میں نے جتنا بھی الکتاب کو پڑھا ہے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
●۔ آدم علیہ السلام کے بیٹا نافرمان ہو گیا اور اپنے بھائی کو قتل کر کے جہنم کا حقدار بنا۔۔ اتنا ہی نہیں قیامت تک جو بھی انسان ناحق قتل ہو گا اس کے عذاب کے ایک حصے کا حقدار آدم علیہ السلام کا وہ بیٹا بھی ہو گا۔۔
● نوح علیہ السلام کا بیٹا اور بیوی نافرمان ہوئے اور عذاب سہنے والوں میں شامل ہوئے ۔ حتکہ جب نوح علیہ السلام نے اللہ سے فریاد کی تو اللہ کریم نے اپنے اولوالعزم نبی کی فریاد انتہائی سخت الفاظ میں رد کر دی ۔۔ اور نوح علیہ السلام کو اپنی اس سفارش پر معافی مانگنا پڑی۔۔
● ابراہیم علیہ السلام کے والد ان پر ایمان نہیں لائے۔۔ اور کفر پر فوت ہوئے ۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لئے دعا کی سفارش کی تو اللہ کریم نے ان پر سختی نہیں فرمائی بلکہ جب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کے والد اعلانیہ کفار کے باطل عقیدے پر قائم ہو گئے ہیں تو خود ہی ان سے بیزاری کا اعلان فرما دیا۔ آج بھی ہم نماز کے آخیر میں ابراہیم علیہ السلام کی وہی دعا پڑھتے ہیں جس میں انہوں نے اپنے وعدہ کے مطابق اپنے والدین کے لئے دعا فرمائی تھی۔
●۔ لوط علیہ السلام کی بیوی کفار میں شامل ہوئی۔اور مغضوب ٹھہری۔۔
● یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں کنوئیں میں پھینکا۔۔اور چند پیسوں کے عیوض اپنے بھائی کو بیچ دیا۔
لیکن دو ہستیوں کو میں نے مکمل قرآن میں انبیاء کرام کی کبھی بھی نافرمانی کرتے نہیں پڑھا نہ دیکھا۔۔ بلکہ ان کی تعریف ہی کی گئی۔۔
1۔ پہلی ہستی انبیاء کرام کی امہات ( مائیں)
2۔ دوسری ہستی انبیاء کرام کی بیٹیاں
میرے علم کے مطابق قرآن میں تین انبیاء کرام کی امہات ( والدہ گرامی ) کا تذکرہ ہے
● حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا ۔۔ جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہیں۔ان کی اپنے بیٹے کے لئے پریشانی اور بھاگ دوڑ اللہ کریم کو اتنی پسند آئی کہ تاقیامت اپنے پیارے نبی کریمﷺکی امت پر حج میں صفاء اور مروہ کی سعی رکھ دی۔ حالانکہ وہ نبی نہیں تھیں۔۔
● حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ جب اپنے بیٹے کے لئے پریشان ہوئیں تو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ انہیں وحی کر کے تسلی دی گئی۔ کہ آپ بچے کو دریا میں بہا دیں اس کے دودھ پینے کے وقت تک اسے واپس ماں کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔۔ حالانکہ موسی علیہ السلام کی والدہ نبی نہیں تھیں مگر ان کی پریشانی اور بے قراری اپنے بچے کے لئے اتنی بڑھی کہ رب کریم کو انہیں وحی کر کے دلاسہ دینا پڑا۔۔
● حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ جن کی پاکدامنی کی گواہی میں اللہ کریم کو اتنی تاخیر بھی پسند نہ آئی کہ عیسٰی علیہ السلام بولنے کی عمر تک پہنچ جائیں۔۔ ابھی وہ کوہ زیتون سے انہیں لے کر نیچے اتری ہی تھیں کہ پالنے سے اللہ کریم نے عیسٰی علیہ السلام سے گواہی دلوا کر نبی کی ماں کی پاکدامنی کی خاطر نظام قدرت کو تبدیل فرما دیا ۔۔اور مریم علیہ السلام سے جبرائیل امین ملے تاکہ انہیں اولاد کی خوشخبری دیں۔۔ جبکہ حضرت مریم سلام اللہ علیہا بھی نبی نہیں تھیں۔۔ جبکہ ہم اپنے نبی کریمﷺکے سفرمعراج کی انتہا پر یہ تصور کرتے ہیں کہ وہاں اللہ کا نہیں جبرائیل امین کی اصل حالت کا نظارہ ہوا اور ایک طبقہ اس مقام کو معراج سمجھتا ہے۔۔
انبیا کرام کی امہات کا پاکدامن ہونا اور اسقدر ہونا کہ فرشتے ان سے بات کریں جچتا ہے کہ انہوں نے انبیاء کرام کو پیدا کرنا ہے۔۔
لیکن کسی بھی نبی کی بیٹیاں کبھی بھی کسی نبی کے خلاف نہیں رہیں ۔۔ کیونکہ بیٹیوں میں قدرت نے باپ کے لئے ایک آسودگی اور اطاعت و محبت کا قدرتی جذبہ رکھا ہے۔۔ اور یہی جذبہ ایک بہن کا بھائی کے لئے ہوتا ہے۔۔اسی طرح قرآن مجید نے تین ہی بیٹیوں کا ذکر کیا ہے۔۔
● پہلی حضرت لوط علیہ السلام کی پاکدامن بیٹیاں جو آخر میں صرف لوط علیہ السلام کے ہمراہ اس مغضوب زمین سے نکلیں۔۔ اور ان کی پاکدامنی کی تعریف قرآن نے فرمائی جبکہ بائبل ان پر بد چلنی کا الزام لگاتی ہے۔۔
● دوسری حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیاں جو کنوئیں پر پانی بھرنے آئیں تھیں اور موسی علیہ السلام نے ان کی مدد فرمائی قرآن ان کی چال تک میں بھی پاکدامنی کا ذکر فرماتا ہے۔ کہ جب وہ چل کر آ رہی تھیں کہ موسی علیہ السلام کو اپنے والد صاحب سے اجرت دلوائیں تو ان کی چال میں احترام اور حیا تھی۔ " اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم و حیا سے ( نظریں جھکا کر) چلتی ہوئی آئی کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں" (القصص)
● اور تیسری حضرت موسی علیہ السلام کی بہن کا ذکر ہے کہ کیسے وہ اپنے نومولود بھائی کی نگرانی کرتے رہی تاکہ اس کی حفاظت بھی کرتی رہے اور فرعون کے گھر والوں کو موسی علیہ السلام کی والدہ کی طرف راغب بھی کر سکے کہ دودھ پلانے کو اسے واپس گھر بھیج دیا جائے۔۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آقا کریمﷺ نے اپنے لئے بیٹیاں چنیں کہ یہ باپ کے لئے تمام عمر خیر خواہ اور غیر متزلزل سہارا اور حمایت کا باعث ہوتی ہیں چاہے باپ کے ساتھ رہیں یا ان سے دور۔۔ اور یہی بات نبی کریمﷺکے سیرت پاک میں بیٹیوں کے کردار نے ثابت کیا۔۔ جب کفار آپ کریمﷺکی بے حرمتی کرتے تو بیٹیاں ان کو ڈانٹتی، غصہ کرتیں ۔۔ بابا کا چہرہ بھرے بازار میں صاف کرتیں اپنے دوپٹے سے ان کا خون صاف کرتیں چہرہ دھلاتیں اور خود بھی روتیں جاتیں کہ بابا اپنی پریشانی بھول کر بیٹیوں کی دلجوئی فرماتے۔۔ انبیا کرام کی بیٹیاں اپنے خاندانوں کے لئے بھی رحمت رہیں۔۔ کبھی دکھ کا باعث نہ بنیں۔۔ حتکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی بیٹی پاک نے اپنے غیر مسلم خاوند کو بھی بھرے مجمع میں پناہ دی تو کسی کی مجال نہ ہوئی کہ اس پناہ کو جھٹلاتا۔ اور حضرت ابوالعاص آرام سے مدینہ میں رہے۔۔ اس سے قبل وہ انھیں بطور جنگی قیدی رہا بھی کرا چکی تھیں۔اور جب آخری بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا رہ گئیں تو اپنے حصے کی روٹی اپنے خاوند کے گھر سے اپنے پلو میں لپیٹ کر لاتیں کہ بابا نے نامعلوم کھانا کھایا ہو گا یا نہیں۔۔ اور دونوں باپ بیٹی کھانا بھی کھاتے جاتے اور روتے بھی۔۔ باپ اپنی بیٹی کی شفقت پر نازاں ہوتے ہوئے اور بیٹی اپنے باپ پر فریفتہ ہوتے ہوئے۔۔۔
بیٹی آج بھی اپنی انہی روایات پر قائم ہے۔ اس میں خدا نے کسی بھی وقت بیٹا بن کر خاندان اور باپ کو سنبھالنے کی صلاحیت ودیعت کر دی ہے۔چاہے وہ لوط علیہ السلام کی بیٹوں کا باپ کا ساتھ دینا ہو یا موسی علیہ السلام کی بہن کا اپنے بھائی پر پہرا ہو یا شعیب علیہ السلام کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتی بیٹیاں ہو یا آقاﷺکی چٹان کی مانند اپنے والد گرامی کے ساتھ آخری سانس تک ڈٹی ہوئی شہزادیاں ۔ ۔ اور یہی شاید تاقیامت ان کی خو رہے گی۔۔۔ کہ یہ اللہ کریم نے بیٹی کی سرشت میں اطاعت رکھ دی ہے۔۔ نافرمانی تو ہم ماں باپ اسے اپنے رویوں سے سکھاتے ہیں۔۔
اسی لئے تو اللہ نے قرآن میں بیٹوں اور مال کو دنیا کی زینت قرار دیا۔"یہ مال اور بیٹے تو محض دنیا کی زندگی کی زینت ہیں" الکہف 46۔۔
بیٹی کا ذکر اس لئے نہیں۔۔۔کہ بیٹیاں دنیا کی زینت و نمائش کا سامان ہیں ہی نہیں ۔ یہ تو آپ کی پیٹھ پیچھے آپ کی عزت کی نگہبان اور آپ کی حمایت پر خاموشی سے کمر بستہ ہیں۔۔ اسی لئے رحمت ہیں
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب