے۔ جبکہ کتاب المغازی میں ہجرت سے وصال تک کے واقعات تھے۔ سیرت ابن اسحاق میں ابن اسحاق نے عربی شاعری بھی شامل کی تھی۔ جب اس کتاب کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے جیسے یہ سیرت پاک دراصل کسی دباؤ کے نتیجے میں لکھی گئی کیونکہ اس میں مصنف جب تک عرب ممالک میں رہا اس کا رجحان مختلف تھا، لیکن جب وہ فارس / ایران کے زیر اثر ممالک گیا تو وہاں اس کا رجحان مختلف ہوجاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنصیف کے پیچھے مسلکی اور سیاسی مقاصد بھی ہیں۔ جس کا واضح ثبوت اس کتاب کے عنوانات کی فہرست / تسلسل اور ترتیب ہے ۔ سب سے بڑھ کر بقول امام مالک کہ یہ کتاب یہودی علماء اور انکے ذرائع کو استعمال کرکے لکھی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کتاب میں نبی پاک ﷺ کی ذات اقدس پر اس خفیہ طریقے سے الزامات لگائے گئے ہیں، جن کو ایک عام قاری سمجھنے سے قاصر ہے لیکن بدقسمتی سے1300 سالوں میں اس کتاب نے پوری دنیا میں شکوک و شبہات کے جو بیچ بوئے ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہیں۔ خصوصی طور پر مغرب کو تنقیدی موقع اسی کتاب نے مہیا کئے۔ سیرت ابن اسحاق (ترجمہ از مفتی عاصم زبیر ہاشمی) کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس کتاب میں موجود اشعار جنھیں حضرت عبدالمطلب سے لیکر مختلف صحابہ اکرام حتکہ آپ ﷺ کی پھوپیوں سے منسوب کیا گیا ہے وہ سب بہت بعد کی پیداوار ہیں۔ کیونکہ اگر یہ اُس زمانے کے اشعار ہوں تو ان میں نبی پاک ﷺ کو بچپن سے احمد یا نبی نا کہا گیا ہوتا اور اگر قریش کی سرکردہ ہستیاں بچپن سے نبی پاک ﷺ کو نبی مانتے تو 23 سال کی جدوجہد نہ کی جاتی یا اس جدوجہد کا مقصد کچھ بھی نہیں رہتا ۔ اس کتاب کے مضامین میں حضرت سلیمان فارسی کو ابتداء میں رکھنا جبکہ یہ سیرت کی کتاب ہے اور حضرت سلیمان فارسی جنگ احد کے بعد نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، جو کہ سیرت پاک کا تسلسل نہیں بنتا ہے بلکہ مسلکی اور سیاسی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر نبی پاک ﷺ کی ذات اقدس پر جو تبصرہ اس کتاب میں کیا گیا ہے وہ تبصرہ اگر کوئی غیر مسلم لکھے یا کہے تو اس پر گستاخ رسول ﷺ اور ختم نبوت پر الزام لگ جائے اور شاید آج کے دور میں اگر ابن اسحاق پاکستان میں ہوتے تو ان کا انجام گستاخ رسول ﷺ سے مختلف نہ ہوتا ۔ ہر سیرت کے لکھنے کے کچھ مقاصد ہوتے ہےاور ابن اسحاق کے مغازی کو سیرت کی شکل دینے کے پیچھے کیا مقاصد تھے وہ ظاہر نہیں ہوتے ہے جس کا برملا اظہار ضروری تھا ۔ اور ساتھ ہی مفتی عاصم زبیر ہاشمی صاحب اس کتاب کا ترجمہ کر کے اس کی اہمیت اجاگر کرنے میں بری طرح ناکام ہیں ۔ ●۔ سیرت ابن اسحاق کی کتاب کے تنقیدی جائزہ کے تین حصے بنتے ہے ۔ ● ۔پہلا حصہ: - وہ جس میں اس نے حضرت ابو طالب اور حضرت سلیمان فارسی کو ڈسکس کیا ہے ۔ چونکہ یہ سیرت پاک کی سب سے پہلی کتاب تھی تو چاہئیے یہ تھا کہ سب سے پہلے نبی پاک ﷺ کے شجرہ پاک کو بیان کیا جاتا،اور اس کے بعد بیت اللہؔ شریف اور عرب کا تعارف کروایا جاتا، اس کے بعد نبی پاک ﷺ کا تعارف کروایا جاتا،اور اس کے بعد نبی پاک ﷺ کے آصحاب اکرام کا وقت کے مطابق تعارف کرواتا جبکہ اس کے بجائے ابن اسحاق نے حضرت عبدالمطلب اور حضرت ابو طالب ، حضرت علی کرم اللہؔ وجہہ اور حضرت سلیمان فارسی کا تعارف کروایا ہے اور خاص توجہ اسی پر دی ہے پھر مکہ پر آگیا ہے اور پھر نبی پاک ﷺ کی طرف آتا ہے۔ نبی پاک ﷺ کے دور نبوت کی ٹائم لائن کو مد نظر نہ رکھتے ہوئے اس کتاب کو ترتیب دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بے شمار واقعات اپنے زمان اور مکان سے ہٹ کر ہے ۔ کسی بات کو کبھی مکی واقعات سے جوڑا جاتا ہے اور کہیں مکی واقعات کے دوران مدنی واقعات تحریر ہیں۔ جس کی ترتیب بنانا آج کے مترجم کی بھی زمہداری تھی۔ ● ۔دوسرا حصہ: - نبی پاک ﷺ کی نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد جتنی بھی باتیں کی گئی ہے ان میں بہت سی باتیں خرافات ہیں اور من گھڑت بھی ہے ۔ ● ۔تیسرا حصہ: - چونکہ یہ سب سے پہلی سیرت کی کتاب ہے اس سے پہلے عرب معاشرے کا دستور تھا کہ “مغازی “لکھی جاتی تھی جن میں جنگوں کا احوال ہوا کرتا تھا اور وہ جنگیں جن میں نبی پاک ﷺ نے شرکت کی تھی۔ ابن اسحاق نے جو جنگوں کا حصہ اس کتاب میں شامل کیا ہے وہ بلکل درست ہے اور اس میں کسی قسم کی فاش غلطی شامل نہیں ہے اور وہ ایک مستند علم معلوم ہوتا ہے اور اس میں تمام جنگوں کی تفصیل اور معاملات ہے ۔ ایسا نظر آتا ہے کہ جیسے کسی سیاسی یا مسلکی دباؤ کے زیر اثر ابن اسحاق کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ سیرت کی ایسی کتاب بنائی جائے جس میں نبی پاک ﷺ کو ایک عام انسان سے نبی بنتا ہوا دیکھایا اور محسوس کیا جائے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1300 سالوں میں اس کتاب کے بعد ہر مسلم و غیر مسلم سیرت نگار اور تنقید کار نے اس کتاب کا بے پناہ فائدہ اٹھایا اور تین بڑے الزامات نبی پاک ﷺ کی زات اقدس پر لگائے ۔ ●۔ سیرت ابن اسحاق / مغازی میں لکھے گئے اشعار :۔ سیرت ابن اسحاق / مغازی میں استعمال ہونے والے تمام اشعار اس زمانے کے معلوم ہوتے ہیں جس زمانے میں یہ کتاب لکھی یا ترتیب دی گئی کیونکہ حضرت عبدالمطلب کی تمام بیٹیاں (یعنی نبی پاک ﷺ کی پھوپیاں) ، حضرت ابوطالب، حضرت علی کرم اللہؔ وجہہ، حضرت خدیجہ سلام اللہؔ علیہ اور ورقہ بن نوفل کے اشعار میں تین الفاظ بہ کثرت ملتے ہے ۔ 1۔ توحید کا لفظ اشعار میں باکثرت استعمال ہوا ہے جب کہ عرب معاشرہ بت پرست تھا۔ اگر عرب معاشرے میں توحید تھی تو پھر نبی پاک ﷺ کو بت پرستی قلعہ قمع کرنے کے لئے کیوں بھیجا گیا ۔ 2۔ اس اشعار میں نبی پاک ﷺ کا اسم مبارک احمد بہ کثرت استعمال ہوا ہے جس کا قرآن میں ذکر آیا ہے اس سے پہلے یہود اور عیسائی کو یہ بات معلوم تھی لیکن عرب معاشرہ اس بات سے ناواقف تھا ۔ 3۔ نبی پاک ﷺ کی تعریف اور توصیف بطور نبی بیان کی گئی ہے ۔ اگر عرب معاشرہ نبوت سے پہلے نبی پاک ﷺ کو اس حد تک مانتا تھا تو بعد میں اختلافات کا جواز کیا ہے۔ نبی پاک ﷺ کو اذیت دینے کا جواز کیا بنتا ہے ۔ اور زید بن عمرو بن نفیل ، ورقہ بن نوفل، بحیرہ راہب اس وقت نبی پاک ﷺ سے ملتے ہی ایمان کیوں نہیں لائے جبکہ حضرت عبداللہؔ سلام اللہ علیہ اور حضرت آمنہ سلام اللہؔ علیہ پر اعتراضات ہیں کہ وہ مسلمان تھے یا نہیں۔ اس کتاب میں زید بن عمرو بن نفیل ، ورقہ بن نوفل، بحیرہ راہب کی اس قدر تعریف اور توصیف کی گئی ہے کہ گمان یہ ہوتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کی ابتدائی طور پر نبوت کی طرف راغب ان لوگوں نے کیا۔(نعوذ باللہ ) ● ۔ جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ نمبر # 76 میں بحیرہ راہب سے منسوب واقعہ درج ہے جس میں نبی پاک ﷺ حضرت خدیجہ سلام اللہؔ کا سامان تجارت لے کر پہنچے تو بحیرہ راہب نے آپ ﷺ کو لات اور منات کی قسم دی جس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بتوں کی قسم کو نہیں مانتا اور جہاں بت ہوں وہاں سے میں چہرہ (مبارک) ڈھانپ کے گزر جاتا ہوں اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ نہ بتوں کو کچھ سمجھتے تھے نہ انکا ذبیحہ کھاتے تھے ۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ نبی پیدائشی نبی ہوتے ہیں۔ اور نبی پاک ﷺ سے ایک مرتبہ صحابہ اکرام نے پوچھا کہ آپ ﷺ کب سے نبی ہے تو جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم جسم اور روح کے درمیان تھے “ ● ۔ اسی طرح کتاب کے صفحہ نمبر # 77 پر درج ہے کہ بحیرہ نے ابوطالب سے کہا کہ آپ اپنے بتھیجے کو وطن واپس لے جائیں اور انہیں یہود سے بچا لیں، کیونکہ اگر یہود نے آپ ﷺ کو دیکھ لیا تو وہ آپ ﷺ پہچان لینگے اور انہیں نقصان پہنچائنگے کیونکہ آپ کا بیٹا بہت عظمت والا ہے ۔ لوگ آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوئے پھر بحیرہ راہب نے یہود اور ان کے ساتھیوں کو اس سے باز رکھا اور اللہؔ کا خوف یاد دلایا اور وہ تمام باتیں یاد دلائی جو تورات اور انجیل میں موجود تھی چنانچہ ان رہبروں نے بحیرہ کی نصحیت سے اثر لیا اور حق پہچانا ۔ جبکہ اگر ان کی کتب میں آپ کریمﷺکی نبوت کا ذکر تھا تو وہ انہیں پہچان کر تعظیم کی بجائے جان کے دشمن کیوں تھے یہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔ ● ۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر # 133 اور 135 کے بقول مکہ کے ایک شخص "زید بن عمرو بن نفیل" نے سب سے پہلے توحید کا نعرہ بلند کیا اور اس وقت نبی پاک ﷺ مبعوث نہیں ہوئے تھے اور اعلان نبوت نہیں کیا تھا ۔ مکہ والوں نے زید بن عمرو بن نفیل کو اتنی سختیاں پہنچائیں کہ وہ مکہ چھوڑ کر "غار حرا" چلا گیا اور وہاں پناہ گزین ہوگیا ۔ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ نبی پاک ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے غار حرا کی کوئی اہمیت نہیں تھی اور اس کتاب میں نبی پاک ﷺ سے پہلے ہی زید بن عمرو بن نفیل کو غار حرا میں بھی بیٹھایا گیا ہے ۔ آج کے دور میں کفار ، یہودی اور دیگر مذاہب اس بات کے درپے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کو کوئی پڑھاتا تھا اور سیرت ابن اسحاق (ترجمہ مفتی عاصم زبیر ہاشمی) کے ان الفاظ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے (نعوذ بااللہؔ) جبکہ قرآن پاک اس طرح کے کسی بھی واقعہ کی شدید تردید کرتا ہے۔ ●۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر # 136 کے مطابق اعلان نبوت سے قبل زید بن عمرو کی طرف سے نبی پاک ﷺ کو بتوں کا زبیحہ کھانے کی ممانعت کی تھی ۔ مطلب یہ ہوا کہ نبی پاک ﷺ اعلان نبوت سے پہلے نبی نہیں تھے (معاذ اللہؔ) ۔ واقعہ کچھ یوں لکھا ہے کہ طائف سے واپسی نبی پاک ﷺ حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ واپس آرہے تھے تو راستے میں زید بن عمرو بن نفیل کے منع کرنے پر آپ ﷺ نے بتوں کا زبیحہ کھانا چھوڑ دیا اور یہ بات اگر آج کے دور میں کی جاتی یا کہی جاتی تو اس پر ابن اسحاق گستاخی رسول اور توہین رسالت کے الزام میں شاید قتل کر دیا گیا ہوتا۔ اور یہاں طائف والی بات بھی واضح نہیں کی گئی اور ابہام پیدا کیا گیا ہے کیوں کہ جب نبی پاک ﷺ حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ طائف سے واپس آرہے تھے تب آپ ﷺ نے اعلان نبوت کر دیا تھا ۔کیونکہ ابن اسحاق یہ لکھتا ہے کہ نبی کریمﷺ اور زید بن حارثہ جب طائف سے آئے تو ان کے پاس توشہ دان میں بتوں کے استھان پر ذبح شدہ گوشت تھا جب آقاﷺنے زید بن عمرو کو کھانے کی دعوت دی تو اس نے نہ صرف کھانے سے انکار کر دیا بلکہ آقاﷺ کو بھی منع فرمایا۔جس پر نبی کریمﷺ نے آئندہ بتوں کا ذبیحہ کھانے سے توبہ فرمائی۔آب یہ کیا شان آقاﷺ کے مطابق بات ہے۔ اس کا فیصلہ قارئین فرمائیں۔ ●۔اس کتاب کے صفحہ نمبر # 137 کے مطابق ایک مرتبہ صحابہ اکرام نے نبی پاک ﷺ سے پوچھا کہ زید بن عمرو بن نفیل آپ پر ایمان نہیں لایا کیا اور فوت ہوگیا کیا ہم اس کے لئے مغفرت کی دعا کریں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اسکے لئے مغفرت کی دعا کروں کیوں کہ وہ امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا ۔ ●۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر# 140 میں پہلی وحی کے نزول کے بعد نبی پاک ﷺ حالت نیند سے اس حالت میں بیدار ہوئے کہ یہ الفاظ میرے دل پر لکھے ہوئے تھے (نعوذبااللہؔ) اس کا مطلب یہ ہوا کہ وحی کا معاملہ نیند میں ہوا (نعوذبااللہؔ)۔ اور نبی پاک نعوذبااللہؔ) سے متعلق یہاں تک لکھا گیا ہے کہ “ اللہؔ کی مخلوق میں شاعر اور مجنون سے زیادہ کوئی شخص مبغوض نہیں تھا اور میں ان دونوں کو دیکھنے کا ارادہ تک نہیں کرتا تھا اور میں نے اپنے جی میں کہا کہ کیا میں شاعر ہوں یا مجنون” (نعوذبااللہؔ)۔ اور قریش کبھی میری بات سننے کو تیار نہیں ہوگا کیوں نہ میں ایک چٹیل پہاڑ پر چڑھ کر خودکشی کر لوں اور اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کروں لیکن جب میں کوشش کرتا میرے آگے جبرائیل آجاتے (نعوذبااللہؔ) یہ سب باتوں کی شروعات ابن اسحاق نے کیں۔ ●۔اس کتاب کے بقول پہلی وحی کے بعد حضرت خدیجہ سلام اللہ نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی اور ورقہ بن نوفل نے پورا واقعہ سننے کے بعد کہا کہ “ اس زات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے آپ نے جو کچھ مجھے بتایا اگر یہ سچ ہے تو آپ امت کے نبی ہے اور اس کو سننے کو بعد نبی پاک ﷺ کے دل پر جو بوجھ تھا وہ کسی حد تک کم ہوگیا “ یعنی حضرت موسی علیہ السلام سمیت ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی تسلی صرف خدا کی ذات نے فرمائی لیکن جب امام الانبیاء کا معاملہ آیا تو انہیں وحی کا اعتبار دلانے کے لئے ایک عیسائی مولوی یا پادری رہ گیا تھا؟ ●۔ ورقہ بن نوفل کو لیکر اس کتاب کے صفحہ نمبر # 84، 86, 124 اور 130 پر بے شمار واقعات درج ہے ۔ ●۔ اسی طرح زید بن عمرو بن نفیل کو جب قتل کر دیا گیا تو ورقہ بن نوفل نے اس کا مرثیہ پڑھا جب کہ نبی پاک ﷺ اس وقت مبعوث ہوچکے تھے اور ورقہ بن نوفل نبی پاک ﷺ پر ایمان لانے کے بجائے زید بن عمرو بن نفیل کا مرثیہ پڑھ رہا تھا ۔ ●۔ ورقہ بن نوفل کی بہن (بنی اسد کی عورت) اس کتاب کے صفحہ نمبر # 37 اور 38 میں ورقہ بن نوفل کی بہن (بنی اسد کی عورت) کے نام سے واقعہ لکھا گیا ہے کہ “ سید عبداللہؔ سلام اللہؔ علیہ نے سیدہ آمنہ سلام اللہؔ علیہہ کو رہائش کے لئے مکان مہیا کیا اور اس مکان میں عبداللہؔ سلام اللہؔ علیہ نے آمنہ سلام اللہؔ علیہہ کے ساتھ ہم بستری کی اور اس ہم بستری کے عمل نتیجے میں جناب نبی کریم ﷺ کا حمل ہوگیا پھر حضرت عبداللہؔ نے کچھ دن وہاں گزارے اور پھر اپنی قیام گاہ سے نکل کر اسی بنی اسد کی خاتون (ورقہ بن نوفل کی بہن) کے پاس گئے اور بیٹھ گئے اور فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ آج تمھارے اندر اس طرح کا رجحان نہیں ہے جیسا اس دن تھا تو بنی اسد کی خاتون (ورقہ بن نوفل کی بہن) نے جواب دیا کہ وہ وجہ ہی نہیں رہی جو میری طرف کا باعث تھی وہ وجہ جدا ہوگئی جو نور آپ کے ماتھے پر نظر آرہاتھا وہ آج نظر نہیں آرہا ہے” (نعوذ بااللہؔ) ۔ بنی اسد کی خاتون (ورقہ بن نوفل کی بہن) نے عربی کے اشعار میں حضرت عبداللہؔ سلام اللہؔ علیہ کو ٹکھراتے ہوئے میں یہ الفاط کہیں:- “ ترجمہ:- تم اب میرے پاس آئے ہو جبکہ جو تمھارے پاس تھا تم نے اس کو ضائع کر دیا تو مجھے اس پر قدرت حاصل نہ تھی وہ تم سے جدا ہو چکا ہے تم میرے پاس صبح بھرے ہوئے آئے تھے لیکن تم نے اسے وہاں دوسروں کے سپرد کر دیا اب تم ہی خود زمہ دار ہو آج مجھے پتا چل گیا ہے کہ اس کے ذریعے اللہؔ تعالی لوگوں کو عبادت گزاری کا راستہ بتائے گا “ (نعوذبااللہؔ من ذالک) اس بات کو تمام مستند رویات نے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ سلام اللہ علیہ اتنے پاک اور طیب تھے کہ حضرت عبدالمطلب نے انہیں بتوں پر قربان کرنا چاہا جسے اس وقت کے تمام بنو ہاشم اور قبیلہ قریش نے روکا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک قربانی کے عیوض بچائے گئے جبکہ امام الانبیاء کے والد گرامی کو 100 سرخ اونٹوں کے بدلے قربان ہونے سے بچایا گیا اور ابن اسحاق ایسی ہستی ان کی شادی کی رات کی باتیں اور سب سے بڑھ کر قبیلہ اسد کی ایک نامعلوم عورت کی بہتان طرازی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ذرا برابر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ حضرت عبداللہ سلام اللہ علیہ خود چل کر برے ارادہ سے عورت کے پاس گئے جس نے انہیں رد کر دیا۔ یہ واقعہ سراسر بہتان پر مبنی ہے اور نبی پاک ﷺکے طیب، طاہر والد حضرت عبداللہٍؔ سلام اللہ علیہ کی پاک دامنی پر ایک داغ ہے اور اس واقعہ میں جس طرح سے حضرت عبداللہؔ سلام اللہ علیہ اور حضرت آمنہ سلام اللہؔ علیہ کے حقوق زوجیت کو اس میں بیان کیا گیا ہے کہ شاید مفتی عاصم زبیر ہاشمی یا ابن اسحاق اپنے ماں باپ کے لئے ایسے الفاط استعمال نہ کریں۔ (سیرت ابن اسحاق (ترجمہ مفتی عاصم زبیر ہاشمی) کے تنقیدی جائزہ کا پہلا حصہ (پہلی قسط) کے مکمل ہونے پر میری تمام عالم اسلام اور اداروں سے گزارش ہے کہ اس کتاب پر ایکشن لیا جائے) جاری ہے۔۔۔ اورنگزیب خلجی مئی 2024

بشکریہ اردو کالمز